۲۶ فروردین ۱۴۰۳ |۵ شوال ۱۴۴۵ | Apr 14, 2024
مولانا تطہیر زیدی

حوزہ/ بیٹی کو ڈاکٹر، انجینئر یا کچھ بھی بنائیں، مگر اسے تربیت ضرور دیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،جامع علی مسجد جامعتہ المنتظر لاہور میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے حجة الاسلام مولانا سید تطہیر حسین زیدی نے کہا ہے کہ بیٹیوں کو ایسی تربیت دینی چاہیے کہ وہ خاندان اور گھر کو سنبھالنے والی ہوں، بیٹی کو ڈاکٹر، انجینئر یا کچھ بھی بنائیں، مگر اسے تربیت ضرور دیں، پیامبر اسلام نے اپنی معصومہ بیٹی فاطمہ کو تین چیزوں کی تربیت دی۔ شوہر داری، خانہ داری اور اولاد کی تربیت۔ لیکن افسوس ہمارے ہاں ان چیزوں کی تربیت بہت کم دی جاتی ہے۔ بالخصوص بڑے گھروں کی بیٹیاں کھانا پکانا، آٹا گوندھنا وغیرہ نہیں جانتی ہوتی ہیں اور جب وہ ساس کی چکی میں پستی ہے تو یہ چیزیں سیکھ جاتی ہیں۔ لہٰذا مومنین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو سنت رسول پر عمل کرتے ہوئے ان تین چیزوں کی اچھی طرح تربیت کریں۔ اسلام اس بات سے منع نہیں کرتا کہ ہماری خواتین اور بچیاں ڈاکٹر، انجینئر، جج یا کسی اور پوسٹ پر فائز ہوں لیکن اگر ہماری بچیاں وہی کام کریں جنھیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے موضوع قرار دیا ہے تو یہ بہتر ہے۔

انہوں نے کہا اسلامی تعلیمات کے مطابق حکم دیا گیا ہے کہ جو روایت قرآن کے مطابق ہو اسے لے لو اور جو اس کے مخالف ہو اسے دیوار پر دے مار، وہ حجت نہیں ہے۔ مومنین کے پاس جب بھی بیٹی کا رشتہ آئے تو انہیں فوراً ٹھکرا نہیں دینا چاہیے۔ معصومین کی سنت کیخلاف بچی کی ڈولی اُٹھے گی تو وہ شادی با برکت ہونے کی بجائے باعث عذاب بن جائے گی۔ بیٹیوں کے رشتے میں ہمیں سنت رسول خدا کے مطابق ان کی مرضی بھی پوچھ لینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر رسم شادی کے کارڈز پر لکھا ہوا ہوتا ہے، جوڑے عرش پر بنتے ہیں۔ حالانکہ یہ جھوٹ ہے اور اگر یہ بات سچ ہوتی تو یہ جوڑے زمین پر ٹوٹتے کیوں ہیں؟ ہاں، البتہ ایک رشتہ ایسا تھا کہ جسے آسمان پر بنایا گیا اور وہ معصوم جوڑا علی و بتول کا ہے۔ رسول اللہ کی خدمت میں تقریبا تمام صحابی جناب سیدہ فاطمة الزہراسلام اللہ علیہا کا رشتہ مانگنے آئے، تو آپ نے فرمایا: فاطمہ ؑاللہ کی امانت میرے پاس ہے جو وہ فیصلہ کرے گا وہی میرے لئے منظور ہوگا۔ آخر کار وحی کے ذریعے سے رسول خدا کو حکم ہوا کہ تیری بیٹی فاطمہ کا کفو سوائے علی ابن ابی طالب کے اور کوئی نہیں ہو سکتے۔ رسول اللہ نے اصحاب سے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فاطمہ کا رشتہ علی سے طے کر دیا ہے۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ مومنین کے پاس جب بھی بیٹی کا رشتہ آئے تو انہیں فوراً ٹھکرا نہیں دینا چاہیے، بلکہ ان کے جواب میں کہنا چاہیے ہم سوچیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بیٹیوں کے رشتے میں ہمیں انہیں گائے بھینس اور بیل نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ سنت رسول خدا کو اپناتے ہوئے ان سے مرضی بھی پوچھ لینی چاہیے۔ کیا رسول اللہ نے اپنی بیٹی سے ان کے رشتے کے بارے میں ان سے مشورہ نہیں کیا تھا؟جذبات سے کام نہیں لینا چاہیے بلکہ بیٹی یا بہن کی رخصتی کے وقت بھی وہی کرنا چاہیے جس پر اللہ اور ا س کا رسول خوش ہوں۔ جب جناب سیدہ کی رخصتی کا وقت آیا کوئی بینڈ باجے والے نہیں بلائے گئے تھے۔ بلکہ جناب امیر المومنین اوران کے باراتی جب رسول اللہ کے گھر کی طرف روانہ ہونے لگے تو جناب سلمان کو حکم ہوا کہ وہ نعرہ تکبیر بلند کریں اور جیسے ہی تکبیر بلند ہوئی تو جناب رسول خدا کی طرف سے مدعو لوگ بھی اس تکبیر میں شامل ہوئے اور دونوں جانب سے تکبیر کی آواز گونجنے لگی اور صلوات و سلام اور تکبیر کے سائے میں رسول خدا کی بیٹی کو رخصت کیا گیا، اگر معصومین کی سنت کیخلاف بچی کی ڈولی اٹھے گی تو وہ شادی با برکت ہونے کی بجائے باعث عذاب بن جائے گی۔ بیٹیوں کی تربیت ایسی کریں جیسے رسول اللہ نے کی تھی۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .