۳۰ دی ۱۳۹۹ | Jan 19, 2021
علمای یمن

حوزہ/ علماء کونسل یمن نے کہا کہ آل سعود حکومت ، صیہونی حکومت اور امریکہ کے مابین سہ فریقی اجلاس فلسطین سے غداری اور اسرائیل سے رسمی طور پر تعلقات کو معمول پر لانے کی واضح دلیل ہے ۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ، یمنی علماء کونسل نے ایک بیان میں ، اسرائیلی وزیر اعظم کا دورہ سعودی عرب پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہ آل سعود حکومت ، صیہونی حکومت اور امریکہ کے مابین سہ فریقی اجلاس کو فلسطین سے غداری اور اسرائیل سے رسمی طور پر تعلقات کو معمول پر لانے کی واضح دلیل قرار دیا ہے ۔

بیان کا متن کچھ اس طرح ہے:

یمنی علماء کونسل، سعودی عرب کے شہر نئوم میں اسرائیلی وزیراعظم سمیت موساد انٹیلی جنس کے سربراہ ، امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی سعودی ولی عہد بن سلمان سے ملاقاتوں کو مسئلہ فلسطین سے غداری اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم کا آغاز سمجھتی ہے ۔

صہیونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے متحدہ عرب امارات ، بحرین اور سوڈان کے تمام اقدامات آل سعود حکومت کی دعوت اور ہدایت کے ساتھ انجام دیئے گئے تھے اور آل سعود، امت اسلامیہ اور فلسطین کے خلاف سازشیں جاری رکھنے کی سب سے بڑی وجہ ہے،لہذا جزیرہ عرب کے عوام اور عرب و اسلامی ممالک کی اقوام پر ضروری ہے کہ وہ اس حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور حرمین شریفین کے انتظامی امور کو سعودی حکومت سے اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے ان مقدس مقامات کو آزاد کرائیں۔

یمنی علماء کونسل اس خطرناک سازش کے تناظر میں درج ذیل امور پر تاکید کرتی ہے:

1۔ امریکی صہیونی منصوبوں کے خلاف عرب اور اسلامی امت کے وحدت و اتحاد کی ضرورت اور اسلامی مقامات مقدسہ خصوصاً حرمین شریفین اور مسجد اقصی کو یہودیوں اور اس کے پیروکاروں کے کنٹرول سے آزاد کرانے کی کوشش کی جائے۔

2۔ عالم اسلام کے علمائے کرام کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے تحفظات ، مذہب ، اسلامی سرزمین، ملت اسلامیہ کی بیداری اور مقامات مقدسہ کے دفاع کے لئے اپنے فرائض اور ذمہ داریاں نبھائیں۔ خائن حکومتوں نے اسلامی ثروت اور مقامات مقدسہ کو دشمنوں کے حوالے کر دیئے ہیں۔

3۔ ملت فلسطین اور فلسطینی مزاحمتی و مقاومتی تحریکوں کے تمام طبقات کو متحد ہونے اور فلسطین کی آزادی کیلئے مسلح مزاحمت و مقاومت کے سلسلے کو جاری رکھنے کی دعوت دیتی ہے ۔

4۔ عرب اور دنیائے اسلام کو جہاد کو متحرک کرنے اور جنگ کی آمادگی کا اعلان کرنے کی دعوت دیتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے والے تمام ممالک سے ہر قسم کا بائیکاٹ کرنے ،عرب اور دنیائے اسلام میں اسرائیلی سفارت خانے اور قونصل خانے کے قیام کی مخالفت کرتی ہے ۔

5۔ مقاومت و مزاحمت کے گروپوں کو راہ خدا میں جہاد اور مزید جد و جہد کرنے اور نئی استعمار کی سازشوں کے خلاف ڈٹ جانے کی دعوت دیتی ہے ۔

6۔ یمن کے خلاف سعودی ، اماراتی ، صہیونی اور امریکی جارحیت، امریکی صہیونیوں کے منصوبوں کے تحت عرب،دنیائے اسلام اور امت اسلامیہ کے خلاف جارحیت کا ایک سلسلہ ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

7۔ یمنی علماء کونسل فوج سمیت عرامی رضا کار فورسز، مختلف قبائلیوں اور جنگی فورسز کو دعوت دیتی ہے کہ وہ قابضین اور استعمار کے ایجنٹ کی غلاظت سے اس سرزمین کی آزادی تک جہاد کے سلسلے کو جاری رکھیں۔

8۔ یمنی علماء کونسل جدہ میں آرامکو تیل کی کمپنیوں کو نشانہ بنانے پر مبارکباد پیش کرتی ہے اور فوج سے مطالبہ کرتی ہے کہ جب تک سعودی عرب کے یمن پر حملہ اور پابندی عائد رہے اس وقت تک اس کے فوجی اور معاشی اڈوں پر مزید حملوں کا سلسلہ جاری رکھیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
8 + 9 =