حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لاہور/ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے جامع مسجد علی حوزہ علمیہ جامعة المنتظر ماڈل ٹاؤن میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماہ محرم اورصفر عظیم مہینے ہیں جس میں ہم اہل بیت اطہار کا تذکرہ کرتے ہیں ۔امام حسین علیہ السلام نے ایسی عظیم قربانی دی کہ جس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی ۔امام حسین کی اس عظیم قربانی کا مقصد اسلام کی بقا ہے۔ اسی لیے امام حسین کا آخر وقت میں کہاتھا اگر دین محمدی میری شہادت سے بچتا ہے تو اے تیرواور تلوار و آو حسین حاضر ہے۔
انہوں نے کہا اگر مجالس زندگی میں تبدیلی نہ لائیں تو ہم نے فقط رسم ادا کی ہے، عزاداری کا مقصد نہیں سمجھا۔مجالس عزا کو اللہ کی طرف دعوت دینے کا پلیٹ فارم ہونا چاہئے۔ تاکہ لوگ اللہ کے دین سے مربوط ہوں۔ لوگ قرآن اور سیرت اہل بیت ؑ سیکھیں لیکن افسوس ہماری مجالس میں اللہ کا ذکر بہت کم ہو گیا ہے ۔ جہالت کی انتہا ہے کہ ہماری قوم کے کچھ لوگوں نے اللہ کے سارے کام اہل بیت ؑکے حوالے کر دیے ہیں۔ یہ المیہ ہے کہ ہماری قوم صرف سنتی ہے ،سمجھتی نہیں۔ اگر محرم کی مجالس سننے کے بعد ہماری زندگی میں کوئی فرق نہیں آیا تو سب بے فائدہ ہے۔امام حسین کا غم ہمیشہ سے تازہ ہے، مگر آج کے دور میں عزاداری میں وہ چیزیں نہیں رہیں ،جو پرانے وقتوں میں ہوتی تھیں۔ پہلے لوگ محرم الحرام کے ایام میں ہمیشہ غمگین رہتے تھے۔ آج کل عزاداری پروفیشنل ہو چکی ہے، اچھے کھانے بنا کر پیٹ پوجا توکی جاتی ہے۔حقیقی غم ہو تو ان چیزوں کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔
ان کا کہنا تھا کہ اچھا انسان وہی ہے جب اس سے پوچھا جائے کہ تو کون ہے؟ تو کہے میں مسلمان ہوں ۔خود کو اپنے فرقے میں قید نہ کرے۔ان کا کہنا تھا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث مبارکہ’ الحسین منی وانا من الحسین‘ کا مقصد بھی یہی تھا کہ میرا حسین میرا دین بچا کر میرا مددگار ہوگا۔
انہوں نے کہا چودہ صدیوں سے سادات کو مٹانے کی کوششیں کی گئی لیکن آج بھی دنیا کی ہر کونے میں اولاد حسین موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا امام حسین ؑنے دین کو ابدی بنا دیا ۔سات صفر المظفر امام موسی کاظم علیہ السلام کی ولادت باسعادت کا دن ہے لیکن ہم نے اسے منانا چھوڑ دیا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ کیوں ہم اپنی خواہشات کو آئمہ کے دین پر مسلط کر رہے ہیں ۔ہم اپنے رواج کے مطابق کام کریں گے تو یہ دین نہیں ہے۔









آپ کا تبصرہ