۹ آذر ۱۴۰۰ |۲۴ ربیع‌الثانی ۱۴۴۳ | Nov 30, 2021
اسقاط حمل

حوزہ/ کرونا سے ایک سال میں جہاں کئی ہزار اموات ہوئی ہیں تو وہاں پوری دنیا اس مسئلے کی لپیٹ میں ہے لیکن اسقاط حمل سے ہونے والی اموات کی تعداد کرونا سے ہونے والی اموات کی تعداد سے کم از کم 5 گنا زیادہ ہے حالانکہ دنیا کو اب بھی آبادی سے خطرہ لاحق ہے۔ لیکن اس مسئلہ میں کہیں بھی کسی بھی قسم کی حساسیت دکھائی نہیں دی گئی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں اسقاطِ حمل کے مسئلے کی بررسی کرنے کے لئے "حوزہ نیوز ایجنسی کے مرکزی دفتر" قم المقدسہ میں ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز قم کے رکن جناب ڈاکٹر محسن رضاعی آدریانی اور معروف 7جلدی کتاب " مجموعه مسائل مستحدثه پزشکی" (جدید طبی مسائل کا مجموعہ) کے مصنّف جناب حجۃ الاسلام سید محسن مرتضوی نے شرکت کی۔ اس نشست کے میزبان جناب محمد رسول صفری تھے۔ ذیل میں اس نشستِ علمی کی تفصیلات و معلومات خلاصہ کی صورت میں ذکر کی جا رہی ہیں:

*براہ کرم! سب سے پہلے اسقاطِ حمل اور اس سے مربوطہ مسائل کے بارے میں بیان فرمائیں۔

ڈاکٹر محسن رضائی آدریانی: اسقاطِ حمل طبی اخلاقیات کے میدان میں سب سے زیادہ چیلنجنگ موضوعات میں سے ایک ہے اور اس پر کافی بحث بھی کی گئی ہے۔ ایک منطقی سی بات ہے کہ ایک بے گناہ انسان کو قتل کرنا غلط کام ہے اور تمام مکاتبِ فکر بھی اس پر متفق ہیں۔ پھر وہ دلیل یہ بتاتے ہیں کہ چونکہ جنین ایک معصوم انسان ہے۔ بے شک اس کی بے گناہی پر کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا لیکن اس کے انسان ہونے کے بارے میں سوال ہوتا ہے کہ آخر جنین کب "انسان" بنتا ہے؟ ان ابحاث سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اسقاطِ حمل غلط ہے اور ہم جب بھی جنین کو انسان سمجھیں گے اور اس کے اخلاقی وقار اور انسانی حیثیت کو مدِنظر رکھیں گے اور اسے محض گوشت کا ایک لوتھڑا شمار نہیں کریں گے تو پھر اس وقت کسی کو اس کے قتل کا حق حاصل نہیں ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دنیا میں عمداً ہر سال تقریباً 75 ملین اسقاطِ حمل ہوتے ہیں عالمی ادارۂ صحت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دنیا میں عمداً ہر سال تقریباً 75 ملین اسقاطِ حمل ہوتے ہیں اور دنیا کے ایک تہائی حمل کا نتیجہ اسقاط حمل کی صورت میں ہوتا ہے تو اس لحاظ سے یہ مسئلہ انتہائی وسیع اور گھمبیر ہے اور بہت سے افراد اس کے موافق ہیں تو اکثر مخالف بھی ہیں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ آیا ہم جنین کو انسان مانتے ہیں یا نہیں؟۔ ہر مکتبِ فکر اپنی اعتقادی بنیادوں کے مطابق ایک مخصوص وقت کے بعد اسقاطِ حمل کی اجازت نہیں دیتا ہے۔

*منابعِ دینی میں اسقاط حمل کے بارے میں کیا نکات بیان کئے گئے ہیں؟

حجت الاسلام مرتضوی: سب سے پہلے تو عرض کرتا چلوں کہ ان جیسی نشستوں کی معاشرے کو بہت ضرورت ہے۔ آج معاشرے کو نئے مسائل کا سامنا ہے جن کا جواب حوزاتِ علمیہ اور فقہ کو دینا چاہئے۔ اس سلسلے میں ہمارے فقہاء اور اساتید ان مسائل پر توجہ تو دیتے ہیں لیکن اس سے زیادہ اہم معاشرے میں ان مسائل سے آگاہی ہے۔

الحمدللہ آج حوزہ علمیہ قم اور دیگر حوزاتِ علمیہ میں نہ صرف "فقہِ معاصر" پڑھائی جا رہی ہے بلکہ "فقہِ معاصر" پر دروسِ خارج کا بھی انعقاد کیا جا رہا ہے۔الحمدللہ آج حوزہ علمیہ قم اور دیگر حوزاتِ علمیہ میں نہ صرف "فقہِ معاصر" پڑھائی جا رہی ہے بلکہ "فقہِ معاصر" پر دروسِ خارج کا بھی انعقاد کیا جا رہا ہے۔

آج ہمارا معاشرہ اسقاطِ حمل، جنس کی تبدیلی، مصنوعی حمل، بیبی ٹیوب وغیرہ جیسے جدید مسائل سے دوچار ہے اور بہت سے لوگ یہاں تک کہ مذہبی لوگ اور مذہبی فکر رکھنے والے بھی افراد بھی ان مسائل سے واقف نہیں ہیں اور یہی سمجھتے ہیں کہ چونکہ معاشرے میں دوسرے افراد انجام دے رہے ہیں تو شاید اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

بہت سے افراد اس بات سے ناواقف ہیں کہ اسقاط حمل میں کن چیزوں کی اجازت ہے اور کیا حرام ہے اور یہ علمی نشستیں جتنی زیادہ ہوں گی اور ان مسائل پر بحث کی جائے گی اتنا ہی زیادہ ان مسائل کے متعلق رپورٹس شائع ہوں گی اور معاشرہ کو اتنا ہی بہتر طور پر آگاہ کیا جا سکے گا۔

اسقاط حمل کے بارے میں ہماری مذہبی تعلیمات میں دو بنیادی نکات موجود ہیں۔ پہلا نکتہ یہ ہے کہ عام طور پر اسلام اور دیگر ادیانِ الہی میں بھی نسل کی کثرت کے بارے میں ابتدائی نظریہ موجود ہے۔ مذہبی تعلیمات میں بھی اس مسئلے پر زور دیا گیا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس بات پر تاکید کی ہے کہ "جہاں تک ممکن ہو اپنی نسل کو بڑھائیں"۔

اسلام کے بنیادی نظر میں "زاد و ولد" کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور اس ابتدائی نظریہ سے ہی ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ اسقاطِ حمل اسلام کے اصل نظریہ سے متصادم ہے۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اسلام میں انسان کو پیدائش سے نہیں بلکہ پیدائش سے پہلے اور نطفہ ٹھہرنے کے دوران ہی باعزت، باوقار اور بامقام سمجھا جاتا ہے اور اس کا احترام کیا جاتا ہے۔

روایات میں ہے کہ نطفہ کے منعقد ہونے کے ساتھ ہی انسان کا احترام ہے اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ حتی نطفہ ہونے کے وقت بھی اس کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرے۔

*اسقاط حمل کی بحث میں کئی افراد اس کے موافق ہیں تو کئی مخالف ہیں، براہ کرم اسقاط حمل کے بارے میں ان مختلف آراء کی وضاحت کریں؟

ڈاکٹر رضائی: طبی اخلاقیات میں ہمارے پاس مغربی نکتہ نظر کے لحاظ سے تین اہم نظریات ہیں۔ ایک نتیجہ خیز نظریہ ہے کہ جو یہ ہے کہ خود عمل اہم نہیں ہے صرف نتیجہ اہم ہے۔ اسقاط حمل کے معاملے میں بھی وہ یہ استدلال پیش کرتے ہیں کہ اگر اسقاط حمل معاشرہ میں فلاح و بہبود کو فروغ دیتا ہے اور درد و رنج کو کم کرتا ہے تو یہ ایک اچھی بات ہے۔

احتمالِ زیاد اسقاطِ حمل کو  دنیا میں قانونی سمجھا جانا اسی نظریے پر مبنی معلوم ہوتا ہے۔

دوسرا نکتہ ضمیر کی ملامت کا مسئلہ ہے جو کہتا ہے کہ تم پر لازم ہے کہ تم اپنا اخلاقی فریضہ ادا کرو۔ اس نقطۂ نظر سے میری سمجھ میں یہی آتا ہے کہ اگر ضمیر کی آوازسنی جائے تو انسانی زندگی کو ضائع نہیں ہونے دیا جا سکتا۔

اسقاط حمل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ ماں کے ساتھ مربوط ہے اور اس کا کسی دوسرے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور جب تک جنین دنیا میں نہیں آتا تو اس وقت تک یہ محض گوشت کا ایک ٹکڑا ہے اور جنین کے پیدا ہونے تک اس کی کوئی انسانی حیثیت نہیں ہے۔

دنیا میں جنین کے بارے میں تین نظریات ہیں۔ پہلا نظریہ یہ ہے کہ جنین کی پیدائش تک اس کی انسانی حیثیت حاصل نہیں ہوتی۔ جس طرح ماں اپنے ناخنوں کے کاٹنے کے بارے میں فیصلہ کرتی ہے اسی طرح جنین بھی ہے۔

دوسرا نظریہ یہ ہے کہ جنین شروع سے ہی انسان کی حیثیت رکھتا ہے اور کسی کو اس کی انسانی حیثیت میں خلاف ورزی کا حق حاصل نہیں ہے۔

تیسرا نظریہ یہ ہے کہ جنین ایک انسان بالقوہ (ممکنہ انسان) ہے جو جنین کے مرحلے کے بعد اگلے مرحلہ میں انسان میں تبدیل ہوتا ہے۔

پس مجموعی طور پراسقاطِ حمل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جنین ابھی ماں کے بدن میں ہے تو ماں ہی یہ فیصلہ کر سکتی ہے کہ وہ اسے دنیا میں لانا چاہتی ہے یا نہیں۔

جنین کو زندگی کا حق حاصل ہے اور ہمیں کسی دوسرے شخص کی جان لینے کی اجازت نہیں ہےلیکن مخالفین کا کہنا ہے کہ جنین کو زندگی کا حق حاصل ہے اور ہمیں کسی دوسرے شخص کی جان لینے کی اجازت نہیں ہے اور دلچسپ بات ہے کہ جنین اپنے چھٹے ہفتے سے ہی ردعمل ظاہر کرنا شروع کر دیتا ہے جو کہ اس کی زندگی کا ثبوت ہے۔     

*اگر اسقاط حمل کیا جائے تو اسلامی شریعت کے مطابق اس کی دیت کیا ہے؟

حجت الاسلام مرتضوی: حکمِ تکلیفی کے مطابق اسلام میں اسقاطِ حمل حرام ہے اور یہ حرام ہونا جنین  کےشروع سے آخر تک فرق نہیں کرتا۔ اس حکمِ تکلیفی کے علاوہ اسلام نے ایک حکمِ وضعی کو بھی بیان کیا ہے جو اسقاطِ حمل کے عمل کی "سزا اور مجازات" ہے۔ جن روایات میں اسقاطِ حمل کی سزا اور مجازات بیان ہوئی ہے انہی روایات سے یہ حرام ہونا بھی سمجھا جاتا ہے۔

اسلام میں ہر مرحلے کے لئے دیت کا تعین کیا گیا ہے اور ہمارے پاس دیت کے حوالے سے متعدد روایات موجود ہیں اور اسی دیت کے وجود سے ہی ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اسقاطِ حمل تمام مراحل میں حرام ہے اور شریعت میں اس کی اجازت نہیں ہے۔

*اسقاط ِحمل کی سزا کیا ہے؟

حجت الاسلام مرتضوی: مجازات کے قانون کے مطابق اسقاطِ حمل کے لئے سزاؤں میں جنین کے مختلف مراحل پر دیہ کے علاوہ قید و بند کا قانون بھی موجود ہے۔ جنین میں روح پڑنے کے بعد اسقاطِ حمل کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے اور صرف بعض فقہاء اور مراجع نے اس کی اجازت صرف ایسی صورت میں دی ہے جہاں ماں کی جان کو خطرہ ہو۔

خلاصہ یہ کہ چار ماہ کی عمر سے پہلے اسقاط حمل حرام ہے ما سوائے ثانوی موضوعات جیسا کہ اضطرار، مشقت اور ماں کی جان بچانا وغیرہ کہ جن میں اسقاط حمل جائز ہے بشرطیکہ اس کی شرائط پوری ہوں لیکن چار ماہ کے بعد اسقاطِ حمل کی قطعاً اجازت نہیں ہے جب تک کہ ماں کی جان کو خطرہ نہ ہو۔ جس کا حکم بھی صرف بعض فقہاء نے دیا ہے۔

*آخر میں ہمیں دنیا میں اسقاطِ حمل کے پسِ پردہ حقائق کے بارے میں بتائیں۔

ڈاکٹر رضائی: میں 1910ء سے طبی اخلاقیات کی تعلیم دے رہا ہوں اور میں نے ہمیشہ کہا کہ اسقاطِ حمل دنیا میں ایک نہایت ہی گھمبیر مسئلہ ہے۔جیسا کہ دنیا میں مسلمانوں کی آبادی کی شرح کافی زیادہ تھی تو بعض پسِ پردہ اسلام دشمن عناصر نے مسلمانوں کے ذہن میں یہ ڈالنا شروع کر دیا کہ شاید صاحبِ اولاد ہونا ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے یا یہ کہ مثلاً فیملی پلاننگ جیسے منصوبوں کا وجود میں آنا یہ سب اسلام کو جمود کی طرف لانی کی مذموم کوششیں تھیں جن پر ہمارے اکثر اسلامی ممالک اپنے زعمِ باطل میں اسے روشن فکری سمجھ کر چل پڑے اور آج یہ وضعیت ہے کہ بدقسمتی سے اسقاطِ حمل کثیر تعداد میں انجام پاتا ہے اور تولد کی شرح میں کمی آتی جا رہی ہے۔

اسلام میں تکاثرِ اولاد کو افتخار جانا گیا ہے اور ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے حالانکہ اسلام میں تکاثرِ اولاد کو افتخار جانا گیا ہے اور ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے چونکہ خداوند متعال کی نظر میں انسانی زندگی کی بہت اہمیت ہے۔ لہذا اس مسئلہ کو بہت اہمیت دینے اور انسانی جان کی قدر و قیمت کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم دشمن کے ان ہتھکنڈوں کا شکار نہ ہوں۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
4 + 2 =