حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قرض اور قرض خواہی کا مسئلہ مالی معاملات میں نہایت اہم ہے اور معاشرے میں بہت سے افراد اس حوالے سے مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ اس ضمن میں ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر مقروض قرض ادا کرنے سے انکار کرے، تو کیا قرض خواہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کے مال سے اپنا حق وصول کر لے؟ اس موضوع پر ایک استفتاء کے جواب میں حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہای کا جواب ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔
سوال: اگر مقروض اپنے قرض کا انکار کر دے یا ادائیگی میں کوتاہی کرے، تو کیا قرض خواہ کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کے مال سے اپنا حق وصول کرے، مثلاً خفیہ طور پر یا کسی اور طریقے سے اپنا حق لے لے؟
جواب: اگر مقروض اپنے قرض کا انکار کرے یا بغیر کسی معقول عذر کے اس کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرے، تو قرض خواہ اس کے مال سے اپنا حق وصول کر سکتا ہے۔ تاہم اگر وہ شخص خود کو مقروض نہیں سمجھتا، یا اسے یہ علم نہیں کہ واقعی قرض خواہ کا اس پر کوئی حق بنتا ہے یا نہیں، تو ایسی صورت میں قرض خواہ کا اس کے مال سے اپنا حق لینا محلِ اشکال ہے بلکہ جائز نہیں۔









آپ کا تبصرہ