۳۱ فروردین ۱۴۰۳ |۱۰ شوال ۱۴۴۵ | Apr 19, 2024
علامہ امین شہیدی

حوزہ/ امت واحدہ پاکستان کے سربراہ علامہ محمد امین شہیدی نے کہا کہ ایک فرقہ پرست تکفیری اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں ماراجائے تو قاتل کو انہی کی صفوں میں تلاش کرنے کی بجائے کیا دھشتگرد قاتل جماعت کو پاراچنار کے بے گناہ درجنوں مسلمانوں کے قتل عام کی کھلی چھوٹ دینی چاہئیے؟۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امت واحدہ پاکستان کے سربراہ علامہ محمد امین شہیدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاراچنار سے آنے اور جانے والی مسافر گاڑیوں پر ایک ماہ میں پانچ حملے کئے گئے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بے گناہ عورتوں بچوں اور بوڑھوں کا قتل عام کون اور کیوں کررہا ہے؟

علامہ محمد امین شہیدی کا کہنا تھا کہ اگر اسلام آباد میں قتل ہونے والے کالعدم سپاہ صحابہ کے مقتول مولوی عثمانی کے جنازے پر ھونے والی تقریریں ریاستی اداروں نے سنی ہیں تو قاتل کو پہچان کیوں نہیں پارہےہیں؟ کیا یہ تقریریں ریاست کے چہرے پر تھپڑ نہیں ہیں؟

امت واحدہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ٹارگٹ کرکے قتل کی گئی ڈاکٹر رقیہ نجف اور مقتول مولوی کے خون کی رنگت، جرم کی نوعیت، اور سزا میں کوئی فرق ہے؟

ایک فرقہ پرست تکفیری اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں ماراجائے تو قاتل کو انہی کی صفوں میں تلاش کرنے کی بجائے کیا دھشتگرد قاتل جماعت کو پاراچنار کے بے گناہ درجنوں مسلمانوں کے قتل عام کی کھلی چھوٹ دینی چاہئیے؟

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری ریاست کہاں ہے؟ ریاست کے ذمہ دارادارے کہاں ہیں؟ ملک کے بڑے بڑے منصف کہاں ہیں ؟ قاتلوں کو پکڑنے کی بجائے سیاسی مخالفین کی گھریلوں نجی زندگی کی ویڈیوز نشر کرنے والی خفیہ ایجینسیوں کو عوام کے ٹیکس سے خطیر تنخواہیں کیا اسی کام کی ملتی ہیں ؟۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .