حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنان کے ممتاز جعفری مفتی شیخ احمد قبلان نے شہید حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ کی دوسری برسی کے موقع پر کہا ہے کہ شہید سید حسن نصراللہ کے نزدیک وطن محض زمین کا ایک ٹکڑا یا نقشے پر ایک تصویر نہیں، بلکہ قومی جدوجہد، سیاسی و سماجی انصاف، قومی فیصلے، مشترکہ مستقبل اور استحکام کا نام تھا۔
شیخ احمد قبلان نے اپنے پیغام میں لبنان کے صدر جوزف عون سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی لبنان پورے ملک کا مسئلہ ہے اور جنوب کو نظر انداز کرنا پورے لبنان کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ ان کے بقول، قومی حب الوطنی کا تقاضا ہے کہ جنوبی لبنان کے عوام کو درپیش مشکلات اور خطرات کو پورے ملک کا مشترکہ مسئلہ سمجھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ مزاحمت اس وقت دفاعی کردار کے طور پر سامنے آئی جب ریاست نے جنوب کے تحفظ کی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ ان کے مطابق اسرائیل کے مقابلے میں دفاع اور لبنان کو داخلی انتشار سے محفوظ رکھنا ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل ہیں، اس لیے بیروت کی سلامتی کو سرحدی علاقوں کی سلامتی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
شیخ قبلان نے مزید کہا کہ قومی سلامتی ریاست کی بنیاد ہے اور جنوبی لبنان پورے ملک کے لیے ایک آزمائش کی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے شہید سید حسن نصراللہ کے تصورِ وطن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک قومی قدر کا تعلق لبنان کے تمام علاقوں اور طبقات سے تھا، نہ کہ کسی مخصوص علاقے یا فرقے سے۔ اسی لیے جنوب یا شمال میں پیدا ہونے والا بحران پورے لبنان کا بحران سمجھا جانا چاہیے۔
شیخ قبلان نے کہا کہ شہید سید حسن نصراللہ قومی دفاع کو مضبوط ریاست، سماجی انصاف اور داخلی اتحاد سے جوڑتے تھے اور لبنان کو بیرونی سرپرستی اور داخلی انتشار سے محفوظ رکھنے پر زور دیتے تھے۔ ان کے مطابق قومی دفاع صرف سرحدوں کے تحفظ تک محدود نہیں، بلکہ سیاسی فیصلے، داخلی محاذ اور شہریوں کی بنیادی ضروریات کے تحفظ کو بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی لبنان کے شہریوں کو ریاست کی موجودگی صرف ٹیکس اور انتظامی امور کے ذریعے نہیں، بلکہ فوج، دفاع، اسکول، اسپتال، سڑک، عدلیہ، روزگار اور بنیادی خدمات کے ذریعے محسوس ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق جنوب کا تحفظ کسی پر احسان نہیں بلکہ شہریوں کا قومی حق ہے۔
شیخ احمد قبلان نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ قومی یکجہتی لبنان کی سب سے اہم دفاعی قوت ہے اور شہید سید حسن نصراللہ کی وصیت کا بنیادی مفہوم لبنان کے تحفظ، قومی اتحاد اور دفاعی صلاحیتوں کو برقرار رکھنا تھا۔










آپ کا تبصرہ