جمعہ 28 اگست 2026 - 16:05
امامین انقلاب کے افکار میں وحدت اسلامی کے تقاضے

حوزہ / موجودہ حساس دور میں پہلے سے کہیں زیادہ اس امر پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ امامین انقلاب اسلامی کے افکار میں امت اسلامی کی وحدت اور اتحاد کو برقرار رکھنے اور اسے مضبوط بنانے کے اہم اصول اور تقاضے کیا ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، وحدت اسلامی اور یکجہتی کو مضبوط اور مستحکم کرنا اسلامی معاشرے کی بزرگ شخصیات بالخصوص امامین انقلاب اسلامی کی اہم ترین خواہشات اور ترجیحات میں شامل رہا ہے اور یہ موضوع جمہوریہ اسلامی ایران کے مقدس اسلامی نظام کے قیام سے بھی کئی سال قبل زیر بحث رہا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ باہمی اتحاد اور وحدت موجودہ دور میں امت مسلمہ کا سب سے اہم مسئلہ ہے کیونکہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اسلام کے سائے اور اسلامی تعلیمات کی برکت سے مسلمانوں کے درمیان وحدت کے اخلاقی اور سماجی پہلو اور عوامل مزید گہرے اور مستحکم ہوتے ہیں اور اسی طرح دشمنوں کی بہت سی فتنہ انگیزیوں اور سازشوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔

امام خمینی (رہ) کی نگاہ میں اسلامی اتحاد اور اخوت کی اہمیت

خمینی کبیر(رہ)، انقلاب اسلامی کے معمار اور عالم اسلام بلکہ پوری انسانیت میں عظیم تبدیلی کے بانی نے اسلامی اتحاد اور اخوت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اپنی گفتگو میں اس اہم نکتے کی طرف توجہ دلائی کہ اگر ماضی میں امت مسلمہ کو ایسی عظمت حاصل تھی کہ انتہائی مختصر مدت میں اسلام کا نور یورپی ممالک اور بعض دیگر مغربی ممالک تک بھی پہنچ گیا تو اس کی بنیادی وجہ وحدت اسلامی اور مسلمانوں کا اتحاد تھا۔

اگر آج مسلمان مغرب اور مشرق کی استعماریت کا شکار ہیں اور عالمی استکبار نے ان پر اپنے تسلط کا منحوس سایہ پھیلا رکھا ہے اور ان سے ہر قسم کی آزادی اور قومی و مذہبی حاکمیت سلب کر لی ہے تو اس کی وجہ اس عظیم امت کے درمیان اختلاف اور انتشار اور ان کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان ہے۔

دنیا کے مسلمانوں میں انفرادی اور اجتماعی بیداری پیدا کرنے، حقیقی اسلام کے نفاذ کے لیے عالمگیر سطح پر وحدت قائم کرنے اور اس کے نتیجے میں مسلمانوں کی عزت و کرامت کی واپسی کے لیے جدوجہد حضرت امام خمینی (رہ) کے اہم اور نمایاں اقدامات اور پالیسیوں میں شامل تھی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ حضرت امام خمینی (رہ) وحدت کو ایک حکمت عملی کے طور پر تسلیم کرتے تھے۔ وہ ملک کے تحفظ کے لیے قومی وحدت پر زور دینے کے ساتھ ساتھ اسلامی اتحاد اور انسجام کے تحفظ اور استحکام کے خواہاں تھے تاکہ اس سے بلند تر مرحلے میں دنیا بھر کے مستضعفین کے درمیان اتحاد کو برقرار اور وسیع کرتے ہوئے طاغوتوں کے مکمل خاتمے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں نظر آتا ہے کہ وہ وحدت کو مسلمانوں کی بقا کی ضمانت قرار دیتے تھے۔

خمینی کبیر (رہ) کے نزدیک عالم اسلام کی وحدت اور اتحاد ایک عظیم آرزو تھی۔ وہ ہمیشہ وحدت پر زور دیتے اور فرماتے تھے: ’’ان شاء اللہ ایک دن تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی بن جائیں گے اور تمام اسلامی ممالک سے فساد کی جڑیں اکھاڑ دی جائیں گی اور اسرائیل کی یہ فاسد جڑ مسجد الاقصیٰ اور ہمارے اسلامی ملک سے اکھاڑ دی جائے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ہم سب مل کر جائیں گے اور قدس میں نمازِ وحدت ادا کریں گے۔‘‘

رہبرِ شہید (رہ) کی نظر میں اسلامی اتحاد

اسلامی اتحاد اور انسجام کی امام اور ہمارے رہبرِ شہید (رہ) کی نظر میں غیر معمولی اہمیت ہے۔ انہوں نے رہبری و قیادت کی اہم ذمہ داری سنبھالنے کے ابتدائی دنوں ہی سے متعدد مواقع پر اس مسئلہ کی طرف توجہ دلائی اور ہمیشہ اس حوالے سے موجود ممکنہ خطرات اور نقصانات سے آگاہ کیا۔

رہبرِ شہید انقلاب اسلامی (رہ) نے اپنی ایک تقریر میں فرمایا: ’’وحدت کے مسئلے میں دو بنیادی نکات یا دو بنیادی سمتیں ہیں اور ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ اہم ہے۔ جب ہم وحدت کا نعرہ لگاتے ہیں تو ان دونوں بنیادی نکات کو ہماری توجہ کا مرکز ہونا چاہیے اور یہی نکات مسلمانوں کی عملی زندگی کے لیے کارآمد ہیں۔ ان میں سے ایک نکتہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے مختلف گروہوں اور فرقوں کے درمیان صدیوں سے موجود اختلافات، تنازعات، کشمکش، تضادات اور رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔ یہ اختلافات ہمیشہ مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئے ہیں۔ اگر ہم تاریخ اسلام کی طرف رجوع کریں تو دیکھیں گے کہ ان میں سے تمام یا بیشتر اختلافات اور تنازعات کی ابتدا مادی طاقت کے مراکز سے ہوئی۔‘‘

انہوں نے مزید تأکید کرتے ہوئے فرمایا: ’’یہ وحدت اسلام کی حاکمیت کی خدمت اور اسی سمت میں ہونی چاہیے ورنہ یہ بے معنی اور بے مقصد ہوگی۔ اگر علمائے اسلام اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن کریم فرماتا ہے: ’وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا لِیُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ‘ (نساء: 64)، نبی صرف اس لیے نہیں آئے تھے کہ کوئی نصیحت کریں، کوئی بات کہیں اور لوگ اپنا کام کرتے رہیں اور ان کا احترام بھی کر دیں؛ بلکہ وہ اس لیے آئے تھے کہ ان کی اطاعت کی جائے، معاشرے اور زندگی کی رہنمائی کریں، نظام تشکیل دیں اور انسانوں کو صحیح زندگی کے مقاصد کی جانب لے کر جائیں۔

اگر علمائے اسلام اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن کریم فرماتا ہے: ’لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْکِتَابَ وَالْمِیزَانَ لِیَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ‘ (حدید: 25)، یعنی عدل و انصاف قائم کرنا، ظلم کا خاتمہ اور انسانوں کے لیے صحیح زندگی فراہم کرنا ادیان کا مقصد ہے تو پھر ہماری حرکت بھی اسلام کی حاکمیت کی جانب ہونی چاہیے اور ممالک اور اسلامی معاشروں میں اسلام کی حاکمیت کا قیام ایک ممکن امر ہے۔‘‘

رہبرِ شہید (رہ) کے نزدیک موجودہ دور میں اسلامی معاشروں کو درپیش سنگین نقصانات میں سے ایک مذہبی اختلافات ہیں۔ دشمن کی کوشش یہی ہے کہ وہ مسلمانوں کو متحد اور متفق نہ ہونے دینے اور انہیں ایک دوسرے کے خلاف کام کرنے پر مجبور کرنے کے لیے بھی بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔ یہ کوششیں خاص طور پر اب اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی ہیں جب مسلمانوں کو وحدت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha