حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام زین العابدین انسٹیٹیوٹ آف تعلیماتِ قرآن و اہلبیت علیہم السّلام محرابپور سندھ کے تحت شہداء کانفرنس منعقد ہوئی؛ جس سے مرکزی جنرل سیکریٹری ذاکر علی شیخ نے خطاب کرتے ہوئے شہدائے ملت جعفریہ کی عظیم قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ شہید باقر النمرؒ اور شہید قاسم سلیمانیؒ کی با بصیرت اور تاریخ ساز شہادت ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک ایسا عظیم خلا ہے جو کبھی پُر نہیں ہو سکتا۔ یہ دونوں شخصیات محض افراد نہیں تھے، بلکہ ایک زندہ فکر، ایک مضبوط مکتب اور امتِ مسلمہ کے ضمیر کی آواز تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام شہداء کی قربانیاں ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں، جو نہ صرف ہمیں حق و باطل کے درمیان فرق سکھاتی ہیں، بلکہ پوری دنیا کو بیداری اور مزاحمت کا پیغام دیتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ شہید کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ شہید مرتا نہیں، بلکہ اپنے افکار، کردار اور مشن کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ شہید باقر النمرؒ نے ظالم نظام کے سامنے کلمۂ حق بلند کر کے یہ ثابت کیا کہ حق کی آواز دبائی نہیں جا سکتی، جبکہ شہید قاسم سلیمانیؒ نے امت کو عزت، خودداری اور مزاحمت کا عملی نمونہ پیش کیا۔ آج بھی اگر دشمن شہید قاسم سلیمانیؒ کا نام سنتا ہے تو خوف سے لرز اٹھتا ہے، کیونکہ شہادت نے ان کے راستے کو مزید مضبوط بنا دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہدائے مقاومت کی برسی کے اس موقع پر ہم امام زین العابدین انسٹیٹیوٹ کے نوجوانوں کو یہ یاد دہانی کرواتے ہیں کہ شہداء کے افکار، ان کی وصیت اور ان کے کردار کو اپنانا ہماری دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔ علم، شعور، وحدت اور تقویٰ کے ساتھ اس راستے پر چلنا ہی شہداء کے خون سے وفاداری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہداء کا خون ایک امانت ہے اور یہ امانت ہم سے بیداری، کردار سازی اور عملی جدوجہد کا تقاضا کرتی ہے۔









آپ کا تبصرہ