جمعرات 27 اگست 2026 - 10:46
پاکستانی ترین ایرانی سفارت کار

حوزہ/ڈاکٹر سعید طالبی نیا سابقہ ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران کراچی ایک زیرک دانشمند، نبض شناس دانشور ،نکتہ سنج خطیب، صاحب اخلاق منتظم، حرف و معنی کی ابجدی وادیوں کے مرد آگاہ اور ثقافتی و تہذیبی ورثوں کی لطافتوں اور باریکیوں سے آشنا ایک ایسا کردار ہیں جنہوں نے اپنی چار سالہ علمی و ثقافتی خدمات میں اہلیان کراچی کے دلوں پر اپنی بے لوث خدمت کے ایسے انمٹ نقوش چھوڑے۔

تحریر: سیدہ معصومہ شیرازی

حوزہ نیوز ایجنسی|

ڈاکٹر سعید طالبی نیا سابقہ ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران کراچی ایک زیرک دانشمند، نبض شناس دانشور ،نکتہ سنج خطیب، صاحب اخلاق منتظم، حرف و معنی کی ابجدی وادیوں کے مرد آگاہ اور ثقافتی و تہذیبی ورثوں کی لطافتوں اور باریکیوں سے آشنا ایک ایسا کردار ہیں جنہوں نے اپنی چار سالہ علمی و ثقافتی خدمات میں اہلیان کراچی کے دلوں پر اپنی بے لوث خدمت کے ایسے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں جو کئی عشروں تک یاد رکھے جائیں گے۔
ان کے پیشہ ورانہ دور منصبی میں ایران و پاکستان کے ثقافتی مشترکات کی طاقت کھل کر سامنے آئی اور فنون لطیفہ پر ان کے خاص نظر اور عملی کردار نے تہذیبی و ثقافتی حلقوں میں قبولیت اور انسیت کی ایک ایسی مثالی فضا قائم کر دی کہ اہل فکر و دانش کے دل جمہوری اسلامی ایران کے گرویدہ اور ہم آواز ہو گئے ۔۔
مختلف مواصلاتی ذرائع ابلاغ پر پوڈکاسٹ ،ٹاک شوز اور تہواروں کی مناسبت سے ان کے متاثر کن بیان سماعتوں کو ایران سے خصوصی ثقافتی اور لسانی تعلق کا پیغام دیتے رہے یہاں تک کہ پاکستانی چینلز پر ان کا چہرہ ہر دل عزیز اور پسندیدہ چہروں میں شامل ہو گیا۔ خوبصورت اور دل نشین بیانیے اور علمی دلائل و براہین پر مشتمل ان کی باحکمت گفتگو لوگوں کے دلوں میں گھر کرتی رہی اس کے علاوہ ان کی ادبی و شعری خدمات بے نظیر اور بے مثال رہیں ہزاروں شعراء سے رابطے استوار ہوئے اور انقلابی کلام لکھوا کر کتابی صورتوں میں شائع کیے ۔۔شعراء کو انعامات سے نوازا گیااور رزمیہ کلام پر مشتمل مجموعوں کی باقاعدہ تقریبات رونمائی برپا کی گئیں جس کی وجہ سے کراچی کے ادبی دنیا میں ایک بھرپور تبدیلی دیکھنے کو ملی ساتھ ساتھ ادیب پروری کا سلسلہ جاری رکھا جس کی وجہ سے کراچی جو پاکستان کا دل کہلاتا ہے اس کی ادبی فضاؤں میں خانہ فرہنگ کے ساتھ سخنورانہ رشتہ قائم ہوا اور بلا تفریق فرقہ و مذہب تمام شعراء نے ان انقلابی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیا۔۔مجھ ناچیز کا انقلابی کلام جو ترانوں اور انقلابی نوحوں پر مشتمل تھا خانہ فرنگ کی طرف سے شائع کیا گیا یہ میرے لیے ایک بہت بڑا اعزاز تھا کہ میرے انقلابی کلام کو ایران کی طرف سے خصوصی پذیرائی بخشی گئی
کراچی میں انقلابی فکر کو شعری و تخلیقی مزاج کا حصہ بنانے پر ڈاکٹر طالبی نیا خصوصی مبارکباد کے مستحق ہیں ادبی محفلوں میں ایرانی ادب ایک طاقتور حوالہ بن کر سامنے آیا اور شعراء اپنی عظمت رفتہ کی بازگشت سن کر پھر فارسی شعر و ادب کی طرف متوجہ ہوئے۔ اس کے علاوہ شعراء کی حوصلہ افزائی اور ادب اور ادیب پروری نے ان کی مقبولیت میں ایسا اضافہ کیا کہ آرٹس کونسل اف پاکستان میں عید نوروز پر خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا۔کراچی کی تمام بڑی یونیورسٹیز میں انہیں بطور مہمان سکالر مدعو کیا گیا جہاں انہوں نے اپنے علم و دانش سے نوجوان طلبہ کے دل جیت لیے۔۔غرض جہاں پر گئے داستان چھوڑ ائے۔۔
اگر ڈاکٹر صاحب کو ایسے چار سال اور میسر ہوں تو یقین ہے کہ اہلیان کراچی کے دل ملت ایران کے ساتھ دھڑکیں گے۔۔اور ثقافتی و لسانی روابط کی بنا پر دونوں ملک سماجی اور معاشرتی طور پر ایک دوسرے کے قریب ہو جائیں گے۔
اس کے علاوہ جنگ کے مشکل اور خطرناک دنوں میں ڈاکٹر صاحب کا شہید زندہ جیسا کردار یادگار رہا ۔ تڑپتے مایوس اور ملول دلوں کو انہوں نے ایسے فکری مرہم عطا کیے کہ شیعان اہل بیت کہ دل ٹھنڈے ہوئے۔۔ان کی حرارت انگیز اور انقلابی موجودگی کے سبب تمام مومنین خود کو محاذوں کا سپاہی محسوس کر رہے تھے۔۔ کراچی کے سارے مذہبی منبروں نے ان کی موجودگی کا فائدہ اٹھایا چھوٹے سے چھوٹی اور بڑے سے بڑی تعزیتی اور احتجاجی مجالس میں بطور مہمان خطیب شریک ہوتے رہے اور حق و باطل کے موجودہ عظیم بیانیے کو پوری تفہیم اور تفسیر کے ساتھ پیش کیا گویا اسلحہ کی جنگ ایران میں لڑی جا رہی تھی اور سر پہ کفن باندھے خامنائی رح کا یہ بسیجی سپاہی بیانیہ کے میدان میں اپنے حصے کی جنگ لڑ رہا تھا ۔خیر خواہوں نے احتیاط کے ہزاروں مشورے دیے عمومی محافل میں شرکت سے منع کیامگر یہ کفن پوش سپاہی اپنے حصے کے محاذ پرڈٹ کر کھڑا رہا اور کراچی میں حالیہ عالمی دہشت گرد امریکہ کی عیاری اور ظلم کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیے ۔۔
بغیر پروٹوکول کے اور سیکیورٹی تھریٹ سے بے پرواہ یہ انقلابی مجاہد شہادت کا سرخ رومال ماتھے پہ سجائے پاکستان کی سرزمین پر حق کا پرچم لہرا رہا تھا لفظ لفظ امرت تھا اور قدم قدم انقلاب۔۔اس مرد حر کے بہادرانہ خطابات کی بدولت کراچی کی فضاؤں میں انقلابی روح سرایت کر گئی۔۔
ڈاکٹر طالبی نیا کے کئی جملے تو نوجوانوں کی زبانوں پر شعار بن کر رواں ہو گئے ایک محفل میں روتے ہوئے لوگوں کو مخاطب کر کے کہا ابھی ہم میدان حماسی میں ہیں میدان جنگ میں سپاہی روتا نہیں مقابلہ کرتا ہے اور پوری استقامت سے طاقت کا اظہار کرتا ہے ہاں جنگ میں فتح کے بعد اپنے محبوب رہبر کے لیے آنسو بہائیں گے۔۔یہ لڑنے اور ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا وقت ہے۔۔ یہ صبر ضبط اور حوصلے کا اعلی ترین اظہار تھا یہ الگ بات کے مشکل ترین دو ماہ کے جہاد تبیین اور عظیم رہبر کے ناقابل تلافی غم نے ان کی ریش کو بالکل سفید کر دیا اور اس کا اظہار اہلیان کراچی کی طرف سے انتہائی افسوس کے ساتھ کیا جاتا رہا۔۔۔ پاکستان اور ایران کے بھرپور لسانی، علمی، فکری اور ثقافتی روابط کے فروغ کے لیے ایسی مضبوط جاندار اور پراثر شخصیات کا ہونا شدید ضروری ہے۔۔۔
ایرانی حکومتی حلقوں سے خصوصی اپیل ہے کہ ڈاکٹر سعید طالبی نیا اگر چار سال اور سرزمین پاکستان پر ثقافتی و تہذیبی روابط کے سرپرست بنائے جائیں تو محبت ہم آہنگی اور ہم فکری کا ایک عظیم انقلاب برپا ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے قبل کلچرل سینٹر صرف چند مدارس کے طلبہ اور کچھ علماء کی نشست و برخاست کا ادارہ سمجھا جاتا تھا جبکہ اج ڈاکٹر صاحب کی شبانہ روز محنتوں سے یہ سینٹر ثقافت، تہذیب، شعر و سخن اور علمی و فکری جہتوں کا گہوارہ بن چکا ہے اور سارا کراچی اس تہذیبی اور لسانی رشتے کی طرف متوجہ ہو رہا ہے اداکار ،شاعر ،مصور اور دیگر فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی خانہ فرہنگ میں موجودگی ایک خوش آئند مستقبل کی نوید ہے ہماری گزارش ہے اس شخصیت کو جو اہل پاکستان کے انتہائی قریب ہو کر اس قوم کی نفسیات جان چکے ہیں انہیں مزید خدمات کا موقع دیا جائے اہلیان کراچی انتہائی ممنون و مشکور ہو کر اس مردِخود آگاہ کا استقبال کریں گے۔۔
کراچی کے مختلف حلقوں کی طرف سے کئی الودائی تقریبات منعقد کی گئی ایک الوداعی تقریب میں جو ارٹس کونسل آف پاکستان کے ایک ذیلی احاطے ،،سکاؤٹ آڈیٹوریم،، میں منعقد کی گئی ناچیز نے ان کی بے مثال خدمات کے حوالے سے کلام پیش کیا جو آپ کی ذوق سلیم کی نظر ہے۔۔۔
ڈاکٹر سعید طالبی نیا کی مذہبی اور ثقافتی خدمات پر منظوم خراجِ حقیقت ✨✨

رسمِ شہرِ یاراں ہے ۔۔
کوچہ تخیل میں
رشتہ محبت کے
رنگ کم نہیں پڑتے
نقش مٹ نہیں سکتے ۔۔۔۔!!
بندہِ سخن پرور !
دل کی بارگاہوں میں
تیرا ذکر لازم ہے
تم نے شہر یاراں کے
کوچہ ثقافت میں
شوق کے علم گاڑے ۔۔۔۔
پر یقین لہجے میں
مہرباں تبسم سے
حق کی آبیاری کی
تم نے ظلمت شب میں
اشتر زمانہ کی
جانکاہ جدائی پر
خون روتی انکھوں کو
ضبط کے ہنر بخشے
صبر کے سخن بانٹے
حق شعار لہجے کے
زیرو بم سے سمجھائے
درس استقامت کے!!
رمز خودشناسی کے !!
آگہی کے رستوں پر
سرفروش ذہنوں کے
نطق کی گواہی دی ۔۔۔۔
ابجدی سفینوں پر
انقلابِ تازہ کے سرخ باد باں کھولے
یہ بھی اک حقیقت ہے
بزم حق شناساں میں
تیری خوش کلامی کے
نقش مٹ نہیں سکتے ۔۔۔۔!!
شعر کی لطافت سے رزم کی حرارت تک
وقت کے محاذوں سے
مقتل شہیداں تک
تم رہے سرِ منبر !!
مثل میثم و قنبر!!
ہم وفا پرستوں میں ریت یہ پرانی ہے۔۔۔
سچ کے پاسداروں کا
حق کے استعاروں کا

بولتے ستاروں کا
انتظار کرتے ہیں۔۔۔
الوداع نہیں کہتے۔۔۔۔۔۔۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha