حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیخ نعیم قاسم نے اسلامی وحدت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات ایسے داخلی محاذ نہ کھول دیں جس کے نتیجے میں امت اپنے اصل دشمن کو بھول جائے۔
انہوں نے کہا کہ شہید رہبر انقلاب آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے جس عملی وحدت کے اصول پر عمل کیا، اس نے مسئلہ فلسطین کو دوبارہ زندہ کیا۔ فلسطین کی حمایت خون، اسلحہ، مالی تعاون، دشمن کے مقابلے اور اسرائیل و واشنگٹن کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے ذریعے ہوئی، جو حقیقی وحدت کی علامت ہے۔
حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ لبنان میں حزب اللہ، تحریک امل اور اسرائیل کو مسترد کرنے والی تمام سیاسی قوتوں کے درمیان اتحاد اسی حقیقی وحدت کی ایک مثال ہے۔
انہوں نے امریکہ کو اقوام اور ملتوں کا دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن خطے میں اسلامی منصوبے کی بنیادوں اور عوام کے حقوق کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔
شیخ نعیم قاسم نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل ایرانی عوام کے اتحاد اور استقامت کے باعث اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف تین جنگوں میں شکست سے دوچار ہوئے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ دشمن کے سامنے کسی بھی قسم کی پسپائی تباہی کا سبب بن سکتی ہے، کیونکہ دشمن بے رحمی کے ساتھ دنیا پر اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے۔ ان کے بقول، استقامت خواہ اس کی کتنی ہی قیمت کیوں نہ ادا کرنا پڑے، دشمن کی پیش قدمی کو روکتی اور مسلمانوں کو اپنا مقام دوبارہ حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل چاہے کتنی ہی کارروائیاں کریں، پابندیاں کتنی ہی سخت ہوں یا فوجی جارحیت کتنی ہی شدید ہو، مزاحمت دشمن کے منصوبے کو ناکام بنا سکتی ہے۔
شیخ نعیم قاسم نے آخر میں کہا کہ عظیم قربانیاں اور جان فشانیاں، اتحاد کے ساتھ مل کر، دشمنوں کے منصوبوں کو شکست دینے کا فطری راستہ ہیں۔









آپ کا تبصرہ