جمعہ 6 نومبر 2026 - 16:10
یمن کے مظلوم عوام کی حمایت اور اسلامی اتحاد ناگزیر، طاقت و اقتدار ہمیشہ باقی نہیں رہتے: مولانا سید منظور رضا عابدی

حوزہ/ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید منظور رضا عابدی نے خطبۂ جمعہ میں یمن کے مظلوم عوام کی حمایت، امت مسلمہ کے اتحاد اور امریکہ کی ایران مخالف پالیسیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسلامی دنیا کو باہمی اختلافات کے بجائے مشترکہ چیلنجوں کے مقابل متحد ہونا چاہیے۔ انہوں نے معاشرتی اصلاح، تعلیم کے فروغ اور اصلاحِ نفس کو ایک صالح اور بامقصد معاشرے کی بنیادی ضرورت قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،علی پور-کرناٹک/ ہندوستان کی ریاست کرناٹک کے شہر علی پور میں مسجد جعفریہ میں منعقدہ نمازِ جمعہ کے خطبوں میں حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید منظور رضا عابدی نے خطبۂ جمعہ میں عالم اسلام کی موجودہ صورتحال، یمن کے مظلوم عوام کے مسائل، سعودی عرب کی پالیسیوں اور امریکہ کی سیاسی تبدیلیوں کا جائزہ لیتے ہوئے امت مسلمہ کو اتحاد و یکجہتی کی ضرورت کی جانب متوجہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام دشمن طاقتوں کے مقابلے میں امت مسلمہ کا متحد ہونا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے، لیکن افسوس کہ مسلم دنیا اپنے باہمی اختلافات کے باعث ایک دوسرے کے مقابل کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ معاشرے کی حقیقی تبدیلی کا آغاز فرد کی اپنی اصلاح، کردار سازی اور دینی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے ہوتا ہے۔

یمن کے مظلوم عوام کی حمایت اور اسلامی اتحاد ناگزیر، طاقت و اقتدار ہمیشہ باقی نہیں رہتے: مولانا سید منظور رضا عابدی

اپنے خطبے کے دوران مولانا سید منظور رضا عابدی نے یمن کی صورتحال اور وہاں کے مظلوم عوام کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے عالم اسلام کی موجودہ ترجیحات پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک قابلِ غور امر ہے کہ امت مسلمہ اسلام دشمن طاقتوں کے مقابلے میں متحد ہونے کے بجائے ایک مظلوم اور کمزور ملک کے خلاف صف آرا نظر آتی ہے۔ ان کے مطابق یمن کے عوام کی استقامت اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ظاہری وسائل اور مادی طاقت ہی کامیابی کا واحد معیار نہیں، بلکہ کمزور سمجھی جانے والی قومیں بھی اپنے عزم و حوصلے سے بڑی طاقتوں کو چیلنج کر سکتی ہیں۔

اس ضمن میں انہوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام اور منصور دوانیقی کا واقعہ بیان کرتے ہوئے ایک مکھی کے ذریعے مغرور حکمران کو اس کی بے بسی کا احساس دلانے کے واقعے کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی طاقت، اقتدار اور حکمرانی دائمی نہیں ہیں؛ انسان کو اپنی قوت و اختیار پر غرور کرنے کے بجائے اپنی حقیقت اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔

یمن کے مظلوم عوام کی حمایت اور اسلامی اتحاد ناگزیر، طاقت و اقتدار ہمیشہ باقی نہیں رہتے: مولانا سید منظور رضا عابدی

امریکہ کی سیاسی صورتحال اور ایران سے متعلق پالیسیوں پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا نے حالیہ وسط مدتی انتخابات میں حکمران جماعت کو پہنچنے والے نقصان کا ذکر کیا اور اسے حکومتی پالیسیوں، بالخصوص ایران کے حوالے سے اختیار کردہ جنگی رویے کے تناظر میں بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام اپنے ووٹ کے ذریعے حکمرانوں کے فیصلوں اور پالیسیوں پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، اس لیے عوامی جذبات اور سیاسی فیصلوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

خطبے کے ایک اہم حصے میں انہوں نے اصلاحِ نفس اور اصلاحِ باطن کو معاشرتی تبدیلی کی بنیادی شرط قرار دیتے ہوئے نماز اور اذان کی اہمیت پر خصوصی توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ جب موبائل فون کی گھنٹی بجتی ہے تو انسان فوراً جواب دینے کی کوشش کرتا ہے اور معمولی تاخیر پر معذرت بھی کرتا ہے، لیکن افسوس کہ دن میں کئی مرتبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نماز کے لیے پکارا جاتا ہے، اس کے باوجود ہم اس دعوت پر لبیک کہنے میں غفلت برتتے ہیں۔ ہمیں اپنے طرزِ زندگی کا جائزہ لینے اور اللہ تعالیٰ کی پکار کو اپنی ترجیحات میں جگہ دینے کی ضرورت ہے۔

یمن کے مظلوم عوام کی حمایت اور اسلامی اتحاد ناگزیر، طاقت و اقتدار ہمیشہ باقی نہیں رہتے: مولانا سید منظور رضا عابدی

انہوں نے حدیث کی روشنی میں واضح کیا کہ جو شخص اپنے باطن کی اصلاح کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ظاہر کی بھی اصلاح فرما دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیائے کرام، ائمہ معصومین علیہم السلام، علماء، مبلغین اور خطباء کے ذریعے تمام ضروری اسباب فراہم کیے ہیں، لیکن عملی تبدیلی کی ابتدا خود انسان کو اپنے وجود سے کرنا ہوگی۔ اسی سلسلے میں قرآن مجید کے اس بنیادی اصول کی جانب اشارہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے۔

مولانا نے کہا کہ گھر، محلہ، شہر، لباس اور گاڑی بدلنے سے انسان کی حقیقی شخصیت تبدیل نہیں ہوتی، بلکہ اصل تبدیلی انسان کے فکر و کردار اور باطن میں پیدا ہوتی ہے۔ اس کے لیے مضبوط ارادے، مسلسل محنت اور عملی استقامت ضروری ہے۔ افسوس کہ ہم نماز جمعہ میں اصلاح اور نیک اعمال کے عہد کرتے ہیں، لیکن مسجد سے باہر نکلتے ہی دنیاوی مصروفیات میں اپنے ارادوں کو فراموش کر دیتے ہیں۔

یمن کے مظلوم عوام کی حمایت اور اسلامی اتحاد ناگزیر، طاقت و اقتدار ہمیشہ باقی نہیں رہتے: مولانا سید منظور رضا عابدی

اولاد کی تربیت کے حوالے سے والدین کو متوجہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بچے ہماری نصیحتوں سے زیادہ ہمارے کردار اور عملی زندگی سے سیکھتے ہیں۔ اگر ہم اپنی اولاد کو فرمانبردار، بااخلاق اور دین دار دیکھنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں اپنے عمل اور کردار کو درست کرنا ہوگا، کیونکہ گھر کا ماحول اور والدین کا طرزِ عمل بچوں کی شخصیت سازی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

معاشرتی نظم و ضبط اور باہمی ذمہ داریوں کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا سید منظور رضا عابدی نے انسانی جسم کی مثال پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح انسانی جسم کے مختلف اعضا، مثلاً آنکھ، کان، زبان، ہاتھ اور پاؤں اپنی اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں اور ایک دوسرے کے کام میں مداخلت نہیں کرتے، اسی طرح معاشرے میں بھی ہر فرد کو اپنی ذمہ داری اور مقام کا شعور ہونا چاہیے۔ جب ہر شخص اپنے فرائض درست طریقے سے انجام دے گا تو معاشرے میں نظم، توازن اور خوبصورتی پیدا ہوگی، لیکن دوسروں کے فرائض میں مداخلت، حسد اور اپنی حدود سے تجاوز معاشرتی انتشار اور بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔

یمن کے مظلوم عوام کی حمایت اور اسلامی اتحاد ناگزیر، طاقت و اقتدار ہمیشہ باقی نہیں رہتے: مولانا سید منظور رضا عابدی

تعلیم کی اہمیت اور معاشرتی ترجیحات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے جہالت اور غربت کو انسانی زندگی اور معاشرے کے دو بڑے دشمن قرار دیا اور کہا کہ علم، تعلیم اور شعور کے ذریعے ان کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے معاشرے کے اس رویے پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعض خاندان بچوں کی شادیوں، رسم و رواج اور تقریبات پر لاکھوں روپے خرچ کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں، لیکن جب بچوں کی اعلیٰ تعلیم اور تعلیمی اخراجات کی بات آتی ہے تو وسائل کی کمی کا عذر پیش کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس طرزِ فکر کو قابلِ اصلاح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنی معاشرتی ترجیحات پر نظرثانی کرنی چاہیے اور بچوں کے مستقبل، تعلیم و تربیت کو غیر ضروری رسم و رواج پر فوقیت دینی چاہیے۔

یمن کے مظلوم عوام کی حمایت اور اسلامی اتحاد ناگزیر، طاقت و اقتدار ہمیشہ باقی نہیں رہتے: مولانا سید منظور رضا عابدی

خطبے کے اختتام پر مولانا سید منظور رضا عابدی نے مؤمنین کو اپنی اصلاحِ باطن، کردار سازی، نیک ارادوں میں استحکام اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کا عہد کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے اس حقیقت پر زور دیا کہ جب افراد اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اپنی ذات، خاندان اور معاشرتی کردار کی اصلاح کریں گے تو اس کے مثبت اثرات پورے معاشرے میں نمایاں ہوں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha