۶ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۶ شوال ۱۴۴۵ | Apr 25, 2024
قریشی

حوزہ / ایران کے شہر ارومیہ کے امام جمعہ نے کہا: دین اسلام میں خاندان ایک مقدس ادارہ کی حیثیت رکھتا ہے اور خداوند متعال نے خاندان کی تشکیل کو قرآن کریم میں الہی نشانیوں میں سے ذکر کیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی ارومیہ سے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق، مغربی آذربائیجان میں رہبر معظم کے نمائندہ ولی فقیہ حجت الاسلام والمسلمین سید مہدی قریشی نے دین اسلام میں خاندان کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہا: خاندان کو اسلام میں ایک مقدس مرکز جیسی اہمیت حاصل ہے خداوند متعال نے خاندان کی تشکیل کو قرآن کریم میں الہی نشانیوں میں سے ذکر کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: قرآن کریم کے مطابق شادی کا اصل ہدف سکون کا حصول ہے لہذا اگر کوئی شخص شادی کے بعد سکون نہیں پاتا تو گویا وہ ازدواج کے حقیقی ہدف تک نہیں پہنچا ہے۔

مغربی آذربائیجان میں رہبر معظم کے نمائندہ ولی فقیہ نے مزید کہا: ازدواج کا اصل محور مودّت اور رحمت ہے اور اگر خاندان میں مودّت، مہربانی اور ہمدردی نہ ہو تو خاندان دنیاوی زندگی کی راہ پر صحیح طرح گامزن نہیں رہ سکتا۔

شہر ارومیہ کے امام جمعہ نے مشترکہ زندگی میں میاں بیوی کی باہمی ہم آہنگی کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا: جب تک کوئی شخص کنوارہ ہوتا ہے تو وہ اپنے ذاتی مفادات کے بارے میں سوچتا ہے لیکن شادی کے بعد دو طرفہ مفادات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا: میاں بیوی کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کی خوشیوں کی خاطر زندگی میں اپنی کچھ خواہشات کو ترک کریں اور اپنے جیون ساتھی کی خواہشات کا احترام اور اس کا بھرپور خیال رکھیں۔

حجۃ الاسلام والمسلمین سید مہدی قریشی نے مشترکہ زندگی میں پیش آنے والے بعض اختلافات کو زندگی کا ایک ناگزیر حصہ قرار دیا اور کہا: صرف معصومین علیہم السلام ہیں جن کی زندگیوں میں اختلافات نہیں ہوتے۔ مومن مرد و عورت کو چاہئے کہ وہ اپنی مشترکہ زندگی میں ائمہ علیہم السلام کو نمونہ قرار دیں۔ مشترکہ زندگی میں اختلافات کو دور کرنے کا معیار "دستوراتِ دین پر عمل" ہونا چاہئے۔

انہوں نے مزید کہا: اگر دستوراتِ دین پر عمل زندگی کا معیار قرار پائے تو زندگی میں معمولی سا فرق بھی پیدا نہیں ہوتا اور اگر پیدا ہو بھی جائے تو فوراً حل ہو جاتا ہے۔

خاندان کو اسلام میں اہم ترین اور مقدس ترین مرکز کی حیثیت حاصل ہے

خاندان کو اسلام میں اہم ترین اور مقدس ترین مرکز کی حیثیت حاصل ہے

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .