۷ مرداد ۱۴۰۰ | Jul 29, 2021
محفوظ مشہدی

حوزہ/ قرارداد میں اسرائیل کی حمایت کرنے والے امریکہ سمیت تمام ممالک کی مذمت ہونی چاہیے تھی او آئی سی سے توقعات وابستہ کرنا فلسطینی کاز سے غداری کے مترادف ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لاہور/ جمعیت علمائے پاکستان،سواد اعظم کے مرکزی صدر پیر سید محمد محفوظ مشہدی نے او آئی سی کے غیر موثر اور بزدلانہ موقف پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 57 اسلامی ممالک کے فورم نے مسئلہ فلسطین پر امت مسلمہ کی ترجمانی کا حق ادا نہیں کیا۔ محض کاغذی کارروائی اور تقریروں کے علاوہ او آئی سی کے اجلاس میں کچھ نہیں ہوا ۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ بھی انتہائی بزدلانہ اور عامیانہ ہے جس میں اسرائیلی مظالم کی مذمت کی گئی ہے، کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔ لگتا ہے کہ ممالک کسی دباو میں ہیں۔ مسلم حمیت و غیرت کا مظاہرہ نہیں کررہے۔قرارداد میں اسرائیل کی حمایت کرنے والے امریکہ سمیت تمام ممالک کی مذمت ہونی چاہیے تھی ،ترکی بحرین متحدہ عرب امارات،سوڈان، مراکش سمیت جتنے مسلم ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے۔

انہیں اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کر کے فلسطینیوں کی امداد کے لئے افواج بھیجنے کا اعلان کرنا چاہئے تھا ۔ سلامتی کونسل میں امریکہ کو فلسطین کے مسئلے پر تاریخی شکست ہوئی ہے مگر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتینو گوتریس جارحیت کے مرتکب اسرائیل کی مذمت کرنے کی بجائے الٹا مظلوموں کی مزاحمتی تحریک حماس کو جنگ بندی کا مشورہ دے رہا ہے۔  حوالے سے بھی او آئی سی کے اجلاس کے اعلامیے اور قرارداد میں کچھ نہیں ہے۔

اس لئے او آئی سی سے توقعات وابستہ کرنا فلسطینی کاز سے غداری کے مترادف ہے۔ مسلم حکمران اپنی بادشاہتوں کو بچانے کی فکر میں امریکی غلامی کا طوق سجائے بیٹھے ہیں۔ ان میں حمیت و غیرت ختم ہوچکی ہے ، ہمارا مطالبہ ہے کہ ایٹمی قوت پاکستان کی حکومت فلسطینیوں کی مدد کے لئے فوج بھیجے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
5 + 1 =