حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نائجیریا کی اسلامی تحریک کے سربراہ شیخ ابراہیم زکزاکی نے کہا ہے کہ بانیِ انقلاب اسلامی امام خمینی کی فکر اور مکتب آج بھی زندہ اور مؤثر ہے، اور موجودہ عالمی بحرانوں اور چیلنجوں سے نجات کے لیے دنیا کو دوبارہ امام خمینیؒ کی فکر کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔
انہوں نے یہ بات ابوجا میں اسلامی تحریک کے طلبہ کی انجمن کے زیر اہتمام امام خمینی"کی برسی کے موقع پر منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر شیخ زکزاکی نے بانیِ انقلاب اسلامی کی شخصیت اور افکار کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
شیخ زکزاکی نے امام خمینیؒ کو عصر حاضر کے لیے ایک الٰہی نعمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے امت مسلمہ کی فکری جہت کو تبدیل کیا اور عالمی سطح پر گہرے اور بنیادی انقلابی اثرات مرتب کیے۔
انہوں نے کہا کہ امام خمینیؒ نے "انتظار" کے تصور کو ایک نئی معنویت عطا کی۔ ان کے نزدیک انتظار محض خاموش بیٹھنے اور حالات کے بدلنے کا نام نہیں، بلکہ ایک فعال، باوقار اور عملی جدوجہد ہے جو ظہورِ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے پہلے بھی امت کی ذمہ داری ہے اور ظہور کے بعد بھی۔
رہبرِ تحریک اسلامی نائجیریا نے کہا کہ امام خمینیؒ نے دنیا کے سامنے دین کا حقیقی چہرہ پیش کیا اور یہ ثابت کیا کہ دین آزادی، عزت اور خودمختاری کا ذریعہ ہے، نہ کہ عوام کو دبانے یا بے حس بنانے کا آلہ، جیسا کہ استکباری طاقتیں ماضی میں تاثر دینے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حقیقی قوت عوام کے پاس ہوتی ہے اور امام خمینیؒ نے دنیا کو یہ درس دیا کہ ظالم اور استکباری قوتوں پر حتمی کامیابی ظلم کے خلاف مزاحمت، فتنوں میں استقامت اور خداوند متعال پر کامل توکل کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دشمنانِ اسلام اور عالمی تسلط پسند قوتیں امام خمینیؒ کی فکر کے بڑھتے ہوئے اثرات سے خوفزدہ ہیں۔
شیخ زکزاکی نے زور دے کر کہا کہ امام خمینیؒ آج بھی زندہ ہیں، کیونکہ ان کی فکر، ان کا راستہ اور ان کا مکتب زندہ اور متحرک ہے۔ انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کو کسی نئے راستے کی تلاش نہیں، بلکہ اخلاص کے ساتھ امام خمینیؒ کے ترسیم کردہ راستے پر چلنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ یہی وہ فکر ہے جس پر آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای پوری استقامت کے ساتھ قائم تھے۔ آج کی دنیا اگر بحرانوں سے نجات اور حقیقی فلاح چاہتی ہے تو اسے امام خمینیؒ کی فکر کی طرف واپس آنا ہوگا، کیونکہ یہی فکر اقوام کی نجات اور کامیابی کا واحد راستہ ہے۔









آپ کا تبصرہ