پیر 26 جنوری 2026 - 18:16
بچوں کے دینی تربیت کے سنہری اصول

حوزہ/ دینی تربیت حقیقتاً محض گفتار سے شروع نہیں ہوتی، بلکہ والدین کے عملی نمونہ بننے اور دین کو عقل، احساس اور روزمرہ زندگی سے جوڑنے کے ذریعے پروان چڑھتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کوئی بھی نصیحت یا سبق بچے کے ذہن میں اس وقت تک پائیدار نہیں ہوتا، جب تک وہ والدین کے رویّے اور کردار میں مجسم صورت میں نظر نہ آئے۔ ایمان صرف کانوں سے نہیں اترتا، بلکہ آنکھوں اور دل کے راستے دل میں اترتا ہے۔

بچوں کی دینی تربیت کے عمل میں چند بنیادی نکات ایسے ہیں جن پر والدین اور مربّیوں کو خاص توجہ دینی چاہیے، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

دینی و مذہبی تعلیمات کو بچوں کی عمر، ذہنی سطح اور فکری نشوونما کے مطابق پیش کیا جائے۔

دینی مسائل میں بچوں کے سوالات اور شبہات کو سنجیدگی سے واضح کیا جائے اور فرائض و دینی احکامات کی درست وجوہات بیان کی جائیں۔

محض تلقین پر اکتفا کرنے اور دینی احکامات پر اندھی، غیر شعوری اور مشینی عادت ڈالنے سے پرہیز کیا جائے۔

دینی تربیت میں بالخصوص بالواسطہ اور غیر زبانی طریقوں کو اختیار کیا جائے، اور والدین و اساتذہ خود عملی نمونہ بننے پر خاص توجہ دیں۔

بچوں میں سوال کرنے، تحقیق اور جستجو کا جذبہ پیدا کیا جائے اور ان کے سوالات کے جوابات متوازن اور سوچے سمجھے انداز میں دیے جائیں۔

دینی تربیت کو انسانی شخصیت کے تمام پہلوؤں مثلاً جسمانی، فکری، جذباتی اور سماجی پہلوؤں سے جوڑا جائے۔

بچوں پر زبردستی دینی تعلیمات مسلط کرنے سے اجتناب کیا جائے اور انہیں محض ظاہری دباؤ کے ذریعے ’’دین دار بنانے‘‘ کی کوشش نہ کی جائے۔

بچوں میں فطرت اور کائنات کے اسرار پر غور و فکر کی صلاحیت پیدا کی جائے، تاکہ وہ مخلوقاتِ الٰہی میں تدبر کرتے ہوئے خود خالقِ کائنات اور مقصدِ تخلیق پر سوچیں۔

دینی اصولوں اور مثالی شخصیات کا تعارف کرایا جائے، تاہم اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ یہ تعارف بچوں کی عمر، ذہنی، جذباتی اور فکری سطح کے مطابق ہو۔

والدین، تعلیمی اداروں اور میڈیا (خصوصاً ریڈیو اور ٹی وی) کے دینی تربیتی طریقوں میں ہم آہنگی اور یکسانیت ہونی چاہیے۔

آخر میں یہ نکتہ نہایت اہم ہے کہ اگر والدین اور مربّیوں کی باتوں اور عملی رویّوں میں تضاد ہو، تو یہ عدم ہم آہنگی بچوں کی صحیح دینی و مذہبی تربیت میں سنگین رکاوٹ بن جاتی ہے۔

ماخذ:والدین اور بچوں کی دینی تربیت، صفحہ 43

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha