حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجتمع علماء و خطباء ممبئی کی جانب سے ماہانہ اجلاس 2 ستمبر، بروز بدھ، مسجد ایرانیان ممبئی میں منعقد ہوا، جس میں ممبئی اور اطراف کے مختلف علاقوں سے علمائے کرام اور خطباء نے شرکت کی۔
اجلاس کا آغاز مولانا حسن حمزہ نے تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا۔ اس کے بعد مولانا سید ابوالقاسم رضوی کی والدۂ مرحومہ اور مرحوم مولانا سعادت حسین نقوی کے ایصالِ ثواب کے لیے شرکائے اجلاس نے فاتحہ خوانی کی۔
اس موقع پر ہفتۂ وحدت کی مناسبت سے علمائے کرام نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وحدت صرف ایک ہفتے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک قرآنی اصل ہے، جس پر پورے سال اور پوری زندگی عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

علماء نے اس بات پر زور دیا کہ آج وحدت کے مثبت اثرات برادرانِ اہل سنت کے جلوسوں اور بعض متعصب افراد کے رویوں میں آنے والی تبدیلی کی صورت میں بھی نظر آ رہے ہیں۔
اجلاس میں حضرت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امام جعفر صادق علیہ السلام کی سیرت و تعلیمات کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ اگر ہر محراب و منبر سے سیرتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیان کیا جائے تو معاشرے کی بہت سی سماجی، اخلاقی اور اجتماعی بیماریاں ختم کی جا سکتی ہیں۔
کرلا ممبئی کے امامِ جمعہ نے کہا کہ اس وقت شرپسند عناصر باطل کی تبلیغات کو فروغ دینے کے لیے سرگرم ہیں، اس لیے علمائے کرام کی ذمہ داری ہے کہ اتحاد و اتفاق کے ساتھ عوام کو بصیرت کے ساتھ دعوتِ الی اللہ دیں اور انہیں دشمن کی سازشوں سے آگاہ کریں۔

اجلاس میں سیدِ مقاومت شہید سید حسن نصراللہ رضوان اللہ علیہ کی برسی کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔ علماء نے کہا کہ 27 ستمبر کو سید حسن نصراللہ کی برسی کے موقع پر زیادہ سے زیادہ مجالسِ عزا منعقد کی جائیں اور عوام کو ان کی دینی، ملی اور مزاحمتی خدمات سے آگاہ کیا جائے۔
اعلان کیا گیا کہ ان شاء اللہ مجتمع علماء و خطباء ممبئی کا اگلا ماہانہ اجلاس 23 ستمبر کو منعقد ہوگا۔
اجلاس کے اختتام پر تمام مومنین کے لیے دعائے خیر کی گئی۔ صدرِ مجتمع نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قوم کی بیداری کے لیے جدوجہد جاری رکھنا ضروری ہے۔ خصوصاً نوجوان نسل کو انقلاب کے افکار سے روشناس کرانا اور انہیں اس کے ثمرات سے مستفید ہونے کے لیے آمادہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اجلاس میں شریک علمائے کرام:
1. مولانا سید عزیز حیدر زیدی
2. مولانا کلب جعفر خان
3. مولانا کرار خان غدیری
4. مولانا محمد یوسف
5. مولانا سید سرور حسین
6. مولانا فیروز علی
7. مولانا محمد فیاض باقر
8. مولانا نظر عباس
9. مولانا سید غلام عسکری
10. مولانا حسن حمزہ
11. مولانا سید محمد حسین نقوی
12. مولانا وصی احمد میثم
13. مولانا سید ذوالفقار حیدر کربلائی
14. مولانا سید عابد رضا رضوی
15. مولانا سید رضی امام
16. مولانا اطہر
17. مولانا حسن عباس









آپ کا تبصرہ