حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عراق کے علماء کی تنظیم نے اپنے بیان میں کویت میں شیعہ شہریوں کو مذہبی بنیادوں پر نشانہ بنانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ ایسے اقدامات شہری، سیاسی اور مذہبی حقوق کی خلاف ورزی کے ساتھ معاشرتی اتحاد اور قومی استحکام کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
تنظیم نے کہا کہ کسی شہری کو اس کے مذہبی عقیدے کی بنیاد پر نشانہ بنانا انصاف اور مساوات کے اصولوں کے خلاف ہے۔ شیعہ ہونا کوئی جرم نہیں، اہل بیت علیہم السلام سے وفاداری قابلِ سزا نہیں اور قانونی حقوق کا مطالبہ کرنا قانون شکنی نہیں ہے۔
بیان میں کویتی حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ من مانی گرفتاریوں اور بے بنیاد الزامات کا سلسلہ بند کیا جائے، زیر حراست افراد کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور جن کے خلاف منصفانہ عدالتی کارروائی میں جرم ثابت نہ ہو، انہیں آزاد کیا جائے۔ تنظیم نے مذہبی بنیادوں پر تشدد اور بدسلوکی کے سنگین نتائج سے بھی خبردار کیا۔
عراق کے علماء کی تنظیم نے کویت کے دفاع میں شیعہ شہریوں کی قربانیوں اور خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے دفاع اور صدام کے حملے کے وقت وطن کے ساتھ کھڑے ہونے میں ان کا اہم کردار رہا ہے۔
تنظیم نے مسلم علمائے کرام، دینی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ مظلوموں کی حمایت اور مذہبی امتیاز و ظلم کے خلاف اپنی شرعی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ادا کریں۔
بیان کے آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی گئی کہ وہ کویت اور دیگر مسلم ممالک میں شیعوں کی حفاظت فرمائے، مظلوموں کو ظلم سے نجات دے اور معاشرے میں عدل و انصاف قائم کرے۔










آپ کا تبصرہ