منگل 22 ستمبر 2026 - 11:57
فقہ و تحقیق کا ایک روشن عہد اختتام پذیر ہوا، مگر اس کی روشنی باقی ہے

حوزہ/ملت تشیع نے ایک ایسے فقیہ، محقق، مدرس اور مرجعِ عالی قدر کو کھو دیا ہے جس کی تقریباً ایک صدی پر محیط زندگی علم و تقویٰ، تحقیق و تدبر، وقار و متانت اور دینی خدمت سے عبارت تھی۔

تحریر:مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی

حوزہ نیوز ایجنسی|

بسم الله الرحمٰن الرحیم

الَّذِينَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ طَيِّبِينَ ۙ يَقُولُونَ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ. (النحل: ۳۲)

کبھی کسی بزرگ کی رحلت محض ایک انسان کے دنیا سے اٹھ جانے کا نام نہیں ہوتی، بلکہ اس کے ساتھ ایک عہد رخصت ہوتا ہے، ایک علمی روایت کا روشن باب بند ہوتا ہے اور ایک ایسا منفرد مزاج ہماری نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے جس کی تشکیل میں کئی دہائیاں صرف ہوئی ہوتی ہیں۔ آیت اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانیؒ کی رحلت بھی اسی نوعیت کا سانحہ ہے۔ تشیع نے ایک ایسے فقیہ، محقق، مدرس اور مرجعِ عالی قدر کو کھو دیا ہے جس کی تقریباً ایک صدی پر محیط زندگی علم و تقویٰ، تحقیق و تدبر، وقار و متانت اور دینی خدمت سے عبارت تھی۔

ان کی شخصیت کسی ایک علمی شعبے تک محدود نہ تھی۔ فقہ و اصول میں گہری بصیرت، رجال و حدیث میں غیر معمولی دسترس، تاریخی مصادر سے واقفیت اور حوزوی روایت کی باریک نزاکتوں سے آگاہی نے ان کے علمی وجود کو ایک جامع صورت عطا کی تھی۔ انہوں نے اپنے عہد کے جلیل القدر علماء سے استفادہ کیا، حوزۂ علمیہ کے علمی ماحول میں طویل عرصہ تحقیق و تدریس کی اور پھر اپنی زندگی نئی نسلوں کی علمی تربیت کے لیے وقف کردی۔ ان کے درس سے گزرنے والے افراد محض مسائل کے طالب علم نہیں بنتے تھے، بلکہ تحقیق، احتیاط، استدلال اور علمی دیانت کی ایک روایت سے وابستہ ہوتے تھے۔

ان کے علم کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس میں شور نہیں، وزن تھا۔ وہ علم کو محض معلومات کا انبار نہیں سمجھتے تھے؛ ان کے نزدیک عالم کے لیے یہ بھی ضروری تھا کہ وہ کب گفتگو کرے، کہاں خاموش رہے، اختلاف کو کس اسلوب سے بیان کرے، کسی دعوے کو قبول کرنے سے پہلے کس قدر تحقیق کرے اور فتویٰ دیتے وقت اپنی ذمہ داری کا کتنا احساس رکھے۔ چنانچہ ان کی گفتگو میں احتیاط، اختلاف میں دلیل، تحقیق میں امانت اور علمی فیصلوں میں سنجیدگی نمایاں تھی۔

رجال و حدیث کے میدان میں ان کی گہری بصیرت نے انہیں شیعی علمی ورثے کا ایک معتبر امین بنا دیا تھا۔ راویوں کی شناخت، اسناد کی جانچ، علماء کے احوال اور حوزوی علمی تسلسل سے ان کی واقفیت محض ایک تحقیقی مہارت نہ تھی؛ یہ اس علمی امانت کی حفاظت تھی جو نسل در نسل منتقل ہوتی ہوئی ہم تک پہنچی ہے۔ ان کی یادداشت میں صرف کتابیں اور اسناد محفوظ نہ تھیں، بلکہ حوزات کی کئی نسلوں کی علمی تاریخ، بزرگ علماء کی صحبتیں اور ایک طویل فقہی روایت کے نقوش بھی محفوظ تھے۔

مرجعیت نے ان کے علم کو ذمہ داری کا ایک وسیع تر میدان عطا کیا۔ ان کے نزدیک مرجعیت محض ایک علمی مقام یا اجتماعی حیثیت نہیں، بلکہ لوگوں کے دینی سوالات، شرعی مسائل اور زندگی کی مشکلات کی ذمہ داری اٹھانے کا نام تھا۔ اسی لیے ان کے طرزِ مرجعیت میں نمود سے زیادہ خدمت، اظہار سے زیادہ ذمہ داری اور شخصی مقبولیت سے زیادہ دینی امانت کو اہمیت حاصل رہی۔ انہوں نے اپنی شخصیت کو مرکز بنانے کے بجائے علم اور دینی ذمہ داری کو مرکز رکھا۔

ایسے دور میں جب شہرت بسا اوقات مقصد بن جاتی ہے، ان کی زندگی خاموش خدمت کی ایک روشن مثال تھی۔ انہوں نے اپنی شناخت بلند دعووں سے نہیں، طویل تدریس سے بنائی؛ تشہیر سے نہیں، تحقیق سے؛ نعروں سے نہیں، شاگردوں سے؛ اور ظاہری نمود سے نہیں، اس علمی میراث سے جو ان کے بعد بھی باقی رہنی تھی۔ ان کی زندگی یہ بتاتی ہے کہ حقیقی علمی عظمت ہمیشہ بلند آواز میں ظاہر نہیں ہوتی؛ بعض اوقات دہائیوں تک خاموشی سے منتقل ہونے والا علم سب سے زیادہ دیرپا آواز بن جاتا ہے۔

ان کے مزاج کا ایک اور روشن پہلو اعتدال تھا۔ یہ ایسا اعتدال نہیں تھا جو اصولوں سے دست برداری کا نام ہو، بلکہ ایسا توازن تھا جس میں اصول مضبوط رہیں اور اختلاف اخلاق، انصاف اور حکمت کی حدود سے باہر نہ نکلے۔ فقہی اختلاف کو شخصی دشمنی میں بدلنا، فکری اختلاف کو تعلقات کے خاتمے کا سبب بنانا یا دینی وقار کو سیاسی شور کا محتاج سمجھنا ان کے مزاج کا حصہ نہیں تھا۔ وہ اصول کی پختگی اور اخلاق کی نرمی کو ایک دوسرے کی ضد نہیں، بلکہ تکمیل سمجھتے تھے۔

اسی وسیع علمی اور انسانی مزاج کے باعث مختلف فکری و سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ ان کے روابط بھی زیرِ بحث آتے رہے۔ بعض مواقع پر ان کی ملاقاتوں یا بعض فیصلوں کو مختلف زاویوں سے دیکھا گیا اور ان پر تنقید بھی ہوئی، لیکن ان کے طرزِ عمل کا نمایاں پہلو یہ تھا کہ وہ اختلاف کو انسان کی تحقیر میں تبدیل نہیں کرتے تھے۔ ان کے نزدیک علمی اختلاف اپنی جگہ قائم رہ سکتا تھا اور انسانی احترام اپنی جگہ۔ یہی وسعتِ نظر صاحبِ علم کو صاحبِ بصیرت بناتی ہے۔

حساس قومی و اجتماعی معاملات میں بھی ان کی علمی استقلال اور خیرخواہی کا پہلو سامنے آتا ہے۔ رہبرِ انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے ساتھ ان کے طویل روابط کے حوالے سے متعدد واقعات بیان کیے جاتے ہیں جن میں ان کی آرا اور مشاورت کا ذکر ملتا ہے۔ احمد منتظری سے منسوب ایک بیان میں ایک عدالتی حکم کے بارے میں ان کی مداخلت اور اس سلسلے میں اپنی رائے پہنچانے کا ذکر بھی آتا ہے۔ ان واقعات کی تفصیلات اپنے ماخذ کے ساتھ دیکھی جانی چاہئیں، تاہم اس باب میں ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے: ایک مرجع اپنی علمی و شرعی ذمہ داری کے احساس کے تحت اجتماعی معاملات میں خیرخواہانہ رائے پیش کرسکتا ہے، اور اختلاف کو نہ خوف میں بدلنا ضروری ہے، نہ دشمنی میں۔

ان کی رحلت نے اسی لیے صرف ایک منصب کا خلا پیدا نہیں کیا؛ یہ ایک طرزِ علم، ایک طرزِ تحقیق اور ایک طرزِ مرجعیت کا خلا ہے۔ حوزۂ علمیہ کے دروس جاری رہیں گے، فقہی مباحث آگے بڑھیں گے، کتابیں لکھی جائیں گی اور علماء اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے، لیکن ہر بزرگ اپنے ساتھ ایک منفرد علمی مزاج لے کر آتا ہے، جسے کسی عہدے یا عنوان کے ذریعے دوبارہ پیدا نہیں کیا جاسکتا۔

ان کی حقیقی میراث اسی منفرد مزاج میں پوشیدہ ہے: علم کے ساتھ وقار، اختلاف کے ساتھ اخلاق، فتویٰ کے ساتھ احتیاط، تحقیق کے ساتھ امانت اور مرجعیت کے ساتھ احساسِ ذمہ داری۔ انہوں نے اپنے عمل سے دکھایا کہ ایک عالم کی تاثیر ہمیشہ بلند آواز میں ظاہر نہیں ہوتی؛ کبھی ایک عمر کی خاموش تدریس ایسی نسل تیار کرتی ہے جو خود اپنے استاد کے علمی وجود کی گواہی بن جاتی ہے۔

آج ان کی رحلت اہلِ علم کو یہ یاد دلاتی ہے کہ علم صرف پڑھنے کا نام نہیں، اسے کردار میں ڈھالنا بھی ضروری ہے؛ تحقیق صرف حوالہ جمع کرنے کا نام نہیں، امانت کے ساتھ حق تک پہنچنے کی کوشش بھی ہے؛ اور اختلاف صرف اپنی رائے منوانے کا نام نہیں، بلکہ دلیل کے ساتھ دوسرے کے احترام کو باقی رکھنے کا ہنر بھی ہے۔ یہی وہ میراث ہے جو ایک عالم کو اپنی حیات سے آگے لے جاتی ہے۔

وہ ہاتھ جو برسوں کتابوں کے اوراق پلٹتے رہے، آج خاموش ہیں؛ مگر ان ہاتھوں سے روشن ہونے والی سطریں آنے والی نسلوں سے گفتگو کرتی رہیں گی۔ وہ زبان جو فقہ و اصول، رجال و حدیث کی باریکیوں کو بیان کرتی رہی، آج خاموش ہوگئی؛ مگر اس کی علمی بازگشت درسگاہوں میں سنائی دیتی رہے گی۔ وہ شخصیت جو شہرت سے دور رہ کر علم کی شمع روشن کرتی رہی، آج پردۂ حیات سے اوجھل ہے؛ مگر اس کی علمی میراث آنے والوں کے لیے فکر و بصیرت کا چراغ بنی رہے گی۔

خداوندِ متعال اس عظیم فقیہ، محقق، مدرس اور مرجعِ عالی قدر کو جوارِ محمد و آلِ محمد علیہم السلام میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی علمی و دینی خدمات کو شرفِ قبول بخشے، ان کے شاگردوں اور علمی سلسلے کو باقی و تابندہ رکھے، حوزاتِ علمیہ اور امتِ تشیع کو اس عظیم فقدان پر صبر و استقامت عطا فرمائے اور ہمیں ان کی علمی، اخلاقی اور دینی میراث کی قدر کرنے اور اسے آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

چراغِ علم بجھا، مگر روشنی باقی ہے۔

یہ وہ علم کے روشن چراغ ہیں جن کو

ہوا بجھاتی نہیں ہے، سلام کرتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha