اتوار 27 ستمبر 2026 - 19:36
شہید نصراللہ دنیا کے حریت پسندوں کے لیے مزاحمت کی علامت بن چکے ہیں: شیخ نعیم قاسم

حوزہ/ حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ شہید سید حسن نصراللہ حریت پسندوں کے لیے ایک علامت اور باعثِ تحریک بن چکے ہیں۔ ان کا جسم ہم سے جدا ہوچکا ہے، لیکن ان کی تعلیمات آج بھی ہمارے لیے عزم و حوصلے کا سرچشمہ ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ شہید سید حسن نصراللہ حریت پسندوں کے لیے ایک علامت اور باعثِ تحریک بن چکے ہیں۔ ان کا جسم ہم سے جدا ہوچکا ہے، لیکن ان کی تعلیمات آج بھی ہمارے لیے عزم و حوصلے کا سرچشمہ ہیں۔

بیروت کے علاقے ضاحیہ میں شہید سید حسن نصراللہ اور شہید سید ہاشم صفی الدین کی دوسری برسی کے موقع پر منعقدہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ شہید نصراللہ نے مضبوط اور مستحکم عوامی مزاحمت کی بنیاد رکھی۔ ہم محمدی و علوی راستے، امام خمینیؒ، رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای، امام موسیٰ صدر اور ولایت و جہاد کے راستے پر گامزن رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ شہید نصراللہ کی شخصیت اور تعلیمات ہمارے درمیان موجود ہیں اور ہمیں عزم و ارادے کے ساتھ آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہیں۔ انہوں نے مسئلہ فلسطین کو ہمیشہ اپنی جدوجہد کا محور قرار دیا اور فلسطین کا پرچم بلند رکھا۔ مسئلہ فلسطین آئندہ بھی ہماری رہنمائی کا مرکز رہے گا۔

شیخ نعیم قاسم نے شہید سید ہاشم صفی الدین کو بھی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی جہاد اور حزب اللہ کی خدمت سے عبارت تھی اور وہ شہید سید حسن نصراللہ کے قریبی ساتھی اور مددگار تھے۔ ان کی جدوجہد مزاحمت کے راستے میں چراغ کی مانند باقی رہے گی۔

انہوں نے شہداء کے اہل خانہ کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہوئے پیجر حملوں میں زخمی ہونے والوں کو ’’شہدائے زندہ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے اپنے زخموں کو مزاحمت اور جدوجہد میں تبدیل کرنے کی شاندار مثال قائم کی۔ انہوں نے مزاحمت کے شہداء اور زخمیوں کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا۔

حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ’’ہم اپنے عہد پر قائم ہیں‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ مزاحمت کا سفر جاری رہے گا۔ اگر کوئی کمانڈر شہید ہوتا ہے تو اس کی جگہ ایسا قائد آتا ہے جو اسی عہد اور راستے کو آگے بڑھاتا ہے۔

شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ مزاحمت کا مقصد لبنان کی سرزمین سے اسرائیلی قبضہ ختم کرنا اور مقبوضہ علاقوں کی مکمل آزادی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزاحمت نے اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کیا اور دشمن کو اپنے مقاصد حاصل کرنے سے روکا۔ ان کے مطابق مزاحمت نے لبنان میں اسرائیلی قبضے کو مستحکم ہونے اور نئی بستیوں کے قیام کی راہ بھی روکی۔

انہوں نے کہا کہ مزاحمت صرف جارحیت کے نتیجے میں وجود میں آئی اور اصل مسئلہ اسرائیلی جارحیت ہے۔ لبنان کی کسی بھی سرزمین سے دستبردار ہونا قابل قبول نہیں اور ملک کی خودمختاری و سالمیت کا تحفظ ضروری ہے۔

شیخ نعیم قاسم نے لبنان کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ جنگ سے متاثر افراد کی کو ہر طرح کی مدد فراہم کی جائے، انہوں نے کہا کہ حزب اللہ بھی اپنی استطاعت اور موصول ہونے والی امداد کے ذریعے متاثرہ خاندانوں کی آبادکاری اور تعمیرِ نو میں اپنا کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ حزب اللہ بہت جلد آبادکاری کے ایک منصوبے میں اپنی شرکت اور اس کی تفصیلات سے آگاہ کرے گی۔ انہوں نے لبنان کی معاشی مشکلات، مہنگائی، قومی کرنسی کی کمزوری اور بنیادی خدمات کی خراب صورتحال کا بھی ذکر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہتھیاروں کے مسئلے پر بات چیت کے لیے حزب اللہ تیار ہے، لیکن پہلے جنوبی لبنان کو آزاد کرایا جائے اور بے گھر افراد کو اپنے گھروں کو واپس جانے دیا جائے، اس کے بعد لبنانی خود اس مسئلے پر باہمی اتفاق پیدا کرسکتے ہیں۔

شیخ نعیم قاسم نے عالمی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ دنیا میں غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، موجودہ حالات نے عالمی انصاف اور بین الاقوامی قانون کی کمزوری کو ظاہر کردیا ہے۔

انہوں نے ایران کے عوام، سپاہ پاسداران، سکیورٹی فورسز، کمانڈروں اور دیگر ذمہ داران کی خدمات کو سراہتے ہوئے ایران کے لیے ترقی اور کامیابی کی دعا کی اور کہا کہ ایران آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں اپنی پیش رفت جاری رکھے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha