ہفتہ 7 نومبر 2026 - 13:19
امریکہ زوال کے دہانے پر!

حوزہ/تقریبا 48 سال پہلے کی بات ہے جب ایران کی سر زمین پر استبدادی نظام کے خاتمے کے بعد اسلامی انقلاب کامیاب ہوا تھا، اس وقت سے لے کر آج تک امریکہ ایران کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑا ہوا ہے اور آئے دن اس کی بقا، پائیداری اور ترقی کی راہ میں طرح طرح کی ناجائز اور غیر انسانی رکاوٹیں ایجاد کرتا آرہا ہے۔

تحریر: مولانا ظہور مہدی مولائی

حوزہ نیوز ایجنسی| تقریبا 48 سال پہلے کی بات ہے جب ایران کی سر زمین پر استبدادی نظام کے خاتمے کے بعد اسلامی انقلاب کامیاب ہوا تھا، اس وقت سے لے کر آج تک امریکہ ایران کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑا ہوا ہے اور آئے دن اس کی بقا، پائیداری اور ترقی کی راہ میں طرح طرح کی ناجائز اور غیر انسانی رکاوٹیں ایجاد کرتا آرہا ہے۔

یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ امریکہ و اسرائیل، ایران کے اندر اسلامی انقلاب کے نتیجہ میں قائم ہونے والے نظام حکومت کو مٹانے کے لئے وہ تمامترمنحوس کوششیں کرچکے ہیں جو وہ کر سکتے تھے لیکن الحمدللہ ان کے ظالمانہ و بہیمانہ اقدامات سے اثر لئے بغیر ایران روز بروز ہر اعتبار سے پائیداری و ترقی کے آسمان چھوتا جارہا ہے، جب کہ امریکہ و اسرائیل دونوں کی مشکلات میں اچھا خاصا اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔

چانچہ عالمی منظر نامہ پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ امریکہ و اسرائیل نے 28 فروری 2026 میں جو جنگ ایران کے خلاف شروع کی تھی اس کے مضر اثرات صرف ظالم و غاصب اسرائیل اور مشرق وسطی تک محدود نہیں رہے بلکہ امریکی معیشت، سیاسی سسٹم، دفاعی نظام، عوامی فکر و ذھنیت، امریکی بین الاقوامی ساکھ اور اس کے عالمی سفارتی تعلقات پر بھی باقاعدہ مرتب ہوئے ہیں۔

جن کی طرف ہم قدرے تفصیل کے ساتھ اشارہ کرنے جا رہے ہیں:

1۔معاشی و معیشتی مشکلات:

یہ بات سب جانتے ہیں کہ اس جنگ نے تیل، ڈیزل، پیٹرول، کھاد اور حمل و نقل کے اخراجات کو بہت بڑھا دیا ہے جس کی وجہ سے امریکہ میں روزمرہ کی ضروری چیزیں بہت مہنگی ہوگئی ہیں(1) اور اس نے وہاں کی عوام کو موجودہ حکومت سے متنفر کرنے میں بہت اہم رول ادا کیا ہے۔

2۔ دفاعی بجٹ پر دباؤ:

اس جنگ نے امریکہ کے فوجی اور دفاعی بجٹ کو بھی اچھا خاصا متاثر کیا ہے، جس سے موجودہ حکومت کی بلبلاہٹ اور بوکھلاہٹ میں بشدت اضافہ دکھائی دے رہا ہے۔

چنانچہ امریکی کانگریس کے بجٹ دفتر سی، بی، او کے اندازہ کے مطابق یکم اکتوبر 2026 تک اس جنگ میں تقریبا 38 ارب ڈالرخرچ ہو چکے ہیں۔

جب کہ فوجی ساز و سامان، میزائیلوں، جنگی طیاروں اور فوجی اڈوں کی دیکھ بھال پر خرچ ہونے والی رقم اس سے الگ ہے۔(2)

3۔ سیاسی اختلافات میں شدت:

ایران کے ساتھ امریکہ کی جنگ نے امریکہ کے اندر سیاسی اختلافات کو بھی بڑھاوا دیا ہے، اسی لئے سیاسی حلقوں میں اس جنگ کی مدت، اخراجات، اور اس کے نتائج مثلا جانی و مالی نقصانات وغیرہ سے متعلق شدید اعتراضات اور عوام کی طرف سے احتجاجی ریلیوں کا عمل بھی سامنے آیا ہے۔

امریکی اخبارات نے اس بات کوصاف صاف لکھا اور بیان کیا ہے کہ:

امریکہ میں رہنے والی اکثریت اس جنگ کے سخت خلاف ہے۔(3)

4۔ سیاسی پارٹیوں میں سخت تناؤ:

اس جنگ سے امریکی سیاسی پارٹیوں کے درمیان بھی شدید تناو دیکھنے میں آیا ہے۔

بالخصوص ٹرمپ اور اس کی ری پبلکن پارٹی کو بہت بڑا دھچکا لگا ہے، چونکہ اس پارٹی کو وسط مدتی انتخابات میں

ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں کھلی شکست و ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

یہ شکست اتنی کھلی شکست ہے کہ ٹرمپ ملعون جیسے ضدی، لجوج اور جھگڑالو اور اس کے نائب جے ڈی وینسن کو بھی اس کا اعتراف کرنے کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آیا۔

چنانچہ ان دونوں نے اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس شکست کا ایک سبب ایران سے کی گئی جنگ ہے۔(4)

5۔ امریکی خارجہ پالیسی کو بڑا دھچکا:

اس جنگ نے مشرق وسطی میں موجود امریکی اتحادی ممالک کے ساتھ اس کے سیاسی رابطوں پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔

امریکہ کے ساتھ ساتھ اس کے اتحادی خلیجی ممالک کو بھی اس جنگ نے پہلے سے کہیں زیادہ اب ایران سے ڈرنے پر مجبور کردیا ہے اور ان پر یہ واضح ہوگیا ہے کہ امریکہ خطہ میں انھیں تحفظ دینے میں بڑی حد تک ناکام رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے اوپر ان کے اعتماد میں اب بہت زیادہ کمی آچکی ہے اگرچہ وہ بدبخت داخلی و عالمی پیمانہ پر بہت بڑے نقصانات اٹھانے کے باوجود اب بھی امریکہ کا ساتھ دینے پر مجبور ہیں۔

ادھر امریکہ کو اپنے اتحادیوں کے تحفظ اور اس علاقہ میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے لئے طاقت فرسا اخراجات برداشت کرنے پڑرے ہیں، جس نے امریکی خارجہ پالیسی کو بہت مشکل مرحلہ میں داخل کردیا ہے۔(5)

6۔امریکی بین الاقوامی ہیبت اور ساکھ کا خاتمہ:

امریکہ نے پوری دنیا میں جو اپنے سپر پاور ہونے کی دھاگ جما رکھی تھی، ایران نے اس جنگ میں اسے بری طرح پاش پاش کردیا ہےاور اس کی جعلی و مصنوعی طاقت و قدرت کے غبارہ کی ساری ہوا نکال کر رکھ دی ہے یعنی بحول و قوہ الہی اب اس کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔

اس کے برعکس خداوند قدیر و علیم اور رب عزیز و حکیم نے اس جنگ میں جمہوری اسلامی ایران کو دنیا بھر میں وہ عزت و ہیبت اور عظمت و کرامت نصیب فرمائی ہے جو بہت کم کسی کے حصہ میں آتی ہے۔

حوالہ جات:

1۔USDA — Food Price Outlook, October 2026

2۔everycrsreport.com

3۔رائٹرز ایسوس سروے۔

4۔ABC News

5۔ everycrsreport.com

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha