بدھ 7 اکتوبر 2026 - 18:13
فلسطین میں تین برس کے دوران 22 ہزار سے زائد اسکولی بچے اور طلبہ شہید

حوزہ/ فلسطین کی وزارتِ تعلیم نے بتایا ہے کہ گزشتہ تین برس کے دوران غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 22 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات شہید اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔ اس دوران اساتذہ اور تعلیمی کارکن بھی شہید ہوئے جبکہ بڑی تعداد میں اسکول اور یونیورسٹیاں تباہ ہوئیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فلسطین کی وزارتِ تعلیم نے بتایا ہے کہ گزشتہ تین برس کے دوران غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 22 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات شہید اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔ اس دوران اساتذہ اور تعلیمی کارکن بھی شہید ہوئے جبکہ بڑی تعداد میں اسکول اور یونیورسٹیاں تباہ ہوئیں۔

وزارتِ تعلیم کی رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے 7 اکتوبر 2026 تک غزہ میں 19 ہزار 189 سے زائد اسکولی بچے اور ایک ہزار 386 یونیورسٹی طلبہ شہید ہوئے۔ اس کے علاوہ 28 ہزار 586 اسکولی طلبہ اور 3 ہزار 822 یونیورسٹی طلبہ زخمی ہوئے۔

مغربی کنارے میں بھی 134 اسکولی طلبہ اور 39 یونیورسٹی طلبہ شہید ہوئے، جبکہ ایک ہزار سے زائد طلبہ زخمی اور سیکڑوں گرفتار کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ میں 805 اسکول ملازمین اور 246 یونیورسٹی اساتذہ و کارکنان بھی شہید ہوئے۔ ہزاروں تعلیمی کارکن زخمی ہوئے جبکہ مغربی کنارے میں بھی متعدد اساتذہ اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔

اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ کے 179 سے زائد سرکاری اسکول مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔ انروا کے 105 سے زائد اسکول بھی حملوں کا نشانہ بنے، جبکہ 63 سے زائد یونیورسٹی عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوئیں۔

اس تباہی کے باوجود فلسطینی وزارتِ تعلیم نے غزہ میں تعلیم جاری رکھنے کے لیے 700 تعلیمی مراکز قائم کیے ہیں۔ طلبہ کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے 12 آن لائن اسکول بھی بنائے گئے ہیں۔

وزارتِ تعلیم کے مطابق مغربی کنارے اور مقبوضہ قدس میں بھی اسکولوں کی بندش، اساتذہ کی گرفتاری اور یونیورسٹیوں پر چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha