اتوار 4 جنوری 2026 - 13:21
ہماری شناخت امیرالمؤمنین علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام سے وابستہ ہے: آیت‌اللہ اراکی

حوزہ/ آیت‌اللہ محسن اراکی نے اعتکاف کے سلسلے میں منعقدہ تقریب «شکوۂ ایمان» اور شہیدِ مقاومت سردار حاج قاسم سلیمانی و دیگر شہدائے مقاومت کی یاد میں منعقد مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قوم کی عزت و ذلت کا اصل معیار ان کی شناخت سے وابستہ ہے، اور ایرانی قوم کی شناخت اہل‌بیت علیہم السلام سے گہرے ربط کے ذریعے تشکیل پائی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت‌اللہ محسن اراکی نے اعتکاف کے سلسلے میں منعقدہ تقریب «شکوۂ ایمان» اور شہیدِ مقاومت سردار حاج قاسم سلیمانی و دیگر شہدائے مقاومت کی یاد میں منعقد مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قوم کی عزت و ذلت کا اصل معیار ان کی شناخت سے وابستہ ہے، اور ایرانی قوم کی شناخت اہل‌بیت علیہم السلام سے گہرے ربط کے ذریعے تشکیل پائی ہے۔

اس تقریب میں مسجد امام حسن عسکری علیہ السلام قم المقدسہ میں موجود معتکفین شریک ہوئے۔ آیت‌اللہ اراکی نے کہا کہ «ایرانی ہونا» محض جغرافیائی عنوان نہیں، بلکہ یہ شناخت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام، امام حسین علیہ السلام اور ثقافتِ اہل‌بیت علیہم السلام سے وابستگی کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے، اور اسی وابستگی نے اس شناخت کا بنیادی معیار متعین کیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس شناخت کا سب سے اہم ستون «مقاومت» ہے۔ دینی تعلیمات میں مقاومت حق کے قیام، باطل کے مقابلے، دینِ خدا کے تحفظ اور انسانی تقدیر پر باطل کی بالادستی کو روکنے کا نام ہے۔ قرآن کریم محاذ ایمان کو ایسا محاذ قرار دیتا ہے جو زخموں اور نقصانات سے کمزور نہیں ہوتا بلکہ مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔

آیت‌اللہ اراکی نے کہا کہ دشمنوں نے ہمیشہ دباؤ، دھمکیوں اور سازشوں کے ذریعے محاذ مقاومت کو کمزور کرنے کی کوشش کی، لیکن تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ ہر دباؤ کے ساتھ یہ محاذ پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر ابھرا۔ یہی وہ شناخت ہے جو سردار سلیمانی جیسے مجاہدین کو جنم دیتی ہے اور ملت کو اقتدار و استقلال کے راستے پر ثابت قدم رکھتی ہے۔

انہوں نے سیرتِ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آخری سانس اور آخری فرد تک استقامت علوی شناخت کی نمایاں خصوصیت ہے، جس کی روشن مثال حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام ہیں۔ یہ راستہ آج بھی جاری ہے، اور شہادت کے باوجود مقاومت کا راستہ نہیں رکتا۔

آیت‌اللہ اراکی نے کہا کہ اگر اس ملت سے علوی شناخت چھین لی جائے تو دشمن کے مقابلے میں کوئی قوت باقی نہیں رہتی۔ انہوں نے آخر میں ملتِ ایران کے لیے راہِ ولایت پر استقامت کی دعا کی۔ اختتام پر مدافعِ حرم شہداء کے والدین کی تجلیل کی گئی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha