۲۶ فروردین ۱۴۰۳ |۵ شوال ۱۴۴۵ | Apr 14, 2024
اسماعیل رضوان

حوزه/فلسطینی تحریک حماس کے سینیئر رہنما ڈاکٹر اسماعیل رضوان نے کہا کہ امام خمینی (رح) کا عقیدہ تھا کہ عالمی استکبار کا مقابلہ صرف عوامی اور مسلحانہ مزاحمت و مقاومت کے ذریعے کیا جا سکتا ہے اور اسی بنیاد پر امام راحل (رح) نے شہنشاہی نظام کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور فلسطین کی حمایت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شہید سردار قاسم سلیمانی کو انقلابِ اسلامی ایران کی مقبول ترین شخصیات میں سے اور عالمی استکباری قوتوں کے خلاف جدوجہد کی ایک علامت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اسلامی دنیا کے اس عظیم شہید نے کبھی اسلام اور دنیا کے مظلوموں کی عزت کے سوا کچھ نہیں سوچا اور اپنی زندگی ظالموں کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے گزاری اور ہمیشہ رہبرِ معظم کے فرامین پر عمل کرتے رہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی نے دلوں کے سردار شہید قاسم سلیمانی کی تیسری برسی کے سلسلے میں، فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے رہنما ڈاکٹر رضوان اسماعیل سے خصوصی انٹرویو کیا ہے جس کا متن کچھ یوں ہے:

حوزه: شہید قاسم سلیمانی کی مزاحمتی جدوجہد کا مشرق وسطیٰ میں کیا اثر ہے؟

فلسطین اور مزاحمتی محور نے خطے میں ایک ایسے عظیم ہیرو کو کھو دیا جس نے صہیونی ناپاک منصوبوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور خطے میں اپنے افکار کو مستحکم کیا۔ ان کے افکار کی بنیاد طاقت، حوصلہ اور صہیونی دشمن کے خلاف جدوجہد کرنے کیلئے خطے میں مزاحمتی محاذوں کو فروغ دینے پر مبنی تھی، اس سلسلے میں ڈیٹرنس مساوات پیدا کرنے کیلئے مزاحمتی محاذ کو شہید قاسم سلیمانی کی مکمل حمایت حاصل تھی۔

حوزه: امام خمینی (رح) اور رہبرِ انقلابِ اسلامی کے فکر و عمل میں مزاحمت و مقاومت کا کیا مقام ہے اور دیگر میدانوں میں مزاحمتی محاذ کا کردار کیا ہے؟

امام خمینی (رح) کا عقیدہ تھا کہ عالمی استکبار کا مقابلہ صرف عوامی اور مسلحانہ مزاحمت و مقاومت کے ذریعے کیا جا سکتا ہے اور اسی بنیاد پر امام راحل (رح) نے شہنشاہی نظام کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور فلسطین کی حمایت کی۔

حوزه: اقوام عالم اور حکومتوں کی مزاحمت کو شکست دینے کیلئے دشمنوں کے ناپاک عزائم کیا ہیں؟ سیاسی اور بین الاقوامی تعلقات میں شہید قاسم سلیمانی کے مزاحمتی افکار کو بیان کرنے کا طریقہ کار کیا ہے؟

دشمن قوموں کے مزاحمتی ارادوں کو ختم نہیں کر سکتا، کیونکہ آزاد قومیں مزاحمت و مقاومت کو عزت کا راستہ سمجھتی ہیں اور اسی بنیاد پر فلسطینی قوم تمام دشمنیوں کے باوجود ڈٹ کر کھڑی ہے۔ آج مزاحمتی و مقاومتی تحریکوں نے جدوجہد میں ایک نئی مساوات کا تعین کیا ہے۔ عرب اور اسلامی ممالک کی مظلومیت اور مزاحمت کے نظریات اور اس کے آزادی کے اہداف، علاقائی اور بین الاقوامی سیاست میں لوگوں تک پہنچانا ضروری ہے۔

حوزه: دنیا کی افراتفری اور مزاحمتی محاذ اور مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کے درمیان کیا تعلق ہے اور اسلامی مزاحمت کی حکمت عملی میں نرمی پر آپ کیا تجزیہ کریں گے؟

یہ ظالم دنیا صرف طاقت پر یقین رکھتی ہے اور قوموں کی آزادی کا احترام نہیں کرتی۔ فلسطین میں مزاحمت مسلسل ظالم اور جابر قوتوں کے خلاف کھڑی ہے۔ نرمی سے پیش آنے کا مطلب کمزوری نہیں ہے اور ایران نے جوہری مذاکرات کے دوران ریڈ لائن کا تعین کر کے کمزوری کا مظاہرہ نہیں کیا اور اپنی پالیسی سے پیچھے نہیں ہٹا۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .