جمعہ 28 اگست 2026 - 19:33
مسلمانوں کے لئے چیلنجز سے نکلنے کا راستہ صرف اتحاد ہے: آیت اللہ سعیدی

حوزہ/ امام جمعہ قم المقدسہ نے مسلمانوں کے درمیان اتحاد کو دشمنوں کی سازشوں کا مقابلہ کرنے اور مشکلات سے نکلنے کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکام بازار میں نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے قابلِ عمل اقدامات کریں اور ایسے بیانات سے گریز کریں جن سے عوام میں بے چینی پیدا ہو۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ سید محمد سعیدی نے قم المقدسہ کی نماز جمعہ کے خطبوں میں ہفتۂ وحدت کی مناسبت سے کہا کہ اسلام کی ابتدائی پیش رفت اتحاد اور باہمی یکجہتی کی بنیاد پر ہوئی۔ انہوں نے اوس و خزرج کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب دونوں قبائل نے باہمی اختلافات کے نقصانات کو محسوس کیا تو اسلام کی طرف آئے اور اس کے ذریعے نجات حاصل کی۔

انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کا آپس کا اختلاف ان کی طاقت اور عالمی اثر و رسوخ کو کم کرتا ہے اور دشمنوں کو مداخلت کا موقع فراہم کرتا ہے۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ مسلمان متحد رہے تو بڑی کامیابیاں حاصل کیں، لیکن جب ان کے درمیان اختلاف پیدا ہوا تو دشمنوں نے اس کا فائدہ اٹھایا۔ اس لیے موجودہ چیلنجز سے نکلنے کا اہم راستہ اتحاد کو برقرار رکھنا ہے۔

آیت اللہ سعیدی نے ایرانی عوام کی موجودگی کو ملک کی طاقت کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام نے ملک کی آزادی، خودمختاری، ارضی سالمیت اور اسلامی نظام کے دفاع میں ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا ہے۔ حالیہ جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں بھی عوام کی موجودگی نے ملک کے استحکام اور طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

امام جمعہ قم نے حکام پر زور دیا کہ وہ عوام سے گفتگو کرتے وقت کمزوری اور مایوسی کے بجائے ملک کی صلاحیتوں اور کامیابیوں کو اجاگر کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مشکلات اور کمیاں ضرور ہیں، لیکن حکام کو ان مسائل کے ساتھ ساتھ ان کے حل کے لیے ہونے والی کوششوں اور موجود امکانات کو بھی عوام کے سامنے رکھنا چاہیے۔

انہوں نے بازار کی صورت حال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکام بازار میں نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے واضح اور قابلِ عمل منصوبہ بنائیں۔ ایسے مسائل کا اعلان نہیں ہونا چاہیے جن سے عوام میں بے چینی اور اضطراب پیدا ہو۔ عوام کو یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ بازار کو بے لگام چھوڑ دیا گیا ہے، کیونکہ اس سے ان کے حوصلے متاثر ہوتے ہیں۔

آیت اللہ سعیدی نے دشمن کی جانب سے ثقافتی اور میڈیا ذرائع کے ذریعے معاشرے کو متاثر کرنے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوامی بیداری اور میڈیا سے متعلق شعور میں اضافہ اس جنگ کا مقابلہ کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر تصویر، ویڈیو اور خبر نفسیاتی جنگ کا حصہ ہو سکتی ہے، اس لیے جعلی خبروں اور گمراہ کن بیانیوں کو پہچاننا ضروری ہے۔ موجودہ دور میں ہر شہری کو ذمہ داری کے ساتھ میڈیا کا استعمال کرنا چاہیے، کیونکہ شناختی جنگ میں بیداری، بصیرت اور قومی یکجہتی انتہائی اہم ہیں۔

اپنے پہلے خطبے میں آیت اللہ سعیدی نے سورۂ فتح کی آیت 28 کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی گواہی انسان کو ظاہری حالات سے متاثر ہوکر جلد بازی میں فیصلہ کرنے کے بجائے اللہ کی تدبیر پر اعتماد کا درس دیتی ہے۔ انہوں نے واقعۂ حدیبیہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر مشکل حالات بھی حق کی شکست کی علامت نہیں ہوتے، کیونکہ دینِ حق کی سربلندی کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے خود کیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha