ہفتہ 10 اکتوبر 2026 - 15:48
حکومت کو اداروں کی جگہ نہیں لینی چاہیے اور نہ ہی بیرونی امداد کو اصلاحات کا متبادل بنانا چاہیے!

شیخ علی الخطیب کا خطبۂ جمعہ کے دوران لبنانی حکومت کی ناقص کارکردگی پر انتباہ؛

حکومت کو اداروں کی جگہ نہیں لینی چاہیے اور نہ ہی بیرونی امداد کو اصلاحات کا متبادل بنانا چاہیے!

جب سیاسی اتفاقِ رائے اداروں کی جگہ لے لے تو ریاست ’’قانون کی پابند ریاست‘‘ سے تبدیل ہو کر ’’سیاسی سمجھوتوں پر چلنے والی ریاست‘‘ بن جاتی ہے

حوزہ / مجلس اعلٰی اسلامی شیعیان لبنان کے نائب صدر نے حکومت کی ناکارکردگی اور قوانین کے انتخابی نفاذ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ سیاسی سمجھوتوں اور عارضی حل پر انحصار نہ صرف اقتصادی اور سکیورٹی بحرانوں کا حل نہیں ہے بلکہ اس سے عوامی اعتماد بھی مجروح ہوگا اور قومی ڈھانچہ بھی منہدم ہو سکتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلسِ اعلٰی اسلامی شیعیان لبنان کے نائب صدر شیخ علی الخطیب نے ایئرپورٹ روڈ پر واقع مجلسِ اعلٰی شیعیان کے مرکزی دفتر میں خطبۂ جمعہ دیتے ہوئے اپنی گفتگو کے آغاز میں کہا: لبنان کو اپنی سیاسی زندگی کے بنیادی شعبے میں ایک ناقص آئینی نظام کے مسئلے کا سامنا ہے۔ آج اصل چیلنج یہ ہے کہ آئین کی عبارتوں کو مؤثر اداروں میں، اداروں کو حکومت میں اور حکومت کو شہریوں کے حقیقی محافظ میں تبدیل کیا جائے۔

انہوں نے کہا: لبنان کے سامنے دو راستے ہیں؛ یا تو عارضی حل اور جوڑ توڑ کے ذریعے بحرانوں کا ہی سسٹم جاری رکھا جائے یا بحرانوں کے انتظام سے آگے بڑھ کر ریاست کی حقیقی تشکیل کی طرف قدم اٹھایا جائے۔ اگر کل جنگ ختم بھی ہو جائے، اسرائیلی افواج پسپائی اختیار کر لیں اور وہ براہِ راست مذاکرات بھی کامیاب ہو جائیں جن کی ہم نے حمایت نہیں کی، تب بھی لبنان خودبخود اپنی سابقہ حالت و سلامتی کی جانب واپس نہیں آ جائے گا۔

شیخ علی الخطیب نے موجودہ مشکل حالات میں اتحاد، یکجہتی اور سماجی ہمدردی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ حکومت عوام، بالخصوص بے گھر ہونے والے افراد اور اپنے علاقوں سے نقل مکانی کرنے والوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں اور فرائض سے بری الذمہ ہو جائے۔

انہوں نے لبنان کی سیاسی صورتِ حال کے بارے میں کہا: لبنان کے اس انتہائی پیچیدہ مرحلے میں واقعات کو صرف ایک زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ لبنان کو حکومتی بحران سے پہلے ریاست کی حقیقی حیثیت کے بحران کا سامنا ہے، مالی بحران سے پہلے اعتماد کا بحران ہے اور سرحدی بحران سے پہلے قومی خودمختاری کا بحران ہے۔

انہوں نے مزید کہا: اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم لبنان میں ایک مکمل آئین کے تحت زندگی گزار رہے ہیں یا ایسے آئین کے تحت جس کی صرف وہی شقیں نافذ کی جاتی ہیں جو طاقت کے توازن سے مطابقت رکھتی ہیں جبکہ باقی شقوں پر عمل درآمد مستقبل پر چھوڑ دیا جاتا ہے؟

مجلسِ اعلٰی اسلامی شیعیان لبنان کے نائب صدر نے کہا: لبنانی عوام ایک شفاف منصوبہ چاہتے ہیں۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ بینکوں میں جمع ان کی رقوم کا کیا بنے گا، بینکوں کی ازسرِنو تشکیل کیسے ہوگی، نقصانات کی تقسیم کس طرح کی جائے گی اور متوسط طبقے پر دباؤ ڈالے بغیر آمدنی میں اضافہ کیسے ممکن ہوگا۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے بھی ستمبر میں بینکاری اور مالیاتی اصلاحات کی تکمیل اور درمیانی مدت کے لیے ایک مالیاتی فریم ورک اپنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: ایک مکمل ریاست کا مطلب کسی خاص مذہبی فرقے، جماعت یا علاقے کے خلاف قائم ہونے والی حکومت نہیں، بلکہ ایسی ریاست ہے جو سب سے بالاتر ہو، سب کی حمایت کرے، سب کو جوابدہ بنائے اور خود بھی قانون کے تابع ہو۔ حکومت کو اداروں کی جگہ نہیں لینی چاہیے اور نہ ہی بیرونی امداد کو اصلاحات کا متبادل بنانا چاہیے۔

انہوں نے کہا: لبنان کو اپنی سیاسی زندگی کے بنیادی شعبے میں ’’ناقص آئین‘‘ کے مسئلے کا سامنا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملک میں آئین موجود نہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آئین کی بعض شقیں ایک مستحکم طریقۂ کار کی شکل اختیار کر چکی ہیں جبکہ بعض دیگر شقوں پر سیاسی سمجھوتوں کے باعث عمل درآمد مستقبل پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہی اصل تضاد ہے کہ آئین کو اعلیٰ ترین مقام حاصل ہونا چاہیے جو سیاسی زندگی کو منظم کرے لیکن لبنان میں بعض اوقات سیاسی اور فرقہ وارانہ طاقت کا توازن یہ طے کرنے لگتا ہے کہ آئین پر کس حد تک عمل کیا جائے۔ اس صورتِ حال سے ایک اور زیادہ خطرناک مسئلہ جنم لیتا ہے کہ "جب سیاسی اتفاقِ رائے اداروں کی جگہ لے لے تو ریاست ’’قانون کی پابند ریاست‘‘ سے تبدیل ہو کر ’’سیاسی سمجھوتوں پر چلنے والی ریاست‘‘ بن جاتی ہے"۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha