حوزہ نیوز ایجنسی| مخالفین تشیع بعض صحابہ کی جانب سے حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کے گھر پر حملے اور آپ کی توہین، دروازے پر آگ لگانے اور آپ سلام اللہ علیہا کو زخمی کرنے کا انکار کرتے ہوئے شبہہ پیدا کرتے ہیں کہ جب حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر پر حملے کے دوران حضرت علی علیہ السلام کیوں خاموش رہے اور اپنی شریک حیات کا دفاع کیوں نہیں کیا؟ حضرت زہراء کے بجائے حضرت علی علیہ السّلام خود حملہ آوروں کے سامنے کیوں نہیں آئے؟
مخالفین کا کہنا ہے کہ اگر یہ واقعہ رونما ہوتا تو ضرور حضرت علی )ع( کی جانب سے ردعمل آتا اور حملہ آوروں کے خلاف آپ )ع( تلوار ہاتھ میں لیتے ۔ ہم اس مقالے میں اس شبہے کا جواب خود حضرت علی کی زبانی نہج البلاغہ اور دیگر معتبر کتب حدیث سے پیش کریں گے۔
اس بات سے کوئی بھی مسلمان انکار نہیں کرتا کہ دین کی حفاظت کرنا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، امام علی علیہ السلام اور اہل بیت طاہرین علیہم الصلوۃ والسلام کی ذمہ داری ہے۔ جس کی خاطر انہوں نے اپنی جان اور مال کو قربان کیا ہے۔ اسلام کو بچانے کیلئے خاموشی اختیار کرتے ہیں، صبر کرتے ہیں حتی اپنی جان اور اپنے بچوں کو اسلام پر قربان کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے ہمیں سمجھنے اور اس سے متعلق غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ لہذا جب حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر پر حملہ کیا گیا تو امام علی )ع( نے صرف دین اسلام کو بچانے کیلئے صبر اور خاموشی سے کام لیا، وگرنہ علی جیسے بہادر اور شجاع مرد کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا تھا۔ حضرت علی )ع( خطبہ شقشقیہ میں دکھ اور درد بھرے لہجے میں اپنی خاموشی کی وجہ اس طرح بیان کرتے ہیں:وَ طَفِقْتُ اَرْتَئِیْ بَیْنَ اَنْ اَصُوْلَ بِیَدٍ جَذَّآءَ، اَوْ اَصْبِرَ عَلٰى طَخْیَةٍ عَمْیَآءَ، یَهْرَمُ فِیْهَا الْكَبِیْرُ، وَ یَشِیْبُ فِیْهَا الصَّغِیْرُ، وَ یَكْدَحُ فِیْهَا مُؤْمِنٌ حَتّٰى یَلْقٰى رَبَّهٗ. فَرَاَیْتُ اَنَّ الصَّبْرَ عَلٰى هَاتَاۤ اَحْجٰى، فَصَبَرتُ وَ فِی الْعَیْنِ قَذًى،وَ فِی الْحَلْقِ شَجًا، اَرٰى تُرَاثِیْ نَهْبًا۔ (1)
ترجمہ: اور سوچنا شروع کیا کہ اپنے کٹے ہوئے ہاتھوں سے حملہ کروں یا اس سے بھیانک تیرگی پر صبر کر لوں، جس میں سن رسیدہ بالکل ضعیف اور بچہ بوڑھا ہو جاتا ہے اور مومن اس میں جدوجہد کرتا ہوا اپنے پروردگار کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ مجھے اس اندھیر پر صبر ہی قرینِ عقل نظر آیا۔ لہٰذا میں نے صبر کیا، اور جیسے میری آنکھ میں کانٹا ہو اور گلے میں ہڈی پھنسی ہو۔ میں اپنی میراث کو لٹتے دیکھ رہا تھا۔
حضرت علی علیہ السلام کا صبر اور خاموشی پیغمبر اکرم کے حکم کے مطابق تھا۔ جیسا کہ احمد بن حنبل نے حضرت علی سے روایت نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیغمبر اکرم نے مجھے فرمایا : سيكون بعدي إختلاف أو أمر فإن إستطعت أن تكون السلم فإفعل(2)۔ ترجمہ : عنقریب میرے بعد اختلاف ہوگا اگر آپ کے لئے پرامن رہنا ممکن ہو تو ایسا ہی کرنا۔
اگر حضرت علی علیہ السلام صبر کرنے کی بجائے شمشیر اٹھاتے تو اسلام کو خطرہ تھا۔ بہت سے افراد جو تازہ مسلمان ہوئے تھے وہ دوبارہ اپنے پہلے مذہب کی جانب پلٹ جاتے، بہت سارے قبائل اور اقوام جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ سلم کی عمر کے آخری حصہ یعنی آپ کی وفات سے کچھ مدت قبل ہی اسلام قبول کرچکے تھے اور اسلامی تعلیمات سے مکمل طور پر آگاہ نہیں تھے۔ وہ مرتد ہوکر بت پرستی کی طرف لوٹ جاتے اور اسلامی حکومت کی مخالفت کرتے۔ امام علی علیہ السلام نے اس فتنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ : أَلَا وَ إِنَّ بَلِيَّتَكُمْ قَدْ عَادَتْ كَهَيْئَتِهَا يَوْمَ بَعَثَ اللَّهُ نَبِيَّهُ ( صلى الله عليه وآله ) (3)۔ترجمہ: تمہیں جاننا چاہیے کہ تمہارے لیے وہی ابتلا اور آزمائش آج پھر پلٹ آئی ہے جو رسول کی بعثت کے وقت تھی۔ اس کے علاوہ رومیوں کی جانب سے مسلمانوں پر حملے کا خطرہ بھی موجود تھا کیونکہ مسلمان کئی بار ان سے لڑچکے تھے۔ وہ مسلمانوں کو اپنے لئے خطرہ سمجھتے تھے اور موقع کی تلاش میں تھے کہ کسی طرح اسلام کے مرکز پر حملہ کرسکیں۔
دوسری جانب نبوت کا جھوٹا دعوی کرنے والے جیسے )مسیلمہ کذاب، طلیحہ و سجا(بھی مدینے پر حملے کی نیت سے اپنے طرفداروں اور طاقت کو جمع کرچکے تھے جو کہ مسلمانوں کے اتحاد کی وجہ سے ناکام ہوگئے۔ ایسی شرائط میں حضرت علی علیہ السلام صرف دین کی حفاظت اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد و وحدت کے علاوہ کسی اور چیز کے بارے میں سوچتے نہیں تھے۔ اسی لئے نہج البلاغہ میں لکھتے ہیں :
فَوَ اللَّهِ مَا کَانَ یلْقَی فِی رُوعِی، وَلَا یخْطُرُ بِبَالِی، أَنَّ الْعَرَبَ تُزْعِجُ هذَا الْأَمْرَ مِنْ بَعْدِهِ صلی الله علیه وآله وسلم عَنْ أَهْلِ بَیتِهِ، وَلَا أَنَّهُمْ مُنَحُّوهُ عَنِّی مِنْ بَعْدِهِ! فَمَا رَاعَنِی إِلَّا انْثِیالُ النَّاسِ عَلَی فُلَانٍ یبَایعُونَهُ، فَأَمْسَکْتُ یدِی حَتَّی رَأَیتُ رَاجِعَةَ النَّاسِ قَدْ رَجَعَتْ عَنِ الْإِسْلَامِ، یدْعُونَ إِلَی مَحْقِ دِینِ مُحَمَّدٍ - صَلَّی اللَّهُ عَلَیهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - فَخَشِیتُ إِنْ لَمْ أَنْصُرِ الْإِسْلَامَ وَأَهْلَهُ أَنْ أَرَی فِیهِ ثَلْماً أَوْ هَدْماً، تَکُونُ الْمُصِیبَةُ بِهِ عَلَی أَعْظَمَ مِنْ فَوْتِ وِلَایتِکُمُ الَّتِی إِنَّمَا هِی مَتَاعُ أَیامٍ قَلَائِلَ، یزُولُ مِنْهَا مَا کَانَ، کَمَا یزُولُ السَّرَابُ، أَوْ کَمَا یتَقَشَّعُ السَّحَابُ؛ فَنَهَضْتُ فِی تِلْکَ الْأَحْدَاثِ حَتَّی زَاحَ الْبَاطِلُ وَزَهَقَ، وَاطْمَأَنَّ الدِّینُ وَتَنَهْنَهَ(4)۔
ترجمہ: اس موقع پر بخدا کبھی مجھے یہ تصور بھی نہیں ہوا تھا اور میرے دل میں یہ خیال گزرا تھا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد عرب خلافت کا رخ ان کے اہل بیت سے موڑ دیں گے اور نہ یہ کہ ان کے بعد اسے مجھ سے ہٹا دیں گے۔ مگر ایک دم میرے سامنے یہ منظر آیا کہ لوگ فلاں شخص کے ہاتھ پر بیعت کرنے کیلئے دوڑ پڑے۔ ان حالات میں میں نے دیکھا کہ مرتد ہونے والے اسلام سے مرتد ہو کر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دین کو مٹا ڈالنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ اب میں ڈرا کہ کوئی رخنہ یا خرابی دیکھتے ہوئے میں اسلام اور اہل اسلام کی مدد نہ کروں گا تو یہ میرے لئے اس سے بڑھ کر مصیبت ہوگی جتنی یہ مصیبت کی تمہاری یہ حکومت میرے ہاتھ سے چلی جائے جو تھوڑے دنوں کا اثاثہ ہے۔ اس میں ہر چیز زائل ہوجائے گی اس طرح جیسے سراب بے حقیقت ثابت ہوتا ہے یا جس طرح بدلی چھٹ جاتی ہے۔ چنانچہ میں ان بدعتوں کے ہجوم میں اٹھ کھڑا ہوا۔ یہاں تک کہ باطل دب کر فنا ہوگیا اور دین محفوظ ہوکر تباہی سے بچ گیا۔
حضرت علی علیہ السلام کے کلام سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ آپ نے خلافت کے غصب کرنے اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر پر حملے کے دوران جنگ کرنے کے بجائے خاموشی اور صبر سے کام لیا۔ اور یہ صرف اور صرف اسلام اور دین محمدی کو بچانے کی خاطر تھا۔
البتہ ہماری بعض روایات کے مطابق ان کا سامنا کیا اور فرمایا: اگر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وصیت نہ ہوتی تو میرے گھر کے قریب آنے کی جرات نہیں کرسکتے تھے۔ فوثب علي (ع) فأخذ بتلابيبه، ثم نتره فصرعه ووجأ أنفه ورقبته وهمّ بقتله، فذكر قول رسول الله(ص) وما أوصاه به، فقال: والذي كرّم محمد (ص) بالنّبوة، لولا كتاب من الله سبق وعهد عهده إلى رسول الله (ص) لعلمت إنك لا تدخل بيتي۔(5) ترجمہ : حضرت علی حملہ کرنے والے پر ٹوٹ پڑے، اس کی گردن کو دبوچا اور زمین پر پٹخ دیا ،اس کی ناک اور گردن کو زخمی کر دیا اور قتل کرنے کا ارادہ کیا کہ رسول اکرم کی وصیت یاد آگئی اور فرمایا: اللہ کی قسم جس نے حضرت محمد کو نبی بنایا ،اگر اللہ اور اس کے رسول کا عھد و پیمان نہ ہوتا تو تم جان لیتے کہ میرے گھر میں کیسے داخل ہوتے۔
اگر حضرت علی )ع( صبر کرنے کے بجائے تلوار اٹھاتے تو دین اسلام کو نقصان ہوتا۔ کیونکہ اسلام دنیا بھر میں پھیل رہا تھا اور دیگر مذاہب کے لوگ اسلام قبول کررہے تھے ۔ جبکہ تازہ مسلمان ہونے والے ابھی صحیح طرح اسلامی تعلیمات سے آشنا نہیں ہوئے تھے۔ اور ساتھ حضرت علی کو پیغمبر اکرم کی نصیحت بھی تھی کہ ایسے موقع پر صبر کرنا ۔ امام کی ذمہ داری اپنی ذات یا ذاتی جائیداد بچانا نہیں بلکہ دین بچانا ہے۔ جیسے کہ امام حسین علیہ السلام نے کربلا کے میدان میں اپنے سارے خاندان اور اصحاب کو قربان کرکے دین بچایا، امام حسن علیہ السلام نے معاویہ کے ساتھ صلح کرکے دین کی حفاظت کی ویسے ہی حضرت علی علیہ السلام نے صبر و خاموشی کے ذریعے دین کو مٹنے سے بچایا ہے۔
حوالہ جات
1. نہج البلاغہ، خطبہ 3
2. مسند احمد بن حنبل، جلد 1، صفحہ 469
3. نہج البلاغہ، خطبہ 16
4. نہج البلاغہ ، مکتوب 62
5. کتاب سلیم بن قیس ہلالی، صفحہ 586










آپ کا تبصرہ