حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ علی رضا اعرافی نے مدرسۂ فیضیہ میں موجود حوزہ علمیہ اور علمائے دین کے میوزیم اور مرکزِ اسناد کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حوزہ نیوز ایجنسی کے ذریعے مراجع عظام، علمائے کرام اور مختلف شخصیات سے عمومی اپیل کرتے ہیں کہ اگر ان کے پاس حوزہ علمیہ، علمائے دین، شہر قم، امام خمینیؒ کی تحریک اور اسلامی انقلاب کے مختلف ادوار سے متعلق تاریخی دستاویزات موجود ہیں تو وہ ان کی اصل یا نقل اس مرکز کے حوالے کری
انہوں نے حوزہ نیوز ایجنسی پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں عوامی سطح پر آگاہی پیدا کرے اور لوگوں، بزرگ شخصیات اور علمائے کرام کو اس تاریخی ذخیرے میں مزید دستاویزات شامل کرنے کی دعوت دیں۔

تقریباً 20 لاکھ تاریخی دستاویزات کا ذخیرہ
آیت اللہ اعرافی نے اس مرکز میں جمع کی جانے والی دستاویزات کی تعداد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ داران کی کوششوں سے اب تک تقریباً 20 لاکھ تاریخی دستاویزات جمع کی جا چکی ہیں۔ یہ ایک ایسا عظیم تاریخی سرمایہ ہے جس کی اہمیت اور قدر کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس کام کو آئندہ بھی پوری سنجیدگی کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔
طلبہ کی شناخت اور تاریخی شعور کی تعمیر میں اس میوزیم کا کردار
حوزہ علمیہ ایران کے سربراہ نے اس مرکز کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک جامع ادارہ ہے جو حوزہ علمیہ کے ساتھ ملک کی ثقافت کو بھی فروغ دینے اور آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ تحقیق، مطالعے اور علمی کاموں کے لیے ایک بڑا ذخیرہ بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مرکز کا ایک بنیادی مقصد طلبہ کی شناخت اور تاریخی شعور کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ میوزیم طلبہ کو اپنے ماضی اور تاریخی ورثے سے روشناس کراتا ہے۔ جب ایک طالب علم یہاں آکر حوزہ علمیہ کی تاریخ اور اپنے بزرگوں کی علمی و دینی خدمات کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے تو وہ اس تاریخی پس منظر کو اپنی شخصیت اور شناخت کا حصہ بناتا ہے۔

حوزہ علمیہ کی تاریخ کو روشن کرنے والا مرکز
آیت اللہ اعرافی نے اس منصوبے کے ذمہ داران کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم نے اسی سوچ کے تحت دوستوں کو اس کام کی ترغیب دی اور انہوں نے بھی بھرپور محنت دکھائی۔ ہماری امید ہے کہ یہ مرکز حوزہ علمیہ کی شناخت، ثقافت کے فروغ اور معاشرے کو حوزہ علمیہ اور علمائے دین کے تاریخی کردار سے آگاہ کرنے کا ایک روشن مرکز بنے گا۔
انہوں نے آخر میں علمائے کرام، اہل علم اور عام لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اس تاریخی ذخیرے کو مزید مالا مال بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ حوزہ علمیہ کے تحریری اور زبانی ورثے کی حفاظت اسلامی اور انقلابی ثقافت کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس کے ذریعے مستقبل میں حوزہ علمیہ کی تاریخ پر تحقیق اور اس کے مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے مستند تاریخی معلومات سے مدد حاصل کی جا سکے گی۔










آپ کا تبصرہ