۳ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۳ شوال ۱۴۴۵ | Apr 22, 2024
سقط جنین

حوزہ/ ہندوستان کی سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک بڑا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ایک عورت کی ازدواجی حیثیت اسقاط حمل کے حق سے محروم کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتی۔ عدالت نے کہا کہ تمام خواتین محفوظ اور قانونی اسقاط حمل کی حقدار ہیں۔ غیر شادی شدہ خواتین یا لیو ان ریلیشن شپ میں رہنے والی خواتین کو میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی (ایم ٹی پی) ایکٹ سے خارج کرنا حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،دہلی/جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی زیرقیادت اور جسٹس اے ایس بوپنا اور جے بی پریڈوالا پر مشتمل بنچ نے یہ تاریخی فیصلہ سنایا ہے۔ انہوں نے اپنے فیصلے میں یہ کہا کہ ' میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی ایکٹ کے تحت شوہر کی طرف سے اسقاط حمل کے لیے کی جانے والی جنسی زیادتی کو بھی 'میریٹل ریپ' کے زمرے میں شامل کیا جانا چاہیے۔ ایم ٹی پی ایکٹ میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ خواتین کے درمیان کا فرق مصنوعی ہے اور یہ آئینی طور پر درست نہیں ہے۔ اس فیصلے سے وہ دقیانوسی سوچ کو چوٹ پہنچے گی جو صرف شادی شدہ خواتین کو ہی جنسی تعلقات بنانے کا حق دیتے ہیں۔ کسی خاتون کی ازدواجی حیثیت اسے ناپسندیدہ حمل ختم کرنے کے حق سے محروم کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتی ہے۔

اس فیصلے میں سنگل اور غیر شادی شدہ خواتین کو حمل کے24 ہفتوں تک میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی ایکٹ کے تحت اسقاط حمل کا حق حاصل ہے۔ یہ حق ان خواتین کو ہوگا جو اپنے ناپسندیدہ حمل جاری رکھنے پر مجبور ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ' جدید دور میں یہ قانون اس تصور کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کا ماننا ہے کہ شادی ہی کسی افراد کو حقوق دینے کا معیار طے کرتا ہے۔ ایم ٹی پی ایکٹ کو آج کی حقیقت پر غور کرنا چاہنے اور اسے پرانے اصولوں سے محدود نہیں ہونا چاہیے۔ قانون کو بدلتے سماجی حقائق کو ذہن میں رکھنا چاہیے'۔

عاالت نے کہا کہ غیر شادی شدہ اور سنگل خواتین کو اسقاط حمل سے روکنا لیکن شادی شدہ خواتین کو اس کی اجازت دینا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ غیر محفوظ اسقاط حمل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے کہا کہ 'غیر محفوظ اسقاط حمل زچگی کی اموات کی تیسری سب سے بڑی وجہ ہے۔ ہندوستان میں ہونے والے 60 فیصد اسقاط حمل غیر محفوظ ہوتے ہیں'۔ اگر خواتین کو اسقاط حمل کا قانونی حق نہیں دیا جاتا ہے تو وہ غیر قانونی راستہ اختیار کریں گے جو ان کے لیے غیرمحفوظ قدم ہوگا'۔

عدالت نے مزید کہا کہ "شادی شدہ خواتین بھی جنسی زیادتی کا شکار ہوتی ہیں۔ ایک عورت اپنی رضامندی کے بغیر اپنے شوہر کے ذریعہ قائم کیے گئے زبردستی جنسی تعلقات کی وجہ سے بھی حاملہ ہوسکتی ہے'۔ عدالت نے کہا کہ ' اگر کوئی عورت جنسی زیادتی سے حاملہ ہوتی ہے۔ تب اسے اسقاط حمل کی اجازت لینے کے لیے جنسی زیادتی کی ایف آئی آر درج کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر شادی شدہ خواتین بھی اپنے شوہر پر جنسی زیادتی کا الزام لگاتی ہے تب بھی اسقاط حمل کے لیے اسے کوئی ایف آئی آر کی ضرورت نہیں ہوگی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ 'رجسٹرڈ میڈیکل پٹیشنرز کو نابالغ کی شناخت ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں ہے اگر وہ پوسکو ایکٹ کے تحت اسقاط حمل کرواتی ہے'۔

واضح رہے کہ ہندوستان کی سپریم کورٹ کا فیصلہ تب سامنے آیا ہے جب عدالت ایک 25 سالہ غیر شادی خاتون کو اسقاط حمل کی اجازت دینے پر غور کر رہی تھی۔ گزشتہ ماہ ایک 25 سالہ غیر شادی شدہ خاتون کو 24 ہفتوں کا حمل ختم کرنے کی اجازت دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی کے تحت ایک شادی شدہ عورت کو اسقاط حمل کی اجازت دینا تو صحیح ہے لیکن ایک غیر شادی شدہ خاتون کو اس کی اجازت نہ دینے کی وجہ واضح نہیں ہوتی ہے۔ حالانکہ اس عمل میں خطرہ دونوں کے لیے یکساں ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .