۵ آذر ۱۳۹۹ | Nov 25, 2020
خاندان اجتہاد کے علمی، ادبی اور عزائی خدمات

حوزه/ سب سے پہلی نماز جماعت لکھنؤمیں بعہد نواب آصف الدولہ بہادر، حضرت غفران مآب مولانا سید دلدار علی مجتہد نصیرآبادی نے بہ خواہش نواب صاحب موصوف نماز ظہرین کی حیثیت سے ۱۳؍رجب المرجب ۱۲۰۰ھ؁ بروز جمعہ قصر ناظم الملک ظفر جنگ نواب سرفرازالدولہ حسن رضا خان بہادر (متوفی لکھنؤ ۱۲؍رجب ۱۲۱۶ھ؁) میں پڑھائی اور ۲۷؍رجب المرجب ۱۲۰۰ھ؁ / ۲۶؍مئی ۱۷۷۵ء؁) کو اوّل  مرتبہ نماز جمعہ اسی قصر میں پڑھائی۔

از قلم: مولوی سید رضا محمد نقوی رضاؔ جائسی 

حوزہ نیوز ایجنسی | خاندان اجتہاد لکھنؤ کے جدّامجد، محیی ملت، مجدد شریعت آیۃ اللہ العظمیٰ حضرت غفران مآبؒ مولانا سید دلدار علی طاب ثراہ کے پدر بزرگوار نصیرآباد (جائس) ضلع رائے بریلی کے رہنے والے تھے۔ آپ کے زمانہ میں نصیرآباد سرکار مانکپور سے متعلق تھا۔ جس کو سید زکریا جائسی علیہ الرحمہ نے عہد شیرشاہ سوری میں فتح کرکے اپنے جدبزرگوار سید نصیرالدین کے نام پر  ۴۴۰ھ؁ یا ۴۸۰ھ؁ میں نصیرآباد نام رکھا اس وقت نصیرآباد بنام پٹاکپور منجملہ ۷۶۰ دیہات تابع جائس تھا (دیکھو افضل التواریخ)۔ سیدنصیرالدین ؒ کی قبر مسجد منارہ سیدانہ جائس کے صحن میں ہے اور ’’پیرنصدّی‘ کے نام سے نامزد ہے۔ ان کے و نیز علامہ سید علم الدین جد سادات جائس کے جداعلیٰ نواب نجم الملک ملا سید محمد نجم الدین سبزواری نے ۴۱۹ھ؁ کے آخر میں قلعہ ودّیا نگر جائس کو فتح کیا تھا اور نواب اشرف الملک سید شرف الدین کو جائس ’’راس الجیش‘‘ کی حیثیت سے و نیز حضرت میر عمادالدین ؒ کو بحیثیت قلعچی جائس میں چھوڑکر بعالم جہاد بنارس تشریف لے جاکر وہاں درجۂ شہادت پر فائز ہوئے تھے۔ حضرت نواب نجم الملک ؒ ۱۲؍ہزار کے لشکر کے ساتھ نصرت سید سالار مسعود غازی پر منجانب آل بویہ سبزوار ایران سے بھیجے گئے تھے۔

لکھنؤ میں نواب آصف الدولہ بہادر کی آمد

نوابان نیشاپور یہ اودھ کا دارالحکومت ۱۱۳۲؁ ھ سے فیض آباد رہا کیا۔ برہان الملک سید محمد امین عرف نواب سعادت خان بہادر وزیرالممالک محمد شاہ بادشاہ مغلیہ (صوبیدار اکبر آباد و اودھ، متوفی دہلی ماہ ذی الحجہ ۱۱۵۰؁ھ مطابق ۱۷۳۱؁ء و مدفون بہ مقبرۂ مرزا حسن چار باغ نواب شیر جنگ دہلی۔ کچھ عرصے کے بعد آپ کے جسد کو کربلائے معلّیٰ میں دفن کیا گیا) نے فیض آباد ہی کو اوّل رونق بخشی تھی۔بقول مصنف قیصرالتواریخ اس وقت ’’صوبہ اودھ کا حدود اربعہ دریائے گنگا کے کنارے سے شمال و جنوب کی طرف دریائے راپتی تک مشرق میں عظیم آباد اور مغرب میں شاہ آباد تھا جو ۲۳۹۲۳ میل پر مبنی تھا۔ پیادہ فوج کے علاوہ بائیس ہزار سوار فوجی تھے‘‘ اس خاندان والا شان نے بحیثیت وزیرالممالک کئی پشتوں تک فیض آباد میں رہ کر وزیرالممالک کے منصب جلیلہ کی خدمات انجام دیں۔ برہان الملک کے بعد مرزا محمد مقیم ابو المنصور خاں نواب صفدر جنگ بہادر (متوفی  ۱۱۶۶؁ھ مطابق اکتوبر ۱۷۵۳ ء؁ پاپر گھاٹ سلطان پور و مدفون بہ گلاب باڑی فیض آباد ۔ کچھ عرصے کے بعد لاش کربلا ئے معلّیٰ میں دفن کی گئی ) نواب ہوئے ۔ ان کے بعد، جلال الدین حیدر نواب شجاع الدولہ بہادر (متوفی فیض آباد۲۴ ذی قعدہ  ۱۱۸۸ھ؁ / ۱۷۷۵ء؁ بہ عمر ۴۲ برس مدفون بہ گلاب باڑی فیض آباد ) کے بعدمرزا یحییٰ علی خان نواب آصف الدولہ بہادر (متوفی لکھنؤ ۲۸؍ربیع الاول ۱۲۱۲ھ؁ / مطابق ستمبر ۱۷۹۷ء؁ مدفون بہ حسینۂ خود) نے لکھنؤ کو دارالحکومت قرار دیا۔ اس سے قبل لکھنؤ ایک قصبہ تھا اس کی مختصر آبادی ٹیلہ پیر محمد شاہ سے لے کر بھدیواں تک متفرق طور پر پھیلی ہوئی تھی۔ نواب موصوف نے ۵۲ مواضعات آبادی میں شامل کرکے لکھنؤ شہر آباد کیا۔

سب سے پہلی نماز جماعت لکھنؤمیں بعہد نواب آصف الدولہ بہادر، حضرت غفران مآب مولانا سید دلدار علی مجتہد نصیرآبادی نے بہ خواہش نواب صاحب موصوف نماز ظہرین کی حیثیت سے ۱۳؍رجب المرجب ۱۲۰۰ھ؁ بروز جمعہ قصر ناظم الملک ظفر جنگ نواب سرفرازالدولہ حسن رضا خان بہادر (متوفی لکھنؤ ۱۲؍رجب ۱۲۱۶ھ؁) میں پڑھائی اور ۲۷؍رجب المرجب ۱۲۰۰ھ؁ / ۲۶؍مئی ۱۷۷۵ء؁) کو اوّل  مرتبہ نماز جمعہ اسی قصر میں پڑھائی۔

حضرت غفران مآب طاب ثراہ جدِّخاندان اجتہاد لکھنؤ

اواسط ۱۱۹۳ھ؁ / ۱۷۷۹ء؁ میں زیارت عتبات عالیات سے مشرف ہو کرتحصیل فقہ و اصول میں مصروف رہ کر  ۱۱۹۶ھ؁ میں عراق سے مراجعت فرمائی اور ۱۲۰۰ھ؁ میں نواب حسن رضا خان بہادر کے یہاں ورود فرمایا۔ نمازجماعت و نماز جمعہ اور بیانِ مسائل کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس وقت سے ممدوح کی نسل خاندان اجتہاد کے نام سے لکھنؤ میں آباد ہے۔ اور نصیرآباد و جائس کو وطن کہتی ہے۔

تاریخ تعمیر امام باڑہ و مسجد نواب آصف الدولہ بہادر واقع لکھنؤ

بتحریر سید کمال الدین مؤلف قیصرالتواریخ و بقول مرزا ابوطالب مصنف تنقیح الغافلین ۱۸۸۴ء؁ میں جب کہ قحط پڑا تو نواب آصف الدولہ بہادر نے ۷ سال میں پچاس لاکھ کی لاگت سے تعمیر کرایا۔۵۱ برس کے سن میں ۲۸؍ ربیع الاول ۱۲۱۲  ؁ ھ مطابق ۳۰ ؍ستمبر ۱۷۹۷؁ءمیں انتقال فرمایا تو وہیں امام باڑے میں دفن ہوئے۔

تاریخ تعمیر امام باڑہ پختہ حضرت غفران مآبؒ واقع لکھنؤ

۱۲۲۷ھ؁ میں تعمیر ہوا۔ اس کے جنوبی شہ نشین میں حضرت سلطان العلماؒء، حضرت ملک العلماؒءو حضرت تاج العلماؒء وغیرہم کے مزارات ہیں۔ جن پر ضریحیںرکھی ہیں۔ مغربی اُطاق میں حضرت غفران مآبؒ کی اور سید العلماء سید حسینؒ کی ضریحیں ہیں۔ قریب قریب کل امامباڑہ علماء، شعراء، امراء و نیز سادات و مومنین کی قبروں سے لبریز ہے۔ بڑے دالان میں منبر بجانب مشرق روبقبلہ نصب ہے۔ اس امام باڑے میں ہر سال محرم میں ہر روز وقت چاشت مجلس حضرت سیدالشہداؑء برپا ہوتی ہے۔ علم مبارک نصب ہوتے ہیں۔ وقت عصر روز عاشور کی مجلس حضرت سلطان العلماء کے عہد میں خاص طور سے ہوتی تھی۔ خود ذکر شہادت فرماتے تھے۔ اب شام غریباں کی مجلس مخصوص ہوتی ہے۔ عمدۃ العلماء مولانا سید کلب حسین امام جمعہ و جماعت مسجد آصفی لکھنؤ ذکر مصائب بیان فرماتے ہیں۔ جو بذریعہ ریڈیو تمام ہندوستان میں نشر ہوتا ہے۔ خاندان اجتہاد لکھنؤ کی مذہبی، ادبی، صحافتی خدمات ’’عیاں را چہ بیاں‘‘ کے مصداق ہیں۔ غفران مآبؒ اسی امام باڑے میں ۱۹؍رجب ۱۲۳۵ھ؁ کو دفن ہوئے۔

عزاخانۂ حضرت غفران مآ ب ؒ لکھنؤ کے متعلق پروفیسر مہدی حسن ناصریؔ مرحوم کی منظوم اپیل کا اقتباس ۱۳۴۹ھ؁

آہ وہ قبلہ و کعبہ کا عزاخانہ آہ

مدفن مجتہدین و علمائے ذی جاہ

روضۂ سبط نبیؐ، رشک جناں، عرش پناہ

کسمپرسی و خرابی میں بصَد حال تباہ

یہ صدا دیتا ہے جنت کے طلب گاروں کو

آئو !  روکو!  مری گرتی ہوئی دیواروں کو

بانی اس کا ہے وہی جس نے سنبھالا ہم کو

ورطۂ کفر و جہالت سے نکالا ہم کو

مہددیں، شرع کی آغوش میں پالا ہم کو

ایسا ملنے کا نہیں چاہنے والا ہم کو

کئے فرزند بھی شاگرد بھی اعلیٰ پیدا

یہ وہ چشمہ تھا کہ جس سے ہوئے دریا پیدا

اس کے فرزندوں کے شاگرد بھی اعلیٰ نکلے

مفتیٔ ملت و علامۂ یکتا نکلے

حامیٔ دین نبیؐ، شرع کے شیدا نکلے

کیا بتائوں دُرِ نایاب تھے کیا کیا نکلے

دفن یہ سب ہیں اسی ٹوٹے عزاخانے میں

یہ خزانہ ہے نہاں سب اسی ویرانے میں

آج بھی ان میں سے سرکردۂ امت ہے کوئی

ہادی دیں کوئی سرتاج فضیلت ہے کوئی

ہے ظہورِ حسن و نجمِ شریعت ہے کوئی

حائرِ علم کوئی، ناصرِ ملت ہے کوئی

نام ان سب کے بزرگوں کا مٹاجاتا ہے

ہاں سنبھالو! کہ عزاخانہ گرا جاتاہے

سوگوارانِ شہ کرب و بلا بہر خدا

جلد اس روضہ کی تعمیر کو بھیجو چندا

پھر کہا جاتاہے ہنگام نہیں غفلت کا

ناصرؔی کرتا ہے اس عرض پہ بس ختم  دعا

جب تک اس دہر میں نامِ شہِ ناشاد رہے

یا الٰہی یہ عزاخانہ بھی آباد رہے

لکھنؤ کی شاہی شیعہ جامع مسجد اور خاندان اجتہاد و نیز مسجد آصفی امام باڑہ حسین آباد لکھنؤ کے متصل ہی یہ مسجد واقع ہے۔ جس کی گل کاری و رنگ آمیزی نظر فریب ہے۔ یہ مسجد محلہ تحسین گنج میں میر نعیم خاں کی گڑھی میں بلند ٹیلہ پر واقع ہے جس میںپہنچنے کے لئے زینوں پر چڑھنا پڑتا ہے۔ یہی طریقہ ہندوستان میں جابجا ہے جائس کی مسجد جامع عامۃ المسلمین اور شیعہ  مسجد جامع موسوم بہ منشی مسجد میں داخلہ متعدد زینوں کے بعد ہوتا ہے۔ لکھنؤ کی شاہی شیعہ مسجدجامع کو اپنے آخری عہدسلطنت میں محمد علی شاہ بادشاہ اودھ نے بنوانا شروع کیا تھا۔ انہوں نے ستر برس کے سن میں۵؍ربیع الثانی ۱۲۵۸؁ھ مطابق ۱۶؍مئ ۱۸۴۴ ء؁ کو انتقال کیا۔ اس کی میناریں ست کھنڈے تھے جو زلزلے کے زد میں آئیں۔ اس مسجد کی لاگت کے سلسلے میں سید کمال الدین حیدر نے اپنی کتاب قیصرالتواریخ کی جلد اول میں لکھا ہے کہ محمد علی شاہ نے دس لاکھ روپیہ بطور امانت نواب ملکہ جہاں کو دیا تھا۔ ان کے انتقال کے بعد اس رقم سے یہ مسجد کئی سال میں تیار ہوئی اور حضرت سلطان العلماء مجتہد العصر اس مسجد میں جمعہ اور عیدین کی نمازیں پڑھانے لگے۔ پہلے مسجد آصفی میںیہ نمازیں مجتہدالعصر پڑھاتے تھے۔ ۱۸۵۷ء؁ کے ہنگامۂ غدر میں جامع مسجد کی نمازوں کا سلسلہ منقطع ہوا۔ ۲۱؍مارچ ۱۸۵۸ء؁ کو انگریزوں کا دوبارہ تسلط بعد غدر ہوا۔ جس میں مسجد آصفی گوروں (انگریزوں) کے قبضہ میں آگئی۔ مؤلف احیاء الآثار ناقل ہیں کہ مسجد آصفی ۲۰؍جون ۱۸۸۴ء؁ کو جناب مولانا سید محمد ابراہیم قبلہ مجتہد کی جدوجہد سے واگذار ہوئی۔ اس سے قبل بعد غدر ۱۸۵۷ء؁ سلطان العلماء کے بھتیجے ممتازالعلماء سید محمد تقی صاحب ولد سیدالعلماء سید حسین طاب ثراہ نے اپنے مکان کے باغ واقع پشت مسجد تحسین علی خاں میں جامع مسجد مذکور کی نماز کے وقت سے قبل ہی نماز جمعہ خود پڑھائی۔ چونکہ شیعہ مذہب کے مطابق ایک شہر میں دو جگہ نماز جمعہ نہیں ہوسکتی تھی۔ اس لئے مجتہدالعصر حضرت سلطان العلماء قبلہ و کعبہ سید محمد نے جامع مسجد کی نماز جمعہ ملتوی کردی۔ مابعد ممتازالعلماء جمعہ و عیدین کی نمازیں مسجد واقع چوک لکھنؤ الموسوم بہ مسجد تحسین علی خان مرحوم میں پڑھاتے رہے۔ ان کے بعد ان کے صاحبزادے سیدالعلماء سید محمد ابراہیم مجتہد لکھنؤ کا بھی یہی طریقہ رہا۔ جب مسجد آصفی واگذار ہوئی تو ۲۴؍جولائی ۱۸۸۴ء؁ کو وہاں نماز جمعہ پڑھائی جو اب تک جاری ہے۔ ۲۰؍جمادی الثانی ۱۳۰۷ھ؁ کو مولانا سید ابراہیم طاب ثراہ کا انتقال ہوا تو ان کے وصی اور بہنوئی جناب میر آغا صاحب مجتہد اپنی زندگی بھر مسجدآصفی میں نماز جمعہ پڑھاتے رہے۔ ان کا انتقال پنجشنبہ ۱۱؍ماہ رمضان ۱۳۲۳ھ؁ کو ہوا۔ ان کے بعد ان کے جانشین قدوۃ العلماء مولانا سید آقا حسن طاب ثراہ اپنی زندگی بھر تا ۱۳۴۸ھ؁ پڑھاتے رہے۔ اب ان کے صاحبزادے اور جانشین عمدۃ العلماء مولانا سید کلب حسین عرف کبّن صاحب قبلہ امام جمعہ و جماعت مسجد آصفی ہیں۔

جب جامع مسجد کی نماز جمعہ بعد غدر بند ہوگئی تو ملک العلماء مولانا سید بندہ حسن طاب ثراہ خلف سلطان العلماء وہاں نماز عیدین پڑھایا کئے۔ ان کے بعد ان کے پسر ملاذالعلماء سیدابوالحسن عرف بچھن صاحب بعدہ بحرالعلوم سید محمد حسین عرف علّن صاحب طاب ثراہ پڑھایا کئے۔

جاری....

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
6 + 1 =