۲۸ مرداد ۱۴۰۱ |۲۱ محرم ۱۴۴۴ | Aug 19, 2022
علامہ عارف واحدی

حوزه/ امام حسینؑ نے عظیم قربانی دیکر انسانیت کو بچایا، عزاداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا، عوام کے جان و مال و عبادات کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، شہری آزادیوں پر پابندی کے مخالف ہیں۔ 

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد نے اسلام آباد میں چہلم سید الشہداء کے مرکزی جلوس میں شرکت کی۔ اس موقع پر مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امام حسینؑ نے عظیم قربانی دیکر انسانیت کو بچایا، عزاداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا، عوام کے جان و مال و عبادات کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، شہری آزادیوں پر پابندی کے مخالف ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ تاقیامت یہ اصول طے ہوگیا کہ حق کے لئے اٹھنے والی ہر آواز حسینیت کا پرچار کرے گی۔ اس موقع پر علامہ غلام قاسم جعفری، علامہ سجاد حسین ہمدانی، علامہ امیر حسین جعفری، علامہ سید ضیغم عباس نقوی، علامہ ملازم حسین علوی، علامہ ندیم عباس علوی، علامہ کوثر عباس حیدری، علامہ رضا محمد خان، علامہ رضوان گردیزی، سید جاوید حسین نقوی، سید نزاکت حسین نقوی، ملک سلیم حیدر، سید نیئر عباس نقوی، سید ارسلان کاظمی، آصف جاوید مغل، سید فرید حسین شاہ، سید محمود علی نقوی، سید اسد عباس کاظمی، سید منعیم حسین نقوی، چوہدری عباس علی، سید ذیشان حیدر شمسی، سید ذیشان علی، سید شجاع الحسن کاظمی اور محمد اکبر میر سمیت دیگر علمائے کرام و کارکنان موجود تھے۔

علامہ علامہ عارف حسین واحدی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ اور ان کے جانثار اصحاب ؓباوفا نے دین حق کی سربلندی کے لئے عظیم قربانی دی اور یزیدیت کو قیامت تک کے لئے رسوا اور شکست فاش دیدی۔ عزاداری سید الشہداء ہماری عبادات کا اہم جزو ہے، جسے کسی صورت ترک نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اسے محدود کیا جاسکتا ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عوام کے جان و مال اور عبادات کے تحفظ کو یقینی بنائے اور فول پروف سکیورٹی فراہم کی جائے، لیکن سکیورٹی کے نام پر شہروں کو سیل کرنا اور شہری آزادیوں پر قدغن لگانا کسی صورت درست نہیں ہے۔ عوام کی جلوس میں شرکت کے لئے مشکلات میں کمی اور آسانیاں فراہم کی جائیں، تاکہ تمام مکاتب فکر و مسلک کے افراد نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کی یاد مناتے ہوئے جلوس عزاء میں شریک ہوسکیں۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق کی زیر صدارت ہونے والے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے نمائندہ علمائے کرام نے ملک میں مسلکی ہم آہنگی کے فروغ کیلئے 20 نکاتی متفقہ ضابطہ اخلاق پر دستخط کئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ کوئی شخص کسی مسلمان کی تکفیر نہیں کریگا، صرف مذہبی اسکالر ہی شرعی اصولوں کی وضاحت مذہبی نظریئے کی اساس پر کریگا، کسی کے بارے میں کفر کے مرتکب ہونے کا فیصلہ صادر کرنا عدالت کا دائرہ اختیار ہے، اسلام کے نفاذ کے نام پر جبر کا استعمال، ریاست کیخلاف مسلح کارروائی، تشدد اور انتشار کی تمام صورتیں بغاوت سمجھی جائینگی، مقدس ہستیوں کی توہین نہیں ہوگی، فرقہ واریت کو فروغ دینے والوں کیخلاف سخت اقدمات کئے جائیں گے۔ امید ہے کہ اس سے فرقہ واریت کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

آخر میں انہوں نے امسال حکومت و انتظامیہ کی جانب سے عزاداری سید الشہدا علیہ السلام پر قائم ناجائز ایف آئی آرز فی الفور ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مذہبی و مسلکی ہم آہنگی کیلئے کسی نئی قانون سازی کی ضرورت نہیں بلکہ ان مسائل کا حل مروجہ قوانین پر عملدرآمد میں مضمر ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
8 + 10 =