جمعرات 2 جولائی 2026 - 00:01
سید سلمان ندوی حسینی کی حقیقت بیانی انکا طرہ امتیاز: مولانا سید عباس مہدی حسنی

حوزہ/ مولانا سید عباس مہدی نے کہا کہ سید سلمان حسینی ندوی برصغیر کے ان ممتاز علماء میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اہلبیت اطہار (ع) سے محبت کو نہ صرف اپنے دل میں بسایا بلکہ اسے اپنی فکر، تحریر اور خطابات کا محور بنایا۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاد اور متعدد علمی اداروں کے بانی تھے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مولانا سید عباس مہدی نے کہا کہ سید سلمان حسینی ندوی برصغیر کے ان ممتاز علماء میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اہلبیت اطہار (ع) سے محبت کو نہ صرف اپنے دل میں بسایا بلکہ اسے اپنی فکر، تحریر اور خطابات کا محور بنایا۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاد اور متعدد علمی اداروں کے بانی تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مرحوم سلمان ندوی کی شخصیت اہلبیت (ع) سے والہانہ محبت اور ان کے دشمنوں سے کھلی نفرت کی ایک منفرد مثال ہے۔قرآن مجید میں پروردگار عالم کا ارشاد ہے:

"قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ" (سورۃ الشوریٰ، آیت 23)اس آیت کے مطابق، اہلبیت (ع) سے محبت ہر مسلمان پر واجب اور اجرِ رسالت ہے۔ مولانا ندوی نے اپنی پوری زندگی اس اصول کو عملی جامہ پہنانے میں گزار دی۔ وہ اہلبیتِ اطہار (ع) سے گہری محبت و عقیدت رکھتے تھے اور اپنی تقریروں میں اس کا برملا اظہار کرتے رہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ایسے طبقے میں محبت اہلبیت (ع) کی شمع جلائی جہاں ناصبییت اپنے پنجے گاڑ چکی تھی-رسول اللہ کا فرمان ہے:"مَثَلُ أَهْلِ بَيْتِي فِيكُمْ كَمَثَلِ سَفِينَةِ نُوحٍ، مَنْ رَكِبَهَا نَجَا، وَمَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا غَرِقَ" (المستدرک علی الصحیحین، الحاکم) اہلبیت (ع) کو نجات کی کشتی قرار دیتے ہوئے ندوی صاحب نے اسی کو اپنے عمل کا حصہ بنایا-

انہوں نے کہا کہ سلمان ندوی صاحب کا مؤقف صرف محبت تک محدود نہ تھا، بلکہ انہوں نے اہلبیت (ع) کے دشمنوں سے اظہارِ برائت اور نفرت کو اپنے ایمان کا حصہ قرار دیا۔اس سلسلے میں بہت سے تاریخی اور نقلی دلائل(آیتیں و روایتیں) پیش کئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سلمان ندوی نے بے باکی کے ساتھ ان کرداروں پر بات کی جنہوں نے اہلبیت (ع) کے خلاف زیادتی کی۔آپ نے ایران کے اسلامی انقلاب اور آیت اللہ خامنہ ای کی حمایت کو اہلبیت (ع) سے محبت کے عملی مظاہر میں قرار دیا-

مرحوم نے واضح کیا: "آج پوری اسلامی دنیا آیت اللہ خامنہ ای کے پیچھے کھڑی ہے وہ نہ صرف ایران کے رہبر ہیں بلکہ پوری امت کے رہبر ہیں"

مولانا سید عباس مہدی حسنی نے کہا کہ مرحوم ندوی نے صیہونی لابی، اسرائیلی-عیسائی ذہنیت، امریکی سامراج، اور عرب دنیا کے مفسد عناصر کو اہلبیت (ع) اور اسلام کا مشترک دشمن قرار دیا۔مولانا سلمان ندوی صاحب نے بعض صحابہ خصوصاً امیر شام معاویہ کی تاریخی اور روائی دلیلوں کے ساتھ تنقید اور مذمت کی جو انکی حق بیانی اور بےباکی کا ایک پختہ ثبوت ہے-

علمی اور منطقی اصول کے مطابق:

1. اختلاف رائے کسی عالم کی علمی حیثیت کو ختم نہیں کرتا-

2. اہلبیت (ع) سے محبت اور ان کے دشمنوں سے نفرت قرآن و سنت کا تقاضا ہے-

3. مولانا ندوی کی تعلیمی؛ تصنیفی اور تالیفی خدمات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا-

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی تقریروں اور تحریروں میں اہلبیت (ع) کا دفاع ؛ دشمنان اہلبیت کی سرزنش اور فلسطینی مظلوموں کی حمایت ان کے ایمان کا حصہ تھی۔

آپ کا یہ موقف محض جذباتی نہیں بلکہ علمی اور تحقیقی تھا، جس کی جھلک ان کی متعدد کتابوں اور خطبات میں مشاہدہ کی جا سکتی ہے۔

ماحصل؛ سید سلمان ندویؒ ایک بے باک عالم، محبِ اہلبیت (ع) اور دشمنانِ اہلبیت سے اظہارِ نفرت کرنے والے شخص تھے۔ ان کا یہ موقف قرآنی آیتوں، نبوی حدیثوں اور تاریخی حقائق پر مبنی تھا۔

ان کے مخالفین نے اختلاف کیا، مگر علمی اور منطقی اصول یہ ہے کہ: اہلبیت (ع) سے محبت ایمان کی بنیاد اور ان کے دشمنوں سے نفرت ایمان کا تقاضاہے-

سید سلمان ندوی کی زندگی اس بات کی عملی تفسیر ہے کہ ایک اہلسنت عالم کیسے اہلبیت (ع) سے محبت اور ان کے دشمنوں سے نفرت کو اپنے ایمان کا حصہ بنا سکتا ہے یہ راستہ مشکل ضرور ہے مگر قرآن و سنت کی روشنی میں یہی صراطِ مستقیم ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha