۳ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۳ شوال ۱۴۴۵ | Apr 22, 2024
علامہ عارف واحدی

حوزہ/ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ حکومت ہندوستان کی جانب سے آرٹیکل 370میں تبدیلی بد نیتی پر مبنی ہے جس کا مقصد کشمیریوں کو ان کے حق سے محروم رکھنا ہے، ہم پوری دنیا کو پیغام دیتے ہیں کہ پاکستان کی عوام کبھی بھی اپنے کشمیری بہن بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ 

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے 5فروری کے موقع پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اقوام عالم حُریت رہنماﺅں کی آزادای، عوام پر ظلم و ستم اور ہندوستانی حکومت کی تسلط سے نجات اور کشمیریوں کو انصاف دلانے میں عملی کردار ادا کرے ، کشمیر کی آزادی کا فیصلہ کشمیریوں کے امنگوں کے مطابق کیا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ انڈیا آئین کا آرٹیکل 370 بحال اور جموں و کشمیر کو ایک ریاست کا حق دے۔ حکومت ہندوستان کی جانب سے آرٹیکل 370میں تبدیلی بد نیتی پر مبنی ہے جس کا مقصد کشمیریوں کو ان کے حق سے محروم رکھنا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ شملہ معاہدے میں کہا گیا کہ دو طرفہ مذاکرات کیے جائیں گے لیکن 1973 سے آج تک ہندوستان کی حکومت کبھی بھی کشمیر پر بات کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیر ہندوستان کا حصہ نہیں ہے، ہم کشمیر کی آزادی چاہتے ہیں، اگر کشمیری خود نیم خود مختار حیثیت کے خاتمے کو تسلیم کرتے تو آج انڈین گورنمنٹ کو کشمیر میں کرفیو لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

علامہ عارف واحدی کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ اور عالمی تنظیمیں کشمیر میں پریس کے لیے راستہ کھلوائیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ ندوستان نے جنیوا کنویشن اور اقوامِ متحدہ کی قرادادوں کے خلاف جو تبدیلیاں کی ہیں انہیں واپس لیا جائے جبکہ اقوامِ متحدہ اپنا وعدہ پورا کرے۔

آخر میں علامہ عارف واحدی کا کہنا تھاکہ پاکستان کا بچہ بچہ کشمیری بہن، بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب کشمیر حکومت ہندوستان کے غاصبانہ تسلط سے آزاد ہوگا۔ مظالم کے باوجود ہمارے کشمیری بھائی اور بہنیں اپنے حقِ خود ارادیت کی جدوجہد پر قائم ہیں، کشمیریوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ ان کا جینا مرنا پاکستان ہے اور پاکستان کا جینا مرنا بھی کشمیریوں کے ساتھ ہے۔ اور ہم پوری دنیا کو پیغام دیتے ہی کہ پاکستان کے عوام کبھی بھی اپنے کشمیری بہن بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .