۴ آذر ۱۳۹۹ | Nov 24, 2020
عربستان

حوزہ/ آل سعود حکومت قطیف اور احساء کے شیعوں کے حقوق پامال کرنے پر اصرار کرتی ہے اور اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آل سعود حکومت قطیف اور احساء کے شیعوں کے حقوق پامال کرنے پر اصرار کرتی ہے اور اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ یہ حکومت اپنے سیاہ کارناموں کی سمت مسلسل گامزن ہے۔

آل سعود حکومت قیدیوں کی رہائی کے بعد بھی جان بوجھ کر مختلف طریقوں سے ان کی توہین، انہیں ہراساں اور ان پر نفسیاتی دباؤ ڈالتی ہے۔

مراة الجزیرہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ، یہ اطلاعات موجود ہیں کہ سعودی حکام رہا شدہ قیدیوں کے حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور جیل میں ان کے استحکام اور مزاحمت کا بدلہ لینے کے لئے ایک نئی من مانی پالیسی اپنائی ہے ، حکومت برقی ہتھکڑیوں سے رہا قیدیوں کی نگرانی کرنے کے ساتھ ان کی جاسوسی کر رہی ہے اور جیل سے رہائی کے بعد بھی انہیں زیر نظر رکھے ہوئے ہے ۔

پچھلے تین ماہ کے دوران سعودی عرب کے مشرقی علاقے سے رہا ہونے والے افراد اب بھی زیر نظر ہیں

مراة البحرین کے مطابق ، سعودی حکام زیر حراست افراد کو رہا کیے جانے سے قبل آخری لمحے تک انہیں ہراساں اور تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ پچھلے تین ماہ کے دوران سعودی عرب کے مشرقی علاقے سے رہا ہونے والے افراد اب بھی زیر نظر ہیں اور سعودی حکام ان کے حق میں غیر مشروط آزادی کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔

آل سعود جیل کے پوچھ گچھ کے عہدہ داران رہائی پذیر قیدیوں سے الیکٹرانک ہتھکڑیوں کے توسط سے روزانہ رابطے میں ہیں، ان سے پوچھ گچھ کرتے ہیں اور انہیں تنبیہ کرتے ہیں کہ جس محلے میں ساکن ہو اس محلے کو کسی صورت ترک نہ کریں۔
پوچھ گچھ ادارے نے جوانوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے محلے سے نکلتے وقت محکمہ سے اجازت حاصل کریں۔

ذرائع کے مطابق قیدیوں کی رہائی کے لئے جیل حکام نے انہیں موبائل فون خریدنے اور اسے رجسٹر کرنے پر مجبور کردیا ہے تاکہ وہ ان کی ٹیلیفون گفتگو پر نظر رکھ سکیں یہ شریعت اور ملکی و بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی واضح خلاف ورزی ہے۔

احساء شہر کے منقبت اور مرثیہ خواں کو الدمام کی عمومی جیل منتقل کر دیا ہے

سعودی حکومت کے جابرانہ عہدے داروں نے احساء شہر سے ایک مشہور و معروف نوحہ خواں محمد بوجبارہ کو الدمام پبلک جیل منتقل کردیا ہے اور آٹھ دیگر جوانوں کو اربعین حسینی واک کی ایک آرٹ پینٹنگ کی تصویر بنانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم جہاں انہیں اس جرم کی سزا دی جائے گی ۔
ان کو دمام جیل میں تین ہفتے کا عرصہ ہوا ہے تاہم سعودی حکام نے ان کو ان کے اہل خانہ یا وکلاء تک رسائی سے انکار کردیا ہے ۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 7 =