۳ مرداد ۱۴۰۰ | Jul 25, 2021
مولانا تقی عباس رضوی

حوزہ/ عصر حاضر کی قیامت خیزیاں کہ اب عورت گھر کے ساتھ باہر کی  بھی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہے۔نیز گھر کی زینت سمجھی جانے والی عورتوں کوآج  گلی کوچوں ،پارکوں، اشتہاروں، دفتروں، بازاروں اورشاپنگ سینٹر وں کی زینت بنادیا گیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اہل بیت (ع) فاؤنڈیشن ہندوستان کے نائب صدر حجت الاسلام مولانا تقی عباس رضوی نے کہا کہ عہد حاضر میں آزادیٔ نسواں کو دیکھتے ہوئے  سولہویں اور سترہویں صدی  کی تاریخ کے وہ بدھے  الفاظ نگاہوں  سے روبرو ہونے لگتے ہیں کہ جب  بنت حوا کو  صرف ایک سامانِ تفریح سے زیادہ کوئی وقعت نہیں تھی۔زمانہ کچھ اور دور چلا اورصنعتی انقلاب نے  جب کروٹیں لی تو  پھول  کہلانے والی صنف نازک کو گھر سے نکال کر اسے بھی مشین کی ایک پرزہ بنا دیا۔

بنایا ہے مصور نے حسیں شہکار عورت کو
الگ پہچان دیتا ہے کہانی کار عورت کو

حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام  نے فرماتے ہیں :بے شک ! عورت ریحانہ (پھول) ہے کوئی سورما نہیں۔ پس اس کے ساتھ ہر حال میں نرمی برتو۔ اس کے ساتھ اچھی مصاحبت رکھو تاکہ  تمہیں پاکیزہ زندگی نصیب ہو۔
اگر تاریخ پر ایک اچٹتی نظر ڈالیں تو یہ معلوم ہوجائے گا کہ  بنی نوع انسان کی تاریخ میں انسانی معاشرہ کی تعمیروتشکیل اور اُس کے ارتقاء میں خواتین نے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے۔لیکن !جب خواتین صنعتی اکائیوں سے جڑنے لگیں تو آزادیٔ نسواں کی لہر چلی اور دیکھتے دیکھتے مرد اور عورت دونوں کو مساویانہ حقوق اور مراعات دینے کا مطالبہ شروع ہوا۔ مغرب میں عورت اب تمام اخلاقی اور فطری قیود سے آزاد ہونے لگی کیونکہ وہ آزادانہ طور پر اپنی معاشی زندگی کے شب و روز کی کارروائیوں کو طے کرنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کے لیے آزاد ہونے کی  فریاد کر ررہی تھی اس نالہ و فریاد کے نتیجے میں مغرب نے اسے Live in relation کا قانونی درجہ دے کر ایسا آزاد کیا کہ وہ اب بازیچہ اطفال کی مصداق اتم ہوکر رہ گئی ہے جس آزادی کا تماشا   آپ ہم  اپنی روز مرہ زندگی کے ہر ساعات و ایام میں دیکھ اور سن رہے ہیں ۔

مغرب کی  یہ منحوس تہذیب کے جراثیم مسلم سماج میں بھی اپنے پنجے گاڑنے لگے ہیں۔ مغربی  تہذیب،  بے حیا اور بد چلن خواتین کی نقالی کا جو المیہ ہمارے معاشرہ میں تیزی سے برہنگی اور بے لباسی کی صورت میں جلوہ گر ہورہا ہے وہ تمام ہمارے سماج میں تمام  جرائم کی ماں ہے ۔

ہم اور ہمارا سماج  جس قدر’’ ماڈرن‘‘ جدیدسے جدید ترہوتا جارہا ہے پردہ کا رواج محرم و نامحرم کے مسائل قریب قریب ختم ہوتت جارہے  ہیں اورنسل نو شرم و حیا جیسی نعمت سے محروم ہوتی جا رہی ہے !اس میں قصوروار ہمارے ملک کا میڈیا بھی ہے جس تَواتُر سے بچّوں اور بڑوں کو بےحیائی کا درس دے رہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ قابلِ غور ہے کہ جو نسلِ نو (نئی نسل) والدین کے پہلو میں بیٹھ کر فلموں ڈراموں کے گندے اور حیا سوز مَناظر دیکھ کر پروان چڑھے گی اس میں شرم و حیا ،محرم و نامحرم اور پردے  کا جوہر کیسے پیدا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ نسلِ نَو کی ایک تعداد شرم و حیا کے تصوّر سے بھی کوسوں دور دکھائی دیتی ہے۔ 

اسلامی تہذیب میں  ایک  معمولی پازیب کی آواز کو بھی پردہ میں رکھنے کا حکم ہے تو کیا یہ ممکن ہے کہ ایک حسین وجمیل جوان عورت کو لالی لپ اسٹک ، عطر و پرفیوم، پاوڈر اور زیب وزینت کی تمام فتنہ سامانیوں کے ساتھ کھلے چہرہ گھومنے کی اجازت ہوجائے، ہرگز نہیں!

جب ایک جوان  بے پردہ نیم برہنہ عورت کودیکھتا ہے تو رغبت کو پورا کرنے کیلئے اس کی طرف اس طرح لپکتا ہے جیسے ہلوائی کی دکان پر کھلی مٹھائیوں پر بِھن بِنھاتی مکھیاں یا قصاب کی دکانوں کے باہر بیٹھے کتے جو کھلے گوشت کے لوتھڑوں کو ٹک ٹکی نگاہوں سے دیکھا کرتے ہیں۔یہ لالچائی ہوئی  ہوس آلود نگاہوں کا انجام آبرو ریزی اور عصمت دری  کی شکل میں سامنے آتا ہے  

کیا اس صورت حال اور اس سماجی جرائم کی روک تھام ممکن ہے؟ 
امام خمینیؒ نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’عورت پردہ میں محض خود ہی محفوظ نہیں ہے بلکہ اس ایک پردے میں پورا سماج  محفوظ ہے...‘‘ عورت چھپی ہوئی خوبصورتی ہے جو کہ گھر میں ہی اچھی لگتی ہے۔ پردہ عورت کی زینت ہے، شرم و حیا اس کا زیور ہے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملک و سماج میں عصمت دری اور اجتماعی آبرو ریزی کے واقعات کی روک تھام کے لئے حکومت کو سخت سے سخت قانون بنانے اور اس پر فاسٹ ٹریک کوٹ کے تحت عملدرآمد ہونے کی ضرورت ہے مگر! ساتھ ہی ساتھ  جہاں ا سلام نے آزادی نسواں ،خلوت ، زنا ،  بے حیائی اور فحاشی  جیسی دیگر چیزوں کے ارتکاب  پر سخت سزائیں تعیین کی ہیں وہیں عورتوں کو بلاضرورت گھر سے نکلنے  اور سرِعام اپنی زینت کے اظہار  پر روک بھی لگائی ہے ۔

ارشاد خداوندی ہے کہ:  ’’مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے کہ جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیںاور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد یا اپنے خسر کے یا اپنے بہن، بھائیوں اور بچوں کے۔‘‘

مگر افسوس! عصر حاضر کی قیامت خیزیاں کہ اب عورت گھر کے ساتھ باہر کی  بھی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہے۔نیز گھر کی زینت سمجھی جانے والی عورتوں کوآج  گلی کوچوں ،پارکوں، اشتہاروں، دفتروں، بازاروں اورشاپنگ سینٹر وں کی زینت بنادیا گیا ہے!
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ

یہ کہنا یہاں ضروری ہے کہ  جب سےعورت گھر کی چہار دیواری سے نکل کر محفلوں اور بازاروں کی زینت بنی ، خاندانی نظام تباہی کا شکار اور طلاق ،زنااور عصمت دری کے واقعات  و واردات نے سماج کو جکڑ رکھا ہے ماہرین کہتے کہ انڈیا جیسے ملک  میں ریپ کی گئی عورتوں کی تعداد میں سالانہ 2 لاکھ تک کا اضافہ ہو رہا ہے جبکہ رپورٹ میں صرف 5.8فیصد کیس ہی فائل کئے جاتے ہیں۔باقی 94.2 فیصد بدنامی کے خوف سے رپورٹ ہی نہیں لکھواتے نیز یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگرپورے ملک میں عصمت دری ،جنسی استحصال وغیرہ کی شرح اکٹھی کی جائے تو  98.4 فیصد تک جاپہنچتی ہے جو ہر والدین اور صاحب عقل و فہم کے لئے باعث تشویش ہے ۔ 

جنسی زیادتی کے مجرم یقیناً ایک خونخوار درندہ سے کم نہیں یہ قابل عتاب ہیں اور جنسی زیادتی ہر سماج کا ناسور اور ناقابلِ برداشت جرم ہے مگر! اس کے اسباب و محرکات بھی قابلِ غور ہیں:
1-ہماری روز مرہ زندگی کے ہر شعبے( دفاتر، کارخانجات، اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں ) میں مرد و عورت کا باہمی اختلاط ہے جسے اُمّ الخبائث کہا جائے تو شاید غلط نہ ہو جو گھر و خاندان اور سماج کی تباہی کا سبب ہے ۔
 باہمی اختلاط کے نتائج میں میل جول،پیار محبت ،اسقاط حمل ،بھاگ کر شادی ، ایڈز اور خودکشی جیسی مہلک بیماریاں ہیں ۔
2-فحاشی اور عریانیت پر مبنی  چھوٹے اور چست لباس ۔
3-غیرمحرموں سے بے تکلفانہ (فون، میسج، چارٹ،ملنا ملانا وغیرہ جیسی چیزوں سے) روابط اور سیر و تفریح ۔
4-بھڑکیلے، اَدھ کٹے جسم سے چپکے اور جسم کے نشیب و فراز کو نمایاں کرتے ہوئے لباس ۔
5-میکپ سے اَٹی شکل و صورت، اونٹ کے کوہان جیسےسر پر جوڑے، کاکل نکلے بال اور ہیپی کٹ زلفیں وغیرہ بھی ریپ کے محرکات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔لہذا یک صاف ستھری سوسائٹی، پاکیزہ گھر و خاندان اور صالح معاشرے کے لئے مرد و عورت کے باہمی اختلاط کے تمام  مراکز کے بائیکاٹ کے ساتھ ساتھ عفت وپاک دامنی کو فروغ دینا  اور شرم و حیا، عفت و پاكدامني ،محرم و نامحرم کے حدود و حصار اور پردہ کی پاسداری وقت کا اہم تقاضا ہے۔

خواتین کا گھر کی چاردیواری سے ضرورت کے وقت مجبوری میں باہر آنا عیب نہیں مگر باہر نکلتے وقت شرعی پردے میں باہر نکلنا اور اپنی پارسائی کی حفاظت کرنا ایک دیندار عورت  کا شرعی اور دینی فریضہ ہے ۔

یاد رکھئے! اگر انسان خود شرم و حیا کے تقاضوں پر عمل پیرا ہو گا تبھی اس کی اولاد بھی ان صفات و خَصائل کی حامل ہوگی اور اگر وہ خود شرم و حیا کا خیال نہ رکھے گا تو اولاد میں بھی اس طرح کے خراب جراثیم سرایت کرجائیں گے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حیا کو مُتأثّر کرنے والے تمام عَوامل سے دور رہا جا ئے اور اپنے تَشَخُّص اور روحِ ایمان کی حفاظت کی جائے۔
پردہ ہے عورتوں کے لئے رحمتِ خدا
بے پردگی پہ لعنت پروردگار ہے

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
8 + 1 =