۲۳ تیر ۱۴۰۳ |۶ محرم ۱۴۴۶ | Jul 13, 2024
تحریک تحفظ آئین پاکستان

حوزہ/ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے زیر اہتمام ایرانی صدر شہید ابراہیم رئیسی اور ان کے رفقاء کی شہادت کی مناسبت سے تعزیتی ریفرنس اور موجودہ پاکستان کی سیاسی صورتحال پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے زیر اہتمام ایرانی صدر شہید ابراہیم رئیسی اور ان کے رفقاء کی شہادت کی مناسبت سے تعزیتی ریفرنس اور موجودہ پاکستان کی سیاسی صورتحال پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے صدر محمود خان اچکزئی، سربراہ سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری سید ناصر عباس شیرازی، ساجد ترین، آخونزادہ حسین و دیگر قائدین نے شرکت کی۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے قائدین نے اپنے خطاب میں ایرانی صدر اور آپ کے ساتھیوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی قوم سے دلی تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور سوگوار خاندانوں کے لئے صبر جمیل کی دعا بھی کی ہے۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے کہا کہ غم کی اس گھڑی میں پوری پاکستانی قوم اپنے ایرانی بھائیوں کے ساتھ برابر کی شریک ہے۔

ایم ڈبلیو ایم کے رہنما سید ناصر عباس شیرازی نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر اسلامی جمہوریہ ایران حجت الاسلام والمسلمین سید ابراہیم رئیسی پوری دنیا کے مظلوموں کے لیے محکم و مضبوط آواز تھے، وہ فلسطینی مظلومین کے سب سے بڑے حامی اور مددگار تھے، عالم اسلام میں وحدت کے فروغ کے لیے آپ نے بھرپور کردار ادا کیا اور عملی اقدامات سے مسلم ممالک کے درمیان بہتر تعلقات اور ہم آہنگی کو فروغ دیا، یہ نقصان کسی ایک ملک کا نہیں، بلکہ پورے عالم اسلام کا نقصان ہے، انکا آذربائجان کا حالیہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل تھا، کیونکہ آذریوں کے اسرائیل کے ساتھ بھی دوطرفہ گہرے تعلقات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج کے پروگرام کا بنیادی ایجنڈا سب پر واضح ہے جو کہ اس تحریک کا نام اور عنوان بھی ہے، ملک میں آئین پاکستان کی بالادستی اور تقدس کی بحالی، جس پر ہم نے ملک بھر میں تحریک شروع کی ہوئی ہے اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے روابط ہمارے اعلامیے کا حصہ ہیں، جن میں سے ایک اہم ترین شعبہ آپ میڈیا کے افراد کا ہے، سب جانتے ہیں کہ میڈیا کے نمائندوں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے جو کہ عوامی رائے عامہ بنانے میں کلیدی اور بنیادی کردار ادا کرتے ہوئے عوام میں آگاہی و شعور کو اجاگر کرتے ہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .