جمعرات 1 اکتوبر 2026 - 19:50
دینِ اسلام اور مکتبِ اہل بیت (ع)؛ نورِ ہدایت اور چشمۂ معرفت

حوزہ / دینِ اسلام محض  ظاہری احکامات کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ انسان کی روح کی معراج، اخلاق کی بلندی اور عقل و شعور کی بیداری کا ایک مکمل نظام ہے۔

خانم پارسا بتول، جامعۃ خدیجۃ الکبریٰ لاڑکانہ

حوزہ نیوز ایجنسی | شیعہ نقطۂ نظر کے مطابق، قرآن اور اہل بیت علیہم السلام کو کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن، صامت (خاموش قرآن) ہے اور اہل بیت، ناطق (بولتا ہوا قرآن) ہیں۔

مقدمہ

دینِ اسلام محض ظاہری احکامات کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ انسان کی روح کی معراج، اخلاق کی بلندی اور عقل و شعور کی بیداری کا ایک مکمل نظام ہے۔ اس طویل اور روشن سفرِ ہدایت میں، اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی رہنمائی کے لیے قرآنِ مجید کے ساتھ ساتھ ایسی ہستیوں کا انتخاب فرمایا جو خود مجسمِ قرآن اور سیرتِ نبوی کا عملی نمونہ تھیں۔

مکتبِ تشیع کے مطابق، رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد دین کی حقیقی روح، اس کی تشریح اور امت کی فکری و عملی قیادت کی ذمہ داری اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کے سپرد کی گئی ہے۔

آئیے اس دلنشین اور پُراثر تحریر میں جانتے ہیں کہ اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کیا ہیں اور کتبِ معتبرہ کے حوالے سے اس کا کیا مقام ہے۔

1. قرآن اور عترت: حبلِ متین (مضبوط رسی)

اسلام کی بنیاد جس پر استوار ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ تاریخی ارشاد ہے جو تاریخ کی تمام معتبر کتب میں متواتر طور پر موجود ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "إنّي تارك فيكم الثقلين: كتاب الله وعترتي أهل بيتي، ما إن تمسكتم بهما لن تضلوا بعدي..."

ترجمہ: "میں تم میں دو گراں قدر چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں: اللہ کی کتاب اور میری عِترت، میرے اہل بیت۔ جب تک تم ان دونوں سے وابستہ رہو گے، میرے بعد ہرگز گمراہ نہیں ہوگے۔"

شیعہ نقطۂ نظر کے مطابق، قرآن اور اہل بیت کو کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن، صامت (خاموش قرآن) ہے اور اہل بیت، ناطق (بولتا ہوا قرآن) ہیں۔

2.علم و حکمت کا سرچشمہ: بابُ المدینۃ

اسلام نے علم حاصل کرنے پر جتنا زور دیا ہے، اس کی نظیر کسی اور مذہب میں نہیں ملتی۔ مکتبِ اہل بیت میں علم کو عبادت کا درجہ حاصل ہے۔ مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا ارشادِ گرامی نہج البلاغہ کی زینت ہے: "سلوني قبل أن تفقدوني، فلو شئت لأخبرتكم ببروج السماوات..." (نہج البلاغہ، خطبہ ۱۴۷):

ترجمہ: "مجھ سے پوچھ لو قبل اس کے کہ تم مجھے نہ پاؤ، خدا کی قسم! اگر تم مجھ سے آسمان کے راستوں اور زمین کے اسرار کے بارے میں بھی پوچھو گے تو میں تمہیں بتا دوں گا۔"

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کے مقام کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: "أنا مدينة العلم وعلي بابها"

(میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں)۔

اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کا محور یہ ہے کہ انسان جہالت کے اندھیروں سے نکل کر علم و بصیرت کے نور میں زندگی بسر کرے۔

3. اخلاقِ حسنہ اور تزکیۂ نفس

اہل بیت علیہم السلام کی سیرت کا سب سے روشن پہلو ان کا اعلیٰ ترین اخلاق، عفو و درگزر، اور غریبوں و محتاجوں کی خبر گیری ہے۔ قرآن مجید سورۂ دہر (سورۂ انسان) میں اہل بیت علیہم السلام کی اسی سخاوت اور ایثار کا ذکر کرتا ہے جب انہوں نے مسلسل تین دن تک خود روزہ رکھنے کے باوجود اپنا کھانا مسکین، ییتیم اور قیدی کو کھلا دیا تھا: "وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا۔ إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا"

ترجمہ: "اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔ (اور کہتے ہیں:) ہم تو تمہیں صرف اللہ کی رضا کے لیے کھللاتے ہیں، ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔"(سورۂ انسان، آیت ۸-۹)

یہ کردار ہمیں درس دیتاہے کہ اسلام محض عبادت کا نام نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت اور اخلاقِ کریمانہ کا نام ہے۔

4. مظلوم کی حمایت اور عدل و انصاف کا قیام

مکتبِ اہل بیت (ع) کا سب سے بڑا انقلابی پیغام ظلم کے خلاف ڈٹ جانا اور عدل کا قیام ہے۔ واقعہ کربلا اس نظریے کی سب سے تابناک مثال ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے یزید کی بیعت سے انکار کر کے یہ واضح کر دیا کہ دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بقا کے لیے ظلم کے سامنے جھکنا جائز نہیں: "إنّي لا أرى الموت إلا سعادة، والحيام مع الظالمين إلا برما" (تحف العقول، صفحہ ۲۴۵)

ترجمہ: "میں موت کو سعادت اور ظالموں کے ساتھ جینے کو ذلت و عار سمجھتا ہوں۔"

امام حسین علیہ السلام اور دیگر ائمہ علیہم السلام کی تعلیمات ہمیں سکھاتی ہیں کہ معاشرے میں عدل و انصاف کے قیام کے لیے ہمیشہ حق کا ساتھ دینا چاہیے، خواہ حالات کتنے ہی سازگار یا ناسازگار ہوں۔

نتیجہ

دینِ اسلام کی حقیقی روح کو سمجھنے کے لیے اہل بیتِ اطہار علیہم السلام کی سیرت ایک ایسا چراغ ہے جو کبھی مدھم نہیں ہوتا۔ ان ہستیوں کا دامن تھامنا ہی صراطِ مستقیم پر گامزن رہنے کی ضمانت ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha