۲۴ تیر ۱۴۰۳ |۷ محرم ۱۴۴۶ | Jul 14, 2024
جموں و کشمیر

حوزہ/ نواسہ سول حضرت امام حسین ؑ کے نمائندہ خاص برائے کوفہ حضرت مسلم ابن عقیل ؑ کے یوم شہادت اور یوم عرفہ کی مناسبت سے جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کی جانب سے وادی کے اطراف و اکناف میں خصوصی تقاریب کا انعقاد ہوا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نواسہ سول حضرت امام حسین ؑ کے نمائندہ خاص برائے کوفہ حضرت مسلم ابن عقیل ؑ کے یوم شہادت اور یوم عرفہ کی مناسبت سے جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کی جانب سے وادی کے اطراف و اکناف میں خصوصی تقاریب کا انعقاد ہوا۔

اس سلسلے میں بڑے اجتماعات مرکزی امام باڑہ بڈگام اور قدیمی امام باڑہ حسن آباد میں منعقد ہوئے جن دیگر مقامات پر اس سلسلے میں مجالس عزاء کا انعقاد کیا گیا ان میں خاص طور پر امام باڑہ گامدو اور نوگام شامل ہیں ان مقامات پر دن بھر مرثیہ خوانی کی گئی اور دعاء عرفہ کی مجالس کا اہتمام کیا گیا۔

مرکزی امام باڑہ بڈگام میں انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجۃ الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی اور قدیمی امام باڑہ حسن آباد میں حجت الاسلام مولانا نثار حسین والونے نماز ظہرین کی پیشوائی کی اور حضرت مسلم ابن عقیل ؑکے کردار و عمل پر روشنی ڈالی اور یوم عرفہ کی فضیلت بیان کی حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے یوم عرفہ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے اس باعظمت دن کو نسل آدم ؑ کے تسلسل کا نقطہ آغاز قرار دیا جب حضرت آدم ؑ اور حضرت حواؑ جنت سے نکالے جانے کے تین سو سال بعد وادی عرفات میں ایک دوسرے سے ملے۔

انہوں نے کہا کہ یوم عرفہ توبہ و استغفار کی قبولیت کا ایک مخصوص دن ہے کیونکہ اسی روز محمد ؐ و آل محمد ؑ کے وسیلے سے جناب آدم ؑ کی توبہ قبول ہوئی۔

آقا حسن صفوی نے حضرت مسلم ابن عقیل ؑکے سفارتی مشن اور دلسوز شہادت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام حسین ؑ نے اپنے عمو زاد بھائی کو صرف اس مقصد کے لئے کوفہ روانہ کیا کہ وہ اہل کوفہ کی طرف سے موصول عہد و پیمان وفا پر مبنی ہزاروں خطوط کی اصلیت جان سکیں لیکن عین عرفہ کے روز یزیدی حکومت کے کارندوں نے حضرت مسلم ابن عقیل ؑ کو مسجد کوفہ کے بلند قامت گنبد سے گرا کر درجہ شہادت پر پہنچایا۔

آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کہا کہ حضرت مسلم ابن عقیل ؑ کا سانحہ شہادت معرکہ کربلا کا سرنامہ اور سفارت کاری کی تاریخ کا کرب ناک باب ہے۔ اس موقع پر آغا صاحب نے فلسطینیوں کی نجات کے لئے دعا کی۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .