حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جب دشمن مسلمانوں کے درمیان اختلاف کو عالمِ اسلام کو نقصان پہنچانے کا ایک موقع سمجھتا ہے تو مسلمانوں کو کسی مشترک نقطے پر جمع کرنے والی ہر نشست محض ایک تقریب سے بڑھ کر اہمیت رکھتی ہے۔
صوبۂ خراسان رضوی کے شہرستان تایباد کے علاقے سمنگان سے تعلق رکھنے والے اہل سنت عالمِ دین مولوی علیرضا یعقوبی کی نظر میں، ”امت احمد“ وحدت کو زندہ رکھنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے؛ ایسی وحدت جس کی جڑیں قرآن اور وحیِ الٰہی میں ہیں اور جس کی آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔
مولوی علیرضا یعقوبی نے جشنِ امتِ احمدؐ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ زمانے کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے رسولِ اکرم (ص) کی ذاتِ گرامی جیسے عظیم محورِ وحدت کو بنیاد بنا کر نشستیں، جشن اور کانفرنسیں منعقد کرے، تاکہ امتِ اسلام کے درمیان اتحاد و وحدت کو زندہ رکھا جائے اور وحدت کی راہ کو نقصان پہنچنے یا تفرقہ پھیلانے والے دشمنوں کے ہاتھوں میں جانے سے روکا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلمانوں کے درمیان اس طرح کے جشن اور نشستوں کا انعقاد ایک ضرورت ہے اور ہمیں اس کو اہمیت دینی چاہیے۔
رسولِ اکرم (ص)؛ شیعہ اور اہلِ سنت کے درمیان مشترک محور
اہل سنت عالمِ دین نے رسولِ اکرم (ص) کو عالمِ اسلام کی وحدت کے اہم ترین محوروں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ رسولِ اکرم (ص) عالمِ اسلام میں وحدت کی بنیاد، محور اور مرکز ہیں۔ شیعہ اور سنی، دونوں اسلامی مکاتبِ فکر کے پاس رسولِ اکرم (ص) اور آپؐ کے اہلِ بیتؑ کی موجودگی کی صورت میں اتحاد کے لیے بہترین مشترک وسیلہ موجود ہے۔
مولوی یعقوبی نے آیتِ کریمہ ﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ﴾ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ قرآن کتابُ اللہ سے مضبوطی سے وابستہ ہونے کو اتحاد کا ذریعہ قرار دیتا ہے، اور اسی اعتصام کے دائرے میں دیگر دینی شعائر اور مقدسات، بالخصوص رسولِ اکرم (ص) کی ذاتِ گرامی بھی شامل ہیں، جو وحدت کا محور بن سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اہلِ سنت اور شیعہ کے درمیان سب سے اہم مشترکات میں سے ایک یہ ہے کہ دونوں کا نبی ایک ہے، اور یہی مشترک نبی عالمِ اسلام کے اتحاد کا محور بن سکتا ہے۔
وحدت؛ وحی کی بھی بنیاد ہے اور عقل کی بھی
مولوی یعقوبی نے مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی دشمنوں کی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وحدت کو ایک دینی اور عقلی ضرورت قرار دیا اور کہا کہ اسلامی اور توحیدی معاشرے میں وحدت کی بنیاد نہ صرف وحیِ الٰہی پر ہے بلکہ یہ ایک عقلی امر بھی ہے۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی نظامِ معاشرت اور امتِ اسلامی کے درمیان وحدت درحقیقت نظامِ تکوین و تشریع میں وحدت اور حاکمیتِ اللہ کے تسلسل کی حیثیت رکھتی ہے۔ امتِ اسلامی اپنی زندگی اور معاشرت میں وحدت، باہمی ہم آہنگی اور اتحاد کی مضبوط بنیاد رکھتی ہے۔
سنی عالمِ دین نے خبردار کیا کہ اگر یہ وحدت اور باہمی یکجہتی دشمنوں کے تفرقہ انگیز نعروں سے متاثر ہو جائے اور دشمن مسلمانوں کے درمیان دراڑ اور اختلاف پیدا کرنے سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہو جائے، تو اسلام کی وہ مضبوط عمارت جو وحدت، اتحاد اور یکجہتی کی بنیاد پر قائم ہے، کمزور پڑ جائے گی اور مسلمان بہت سے مسائل اور مشکلات سے دوچار ہو جائیں گے۔
علمائے شیعہ و سنی؛ امتِ واحدہ کے علمبردار
مولوی یعقوبی نے شیعہ اور اہلِ سنت کے علماء اور ائمۂ جمعہ کے کردار کو وحدت کے بیانیے کو مضبوط بنانے میں اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج اہلِ سنت اور شیعہ علماء، بالخصوص ائمۂ جمعہ کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ مشترکہ دشمن کے مقابلے میں امتِ واحدہ کو مضبوط کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دینی آیات و روایات اور اسلام کی جانب سے مسلمانوں کو دی گئی تعلیمات کی بنیاد پر اتحاد اور یکجہتی کا مقدس نعرہ امتِ اسلام کو دشمن کے مقابلے میں ایک مضبوط اور ناقابلِ شکست دیوار کی طرح متحد رکھ سکتا ہے۔
غیرتِ دینی؛ مسلمانوں کا مشترک نقطۂ اتحاد
سنی عالمِ دین نے مسلمانوں کا اپنے دینی مقدسات کے بارے میں غیرت اور حساسیت کو شیعہ اور اہلِ سنت کے درمیان ایک مشترک اور مؤثر خصوصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی معاشرے میں، خواہ وہ شیعہ ہو یا اہلِ سنت، ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ مسلمان اپنے دینی شعائر کے بارے میں غیرت رکھتے ہیں اور کبھی یہ اجازت نہیں دیتے کہ کوئی قرآن، رسولِ اکرم، کعبہ یا دیگر دینی مقدسات کی توہین کرے۔
مولوی یعقوبی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اہلِ سنت اور شیعہ مسلمانوں کی یہی دینی غیرت و حمیت اس بات کی بہترین علامت ہے کہ تمام مسلمان دین اور اسلام کے مقاصد و آرمانوں کے دفاع کے لیے متحد ہیں اور آخری دم تک اسلام اور دین کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
اگر رسولِ اکرم (ص) آج ہمارے درمیان ہوتے...
مولوی علیرضا یعقوبی نے اس سوال کے جواب میں کہ اگر رسولِ اکرم (ص) آج امتِ اسلامی کے درمیان موجود ہوتے تو مسلمانوں سے کیا مطالبہ فرماتے؟ کہا کہ اگر رسولِ اکرم (ص) آج امت کے درمیان موجود ہوتے تو یقیناً امت کو یہ نصیحت فرماتے کہ استکبار کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑے ہو جاؤ اور نظامِ استکبار کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دو۔
انہوں نے مزید کہا کہ بالخصوص اسرائیلِ خبیث اور مجرم کے مقابلے میں، اگر رسولِ اکرم (ص) آج امت کے درمیان موجود ہوتے تو یقیناً امت کے لیے سب سے پہلی ذمہ داری یہ قرار دیتے کہ دنیا کے ظالم، زور آور اور غنڈہ گرد عناصر کے مقابلے میں ثابت قدمی سے کھڑے ہوں۔
امتِ احمدؐ؛ دشمن کے لیے ایک پیغام
مولوی یعقوبی نے آخر میں امتِ احمدؐ کو محض ایک جشن یا تقریب سے کہیں بڑھ کر قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج امتِ احمدؐ کا دشمن کے لیے سب سے اہم پیغام مسلمانوں کا اتحاد، وحدت، باہمی یکجہتی اور ہم دلی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ دشمن جس چیز سے سب سے زیادہ خوفزدہ ہے، وہ مسلمانوں کا یہی اتحاد، وحدت، باہمی یکجہتی اور ہم دلی ہے۔ لہٰذا ان مبارک ایامِ ماہِ ربیع الاول میں منعقد ہونے والی ان نشستوں، تقریبات اور جشنوں کا پیغام عالمِ اسلام کی وحدت ہے، اور فطری طور پر دشمن اسی وحدت سے خوفزدہ ہے۔









آپ کا تبصرہ