۲۷ فروردین ۱۴۰۳ |۶ شوال ۱۴۴۵ | Apr 15, 2024
محمد بشیر دولتی

حوزہ/ میرا سلام ہو اس شاگرد پر جس کا اپنے استاد سے پیری مریدی کا رشتہ نہیں تھا ورنہ وہ بھی خاموشی اختیار کرتے یا ہاں میں ہاں ملاتے، بلکہ اس کا اپنے عظیم استاد کے ساتھ استاد و شاگردی کا رشتہ تھا۔

تحریر: محمد بشیر دولتی

حوزہ نیوز ایجنسی | انسان غلطیوں کا پتلا ہے۔ انسان سے نہ چاہتے ہوئے بھی بعض غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ شخصیت جتنی بڑی ہوگی، غلطیاں بھی اتنی ہی بڑی ہو جاتی ہیں۔

یہ بھی تاریخی حقیقت ہے بڑے لوگوں کی غلطیاں ان کی بزرگی اور مذہبی تشخص کی وجہ سے ایک نظریہ اور کبھی مسلک بھی بن جاتی ہیں ۔ معروف دانشور و مصنف لطیف جاوید اپنی کتاب میں اسی مشکل کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ موصوف تاریخ یونان کی ورق گردانی کرتے ہوئے یونان کے عظیم فلاسفر اور علم منطق کے بانی جناب ارسطو کی کچھ غلطیوں کا ذکر فرماتے ہیں۔ ارسطو افلاطون کا شاگرد خاص تھا جنہوں نے عقل و فکر کے کئی دریچے کھول دیئے تھے مگر اس عظیم فلسفی دانشور سے کچھ ایسی غلطیاں بھی سرزد ہوئیں کہ بعد میں سالوں سال کوئی اس کے خلاف بول نہیں سکا۔ معروف ہے کہ ارسطو نے جب کہا کہ "عورت کے دانت اور پسلیاں مردوں سے کم ہوتی ہیں" ، "فضا سے ایک وزنی اور ایک کم وزنی چیز کو ایک ساتھ زمین پر پھینکیں گے تو وزنی چیز جلدی زمین پر گرے گی" ۔"ارسطو ان کے علاؤہ زمین کو ساکن اور کائنات کا مرکز مانتے تھے"۔

ایک عرصے تک یونانی لوگ اسے ایک فلسفیانہ و عالمانہ تحقیق سمجھتے رہے۔ کسی نے بھی اپنی بیوی کے دانت گننے کی زحمت نہ کی۔

اسی طرح "ڈاکٹر شبیر احمد" اپنے رسالے "بزم کہکشاں" میں لکھتے ہیں کہ ارسطو نے کہا : "عورت کے گردے نہیں ہوتے، چونکہ وہ مؤنث ہے تو کسی شاگرد نے پوچھا حضور پھر بکریوں کے گردے کیوں ہوتے ہیں، جبکہ وہ بھی مؤنث ہے؟ اس پر ارسطو نے کہا تھا کہ بکری کی بات اور ہے"۔

میرا سلام ہو اس شاگرد پر جس کا اپنے استاد سے پیری مریدی کا رشتہ نہیں تھا ورنہ وہ بھی خاموشی اختیار کرتے یا ہاں میں ہاں ملاتے، بلکہ اس کا اپنے عظیم استاد کے ساتھ استاد و شاگردی کا رشتہ تھا۔

ارسطو کی غلطیوں کو منوانے میں ان کے عقیدت مند و پیری مریدی کرنے والے نام نہاد شاگردوں کا بھی بڑا کردار تھا۔

عورتوں کی پسلیوں اور دانتوں کے بارے میں غلط مقولے کو ثابت کرنے میں یونان کے دوسرے اہل علم حضرات کو شاید ایک زمانہ لگا ہوگا۔

قبل مسیح کے ارسطو کے خود ساختہ سائنسی نظرئے کو باطل قرار دینے کے لئے صدیوں بعد گلیلو کو "پیسا" کے مینار سے ایک بھاری اور ایک ہلکا پتھر گرا کر ثابت کرنا پڑا کہ یہ ایک ہی رفتار سے زمین پر گرتے ہیں۔

قبل از مسیح ارسطو کا زمین کو ساکن ، کائنات کا مرکز اور چاند و سورج کو زمین کے گرد گھمانے کا نظریہ اب محکم دینی نظریہ بن چکا تھا۔ اسے اب کلیسا نے اپنی تحریف شدہ دینی کتابوں کے متن میں شامل کیا تھا۔

اس نظرئے کو غلط ثابت کرنا گلیلو کے لئے آسان نہیں تھا مگر سقراط مزاج گلیلو نے سقراط کے شاگرد کے شاگرد کی اس غلط و مقدس نما نظرئے کو باطل ثابت کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا تھا۔ یہ چونکہ اب ایک پختہ دینی نظریہ بن چکا تھا اس لئے اسے کسی "مینار" یا "منبر" پہ چڑھ کر ثابت کرنا اتنا آسان کام نہیں تھا۔گلیلو نے اس مفروضے کو اپنے سائنسی تحقیق سے غلط ثابت کیا۔

اس مقدس نما غلط نظرئے کو باطل ثابت کرنے پر گلیلو کو دار کی بلندیوں یا تاریک کوٹھیوں میں پہنچایا جاسکتا تھا۔

گلیلو نے بہ بانگ دھل کہا کہ زمین ساکت نہیں متحرک ہے۔ سورج زمین کے نہیں، بلکہ زمین، سورج کے گرد گھومتی ہے۔ اس پر عظیم ماہر فلکیات کو دلائل پیش کرنی پڑیں، پھر کیا تھا کہ ہرطرف سے توہین مذہب کا نعرہ بلند ہوگیا، کفر و شرک کی صدائیں آنے لگیں، مقدس اعتقاد کی توہین کا مجرم ٹھہرا، عدالت میں توہین مذہب کا مقدمہ چل گیا۔ عدالت نے عمر قید کی سزا سنادی ۔

کچھ ایسی صورت حال اس وقت پاکستان میں بھی ہے۔

میں مانتا ہوں کہ جو زیادہ فعالیت دکھاتے ہیں ان سے غلطیاں بھی ہوتی ہیں۔ جو ذیادہ بولتے ہیں وہ کم بولنے والوں کی نسبت غلطی ذیادہ کرتے ہیں۔

اگر کوئی خطیب یا استاد سبقت لسانی کے سبب کوئی بات یا حدیث کی عبارت غلط پڑھ لے تو کوئی بڑی بات نہیں ہے۔

اسی غلط عبارت کو بعینہ ان کے شاگرد منتشر کریں یا پھر اسی غلطی کو ہی درست سمجھیں تو یہ بہت بڑا المیہ ہے۔

اسی طرح نظریات میں بھی اگر کوئی غلطی کر جائیں تو چونکہ انہوں نے کہا ہے اس لئے صحیح ہے کہنا بھی علم اور تحقیق کی دنیا میں سب سے بڑا المیہ ہے۔

حالیہ دنوں میں الیکشن کے موضوع پر ایک دوست سے تھوڑی بحث ہوئی تو اس نے مجھے سقیفائی کہہ دیا، امامت کا منکر بھی قرار دیا۔

میں نے بصد احترام پوچھا کہ بھائی میں سقیفائی کیسے ہوا؟ امامت کا منکر کیسے ہوا؟

تو اس نے پرجوش و یقین سے کہا: امامت کے مقابلے میں سقیفہ میں جمہوری نظام وجود میں آیا تھا۔آپ چونکہ جمہوری سیاست کے حامی ہیں اس لئے سقیفائی ہیں، امامت کے منکر ہیں۔

اس جملے نے مجھے چونکا دیا اور تحقیق کرنے پر مجبور کیا۔ تحقیق کے بعد میرا یقین اور مضبوط ہوا کہ یہ بہت بڑی اشتباہ ہے جو بعض جوانوں یا شاگردوں کے ذہن میں ڈالا گیا ہے۔ دوسرے کو فورا امامت کے دائرے سے نکالنا ابن تیمیہ کی روش ہے۔کوئی بھی شیعہ اعتقاد میں ابن تیمیہ کا پیروکار نہیں ہوسکتا۔

تاریخی اعتبار سے سقیفہ میں سارے مسلمان اکھٹے نہیں ہوئے تھے۔ وہاں تو سارے انصار بھی موجود نہیں تھے۔

مہاجرین میں سے تو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے علاؤہ کوئی نہیں آیا تھا۔

جوانوں کو چاہئے کہ وہ تاریخ سقیفہ پر مسلمانوں کی مستند تاریخی کتابوں کا ایک دفعہ ضرور مطالعہ کریں۔ مستند تاریخی کتاب تاریخ طبری میں روایت ابی مخنف، روایت جوہری (جسے قدیم ترین کتاب سقیفہ اور فدک سے )ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں اور روایت خلیفہ دوم کو صحیح بخاری میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔

سقیفہ کی ابتداء جہاں سے ہوئی وہ سعد بن عبادہ کا چبوترہ تھا۔ یہاں بظاہر بعض مہاجرین رسول خدا کے کفن دفن میں شرکت کرنے کی بجائے سعد بن عبادہ کی عیادت کے نام پر جمع ہوئے پھر ابتدائی گفتگو میں بعد از رسول خدا حکومت کو انصار کا حق سمجھ کر اپنے رئیس سعد بن عبادہ کو اپنی قربانیوں و خدمات کے عوض مسلمانوں کا حاکم بنانا چاہ رہے تھے۔

حضرت ابوبکر و عمر کو جب یہ خبر ملی تو مہاجرین میں سے فقط یہ دو نفر سقیفہ بنی ساعدہ میں پہنچے۔ان دونوں شخصیات نے مہاجرین اور قریش کی فضیلت اور رسول خدا سے قربت و رشتہ داری کی بناء پر مہاجرین قریش کو حکومت کا صحیح حقدار قرار دیا ۔ المختصر انہیں فضیلتوں کے سبب حضرت عمر نے حضرت ابوبکر کو حاکم کے طور پر منتخب کیا اور سب سے پہلے خود حضرت عمر نے بیعت کی۔

حضرت سعد بن عبادہ نے اسی وقت کھل کر مخالفت کی اور حضرت عمر کے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا لیکن اوس و خزرج کے قدیمی اختلافات کے سبب دونوں طرف کے موجود بزرگان نے قبول کیا۔

اس کے باوجود حضرت سعد بن عبادہ کے انکار پر ان میں اور حضرت عمر کے درمیان انتہائی تلخ گفتگو ہوئی ان تلخ باتوں کو تاریخی کتابوں نے محفوظ کی ہے ۔

حضرت سعد بن عبادہ نے آخر وقت تک حضرت ابو بکر کی بیعت نہیں کی ۔

آخر کار شہر بدر ہوئے راستے میں قتل ہوئے اور یہ واحد قتل ہے جس کا الزام آج تک تاریخ میں جنات کے سر پر لگا ہوا ہے۔

تاریخی حقیقت یہ ہے کہ سقیفہ میں امامت کی نفی تو ہوئی مگر یہ کام جمہوریت کے ذریعے نہیں ہوئی تھی۔

دستہ اول کی کتابوں میں اس میں شریک لوگوں کی تعداد تیس سے زیادہ نہیں ہے۔ سقیفہ میں موجود افراد سے بھی رائے طلب نہیں کی گئی۔

بنابرایں سقیفہ کا فیصلہ تیس افراد کا بھی نہیں تھا تو یہ جمہوریت کیسے ہوئی؟

دراصل ہمیں جمہوریت کی نفی کرنے کی بجائے جمہور کو شعور دینے کی ضرورت ہے۔ شعور و جمہوریت نہ ہونے، فرد واحد کے پاس ویٹو پاور ہونے اور اقربا پروری کی وجہ سے ہی حضرت عمر کی چھے نفری شورای میں حضرت علی ع کو اپنے ووٹ کے علاؤہ اس وقت فقط حضرت زبیر کا ووٹ ملا تھا۔

خود امام علی ع کے فرمان کے مطابق شورای میں صلاحیت و حق دیکھنے کی بجائے رشتہ داری اور تعلقات کی بنا پر رائے یا ووٹ دیا گیا۔(خطبہ شقشقیہ، نہج البلاغہ)

پچیس سال بعد اسی عوام یا جمہور کو شعور ملا تو سب کے سب امام علی علیہ السلام کے قدموں میں گر پڑے۔

تاریخ اسلام میں امام علی کی ظاہری پانچ سالہ حکومت پہلی مرتبہ جمہور کے ذریعے وجود میں آئی ۔ امام علی ع کو سارے مہاجر و انصار و اہل مدینہ کے علاؤہ مصر سمیت دیگر مناطق سے آئے ہوئے مسلمانوں نے حکومت کے لئے منتخب کیا۔

مشروعیت امام علی ع کے پاس پہلے سے موجود تھی مگر حاکم کے لئے مقبولیت شرعاً شرط ہے عوام کے شعور نے اس شرط کو بھی پورا کردیا یوں رسول خدا کے بعد پہلی مرتبہ مشروعیت کے بعد مقبولیت کے ساتھ امام علی ع نے حکومت قائم کی ۔

اس تاریخی حقیقت کو کوئی رد نہیں کرسکتا۔ امام معصوم ہونے کے باوجود حکومت کو قبول کرنے کے بارے میں خود امام علی ع نہج البلاغہ میں ارشاد فرماتے ہیں کہ (اگر رائ دینے ،ووٹ دینے) یعنی بیعت کرنے والوں کی موجودگی اور مدد کرنے والوں کے وجود سے مجھ پر حجت تمام نہ ہو گئی ہوتی اور وہ عہد نہ ہوتا جو اللہ نے علماء سے لے رکھا ہےکہ وہ ظالم کی شکم پری اور مظلوم کی گرسنگی پر سکون و قرار سے نہ بیٹھیں تو میں خلافت کی باگ دوڑ اسی کے کندھے پر ڈال دیتا""

گویا امام معصوم نے عوام کی قبولیت کو حجت سمجھ کر حاکمیت کو قبول کیا۔

تاریخ اسلام میں امام علی علیہ السّلام کی ظاہری حکومت کے بعد کوئی جمہوری حاکم ہی نہیں آیا۔ سقیفہ تو کوئی جمہوری فیصلہ ہی نہیں تھا۔ اسے جمہوری فیصلہ قرار دینے سے کئی اعتقادی، اخلاقی و معاشرتی مسائل پیش آئیں گے۔

یاد رکھیں! تاریخ میں پہلی مرتبہ ملک خدا داد پاکستان اسلامی جمہوریہ کے نام پر وجود میں آیا مگر یہاں مکمل دینی و اسلامی آئین ہونے کے باوجود نہ مکمل دینی قوانین پر عمل ہوا نہ ہی حقیقی معنوں میں جمہوریت کو پروان چڑھنے دیا گیا ۔ انقلاب اسلامی ایران کے ذریعے امام خمینی اور رہبر معظم آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ائ نے اسلامی جمہوریہ اور مردم سالاری کے نام پر دوبارہ جمہوری حق کا احیاء کر کے مسلمانوں کو شہنشاہیت، آمریت اور موروثی حکمرانوں سے پہلی مرتبہ آزادی دلائی ہے، لہذا آئیں! تاریخ میں خواص کے عمل کو جمہور کا عمل قرار دینے کی بجائے موجودہ عوام یا جمہور کو شعور دیں، بصیرت دیں، جرات دیں تاکہ دین دار، باصلاحیت، حق گو، بےخوف اور بےباک لوگ آگے آسکیں، تاکہ ہمارے ملک میں ایک حقیقی اسلامی جمہوریہ کا نظام وجود میں آسکے۔

حوالہ جات:

1.نہج البلاغہ،ترجمہ مفتی جعفر حسین

2.تاریخ اور تعارف فلسفہ،لطیف جاوید

3.بزم کہکشاں، ڈاکٹر شبیر احمد فلوریڈا امریکہ

نوٹ: حوزہ نیوز پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں حوزہ نیوز اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .