حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے ہندوستان پہنچنے پر نئی دہلی میں مختلف مذاہب کے مذہبی رہنماؤں، دانشوروں اور سماجی شخصیات نے ان سے ملاقات کی اور ہندوستان و ایران کے درمیان صدیوں پرانے ثقافتی، تہذیبی اور روحانی تعلقات پر گفتگو کی۔
یہ خصوصی نشست نئی دہلی کے اوبیرائے ہوٹل میں منعقد ہوئی، جس کی میزبانی ہندوستان میں ایران کے سفیر ڈاکٹر محمد فتح علی نے کی۔ اس موقع پر مختلف مذہبی رہنماؤں اور دانشوروں نے دونوں ملکوں کے تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیا۔
ایک سکھ مذہبی رہنما نے ہندوستان اور ایران کے تاریخی روابط کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات جدید سفارتی دور سے کہیں زیادہ پرانے ہیں۔ انہوں نے ہندوستان میں فارسی زبان اور ایرانی ثقافت کے گہرے اثرات کا بھی ذکر کیا اور گرو نانک دیو جی کے ایران کے سفر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان تاریخی روحانی تعلقات کو اجاگر کیا۔
نشست میں لکھنؤ کے معروف شیعہ عالم دین حجۃالاسلام مولانا سید کلب جواد نقوی اور آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا یعسوب عباس سمیت مختلف مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔ مولانا یعسوب عباس نے ایرانی صدر سے الگ ملاقات بھی کی اور ہندوستان و ایران کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔
کشمیر کے میر واعظ عمر فاروق، آغا سید حسن الموسوی الصفوی اور عمران رضا انصاری بھی اس پروگرام میں شریک ہوئے۔
ایرانی صدر ڈاکٹر پزشکیان نے ہندوستان کے ساتھ تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے پرامن بقائے باہمی اور آزادی کی پالیسی پر ایران کے یقین کا اظہار کیا۔
اس موقع پر ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عباس عراقچی سمیت ایرانی وفد کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ نشست میں دونوں ملکوں کے درمیان فارسی زبان، ادب، ثقافت، روحانی روایات اور تجارت کے ذریعے قائم دیرینہ تعلقات کو مزید آگے بڑھانے پر زور دیا گیا۔









آپ کا تبصرہ