۳۰ اردیبهشت ۱۴۰۱ |۱۸ شوال ۱۴۴۳ | May 20, 2022
شیخ علی القره داغی دبیرکل اتحادیه جهانی علمای مسلمان

حوزہ / شیخ علی القرہ داغی نے کہا کہ اخوان المسلمین کے حوالے سے سعودی علماء کرام کے وفد کے بیان کو صہیونی حکومت نے ہی پسند کیا تھا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عالمی مسلم علماء کونسل کے سکریٹری جنرل شیخ  علی القرہ داغی نے کہا کہ اخوان المسلمین کے حوالے سے سعودی علماء کرام کے وفد کے بیان کو صہیونی حکومت نے ہی پسند کیا تھا۔ 

تفصیلات کے مطابق، انہوں نے اسرائیلی حکومت کے سعودی علماء کے بیان پر ردعمل کے جواب میں کہ اخوان المسلمین ایک دہشت گرد ہے ، اپنے ٹویٹر پیج پر لکھا ہے کہ عرب اور اسلامی دنیا میں سعودی علماء کے وفد کے بیان کا خیرمقدم نہیں کیا گیا اور صرف اسلامی اور عربی سرزمین اور قدس پر قابض صہیونی حکومت نے خیر مقدم کیا۔

عالمی علماء کونسل کے سکریٹری جنرل نے اپنے اسرائیل بالعربیہ نامی اکاؤنٹ پر ٹویٹ کیا ہے کہ اسرائیل اشتعال انگیزی اور بغاوت کے لئے مذہب کے غلط استعمال کا خیرمقدم کرتا ہے۔

سعودی علماء کے بیان کے رد عمل میں ، اسرائیلی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ تمام آسمانی مذاہب لوگوں میں محبت اور پیار کے بیج بونے آئے ہیں۔ ہمیں ایسے الفاظ کی اشد ضرورت ہے جو پورے خطے کی بہتری کے لئے معافی اور باہمی تعاون کا مطالبہ کریں۔

یاد رہے کہ سعودی علماء کونسل نے گذشتہ ہفتے اخوان المسلمین کو اسلام مخالف ایک دہشت گرد گروہ کے طور پر متعارف کراتے ہوئے کہا تھا کہ جماعت اخوان المسلمین اسلامی قوانین کی راہ سے ہٹ گئی ہے، فتنہ و فساد کا سبب بنتی ہے اور مذہب کے سہارے دہشت گردی کا مرتکب گروہ ہے۔

سعودی علماء کونسل کے اس بیان نے عرب عالم میں سیاست دانوں ، کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کے درمیان وسیع پیمانے پر غم و غصے کو جنم دیا  اور اخوان المسلمین نے ایک بیان میں کہا کہ اخوان المسلمین ایک تبلیغی اور اصلاح پسند گروہ ہے۔

2014ء میں ، سعودی وزارت خارجہ نے اخوان المسلمین کے بارے میں مصری مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے اس جماعت کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا ۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 12 =