ہفتہ 15 اگست 2026 - 15:03
مصنوعی ذہانت (AI) محض ایک آلہ و ذریعہ ہے، قرآن فہمی کو AI کے سپرد نہیں کیا جا سکتا!

حوزہ / حجت الاسلام والمسلمین ابراہیم ابراہیمی نے جدید ٹیکنالوجیز کے بارے میں تزویراتی نگاہ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مصنوعی ذہانت (AI) کو عصر حاضر میں تبدیلی کا باعث بننے والے اہم ترین ذرائع میں سے ایک قرار دیا اور کہا: قرآن کریم کے میدان میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال ایک بامقصد، علمی اور ملک کے قرآنی معاشرے کی حقیقی ضروریات پر مبنی نقطۂ نظر کے ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قرآن و انسانی علوم میں اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے رابطہ مرکز کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین ابراہیم ابراہیمی نے قرآنی اعلیٰ تعلیم و تحقیق کی ترقیاتی کمیٹی کے جدید ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت (AI) کے ورکنگ گروپ کے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: قرآن فہمی کو مصنوعی ذہانت (AI) کے سپرد نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے قرآنی ثقافت کی ترقیاتی کونسل کی جانب سے تفویض کردہ ذمہ داری کی بین الادارہ جاتی نوعیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: قرآنی سرگرمیوں کے میدان میں مصنوعی ذہانت (AI) کا موضوع محض ایک تحقیقی یا ٹیکنالوجی کا منصوبہ نہیں بلکہ ایک قومی اور بین الادارہ جاتی ذمہ داری ہے جس کے لیے ملک کے تمام اداروں، جامعات، تحقیقی مراکز اور قرآنی اداروں کی فعال شرکت ضروری ہے۔

قرآن و انسانی علوم میں اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے رابطہ مرکز کے سربراہ نے کہا: گزشتہ برسوں میں مصنوعی ذہانت (AI) کو زیادہ تر تعلیم و تحقیق کے لیے ایک معاون ذریعہ سمجھا جاتا تھا تاہم آج ہمیں اپنی نگاہ کو وسعت دیتے ہوئے مصنوعی ذہانت (AI) کو قرآنی مطالعات اور سرگرمیوں میں تبدیلی کے اہم محرکات میں سے ایک کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا: تحقیقی، تعلیمی، بین الاقوامی اور قرآنی انسانی علوم کے ورکنگ گروپس کو اس ٹیکنالوجی کے ساتھ تعامل کرتے ہوئے اس کی صلاحیتوں کی درست ترقی اور مؤثر استفادے کے لیے مناسب ماحول فراہم کرنا چاہیے۔

حجت الاسلام والمسلمین ابراہیمی نے ٹیکنالوجی کے ذرائع اور وحیانی متون کی فہم کے عمل کے درمیان حدود کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ہمارا مقصد قرآن کریم کی فہم کو مصنوعی ذہانت (AI) کے سپرد کرنا نہیں ہے۔ قرآن فہمی علم، اجتہاد، تفسیر اور عالمانہ ادراک پر مبنی امر ہے اور مصنوعی ذہانت (AI) اس میدان میں مفسرین، قرآن شناس محققین اور اہل فکر کا متبادل نہیں بن سکتی۔

انہوں نے مزید کہا: ہمارا مقصد اس ٹیکنالوجی کو ایک مؤثر معاون ذریعہ کے طور پر استعمال کرنا ہے تاکہ قرآن کریم کی بہتر تفہیم، قرآنی تحقیقات کی توسیع، علمی منابع تک رسائی میں آسانی اور قرآنی تعلیمات کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد حاصل کی جا سکے۔

قابل ذکر ہے کہ اس اجلاس میں ایران کی مصنوعی ذہانت (AI) انجمن کے سربراہ ڈاکٹر محمد ہادی زاہدی، وزارت علوم، تحقیقات و ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر جنرل برائے تحقیقاتی امور ڈاکٹر صمد نژاد ابراہیمی، قرآنی ترقیاتی مرکز کے نائب حمید باقری، مصنوعی ذہانت (AI) گروپ کی سربراہ زہرا مواعظی اور ورکنگ گروپ کے دیگر ارکان نے شرکت کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha