جمعہ 23 اکتوبر 2026 - 13:06
حضرت زینبؑ کی سیرت؛ صبر، شجاعت اور حق گوئی کی مثال: مولانا سید مہدی عباس زیدی

حوزہ/ بجنور کے گاؤں چھجپورہ سادات میں واقع جامع مسجد ابوطالب (ع) میں امام جمعہ مولانا سید مہدی عباس زیدی نے جمعہ کے خطبے میں حضرت زینبؑ کی سیرت بیان کرتے ہوئے کہا کہ صبر کمزوری نہیں، بلکہ حق پر ڈٹے رہنے کی طاقت ہے۔ نوجوانوں کو حضرت زینبؑ کی سیرت سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی کے مطابق، بجنور کے گاؤں چھجپورہ سادات میں واقع جامع مسجد ابوطالب (ع) میں امام جمعہ مولانا سید مہدی عباس زیدی نے جمعہ کے خطبے میں حضرت زینبؑ کی سیرت بیان کرتے ہوئے کہا کہ صبر کمزوری نہیں، بلکہ حق پر ڈٹے رہنے کی طاقت ہے۔ نوجوانوں کو حضرت زینبؑ کی سیرت سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔

مولانا سید مہدی عباس زیدی نے کہا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے خطبے کے ذریعے ظلم و زیادتی کے خلاف حق کی ایسی آواز بلند کی جس نے ظالموں کے پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا۔ انہوں نے اپنے کردار، صبر، بصیرت اور استقامت سے ثابت کیا کہ قید اور مشکلات کے ذریعے حق کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔

انہوں نے حضرت زینبؑ کے خطبے کے ایک اہم جملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "کیا تم روتے ہو؟ ہاں، خدا کی قسم! خوب روؤ اور کم ہنسو، کیونکہ تم اپنے دامن پر ایسی رسوائی اور بدنامی کا داغ لگا چکے ہو جسے کبھی دھو نہیں سکتے۔"

چھجپورہ کے امام جمعہ نے کہا کہ حضرت زینبؑ نے اپنے خطبے کے ذریعے لوگوں کو ان کے کردار اور اعمال کی حقیقت کا احساس دلایا۔ آپ نے ظلم کی حقیقت کو اس انداز میں اجاگر کیا کہ لوگ شرمندگی اور ندامت کے آنسو بہانے پر مجبور ہو گئے۔ آپ کا کردار آج بھی حق پسند لوگوں کے لیے مثال ہے۔

مولانا نے کہا کہ حضرت زینبؑ کے اندر یہ حوصلہ، جذبہ اور استقامت صبر، ایمان، یقین اور اپنے مقصد سے اٹوٹ وابستگی کی وجہ سے تھی۔ آپ نے مصیبتیں اور قید کی سختیاں برداشت کیں، لیکن حق بیان کرنے سے پیچھے نہیں ہٹیں۔ اپنے کردار کی عظمت اور مقصد کی حقانیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔

امام جمعہ سید مہدی عباس زیدی نے کہا کہ معاشرے میں اکثر صبر کو کمزوری سمجھ لیا جاتا ہے، جبکہ صبر کمزوری نہیں، بلکہ طاقت، ہمت اور استقامت کا نام ہے۔ کمزوری انسان کو حق سے دور کرتی ہے، جبکہ صبر اسے اپنے مقصد پر قائم رہنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ حضرت زینبؑ نے اپنے کردار سے ثابت کیا کہ مومن کی اصل طاقت اس کے ظاہری حالات میں نہیں، بلکہ اس کے ایمان، یقین اور پاکیزہ مقصد میں ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج سیرتِ زینبیؑ کو صرف خواتین تک محدود کر دیا گیا ہے، جبکہ حضرت زینبؑ کی سیرت معاشرے کے ہر طبقے، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے بھی ضروری ہے۔ آج کے نوجوانوں کو فکرِ زینبؑ، بصیرتِ زینبؑ اور کردارِ زینبیؑ کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔

مولانا سید مہدی عباس زیدی نے کہا کہ حضرت زینبؑ نے دشمن کے پروپیگنڈے کو سمجھ کر اس کی حقیقت اجاگر کی۔ آج کے نوجوانوں کو بھی دشمن کے پروپیگنڈے کا شکار ہونے سے بچنا چاہیے اور حالات کا جائزہ بصیرت کے ساتھ لینا چاہیے۔ صبر کے نام پر بزدلی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ صبر انسان کو بہادر بناتا ہے، بزدل نہیں۔ جہاں موقع ملے، حقیقت سامنے لانی چاہیے اور ظلم و ناانصافی کو بے نقاب کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ حق کے راستے میں قید، سختیاں اور مشکلات آ سکتی ہیں، لیکن ان حالات سے گھبرا کر اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔ انسان کو ظاہری مشکلات سے متاثر ہو کر گھر بیٹھنے کے بجائے استقامت کے ساتھ اپنے موقف پر ڈٹے رہنا چاہیے۔

چھجوپورہ کے امام جمعہ نے کہا کہ موجودہ دور میں خاص طور پر نوجوانوں کو حضرت زینبؑ کی سیرت سے صبر، بصیرت، حوصلے اور حق گوئی کا سبق لینا چاہیے اور ہر حال میں حق اور سچائی کا ساتھ دیتے ہوئے اپنے مقصد پر قائم رہنا چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha