حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ دو افراد تھے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی تمام اولاد کا بلڈ گروپ ایک ہی ہونا چاہیے۔ بلڈ گروپ دراصل والدین سے ملنے والے جینز کے مختلف امتزاج سے طے ہوتا ہے۔
سادہ جواب
ہر انسان اپنے والدین سے بلڈ گروپ خود نہیں لیتا، بلکہ وہ اس سے متعلق جینز حاصل کرتا ہے۔ والد اور والدہ دونوں ایسے مختلف جینز اپنے بچے کو منتقل کر سکتے ہیں جو آگے چل کر مختلف امتزاج بناتے ہیں۔
اسی طرح نسل در نسل جینز کے مختلف امتزاج سے بلڈ گروپ میں بھی فرق پیدا ہو سکتا ہے۔ اس لیے چار مختلف بلڈ گروپ کے وجود کے لیے یہ ضروری نہیں کہ ابتدا میں چار ایسے انسان موجود ہوں جن کے بلڈ گروپ الگ الگ ہوں۔
سائنسی وضاحت
سائنس کے مطابق مشہور ABO نظام میں بلڈ گروپ کا تعلق ایک خاص جین سے ہے، جس کی تین بنیادی شکلیں یا اقسام ہیں، جنہیں A، B اور O کہا جاتا ہے۔ عام طور پر ہر انسان کو ان میں سے ایک جین والد سے اور ایک والدہ سے ملتا ہے۔
ان دونوں جینز کے امتزاج سے بلڈ گروپ طے ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر A اور A یا A اور O کے امتزاج سے بلڈ گروپ A بن سکتا ہے، جبکہ B اور B یا B اور O سے بلڈ گروپ B بنتا ہے۔ A اور B کا امتزاج بلڈ گروپ AB بناتا ہے، جبکہ O بلڈ گروپ کے لیے دونوں جین O ہونے ضروری ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ کسی شخص کا بلڈ گروپ A ہو سکتا ہے، لیکن اس کے جینز A اور O ہوں۔ ایسی صورت میں وہ اپنے بچے کو O والا جین منتقل کر سکتا ہے۔ یہی معاملہ بلڈ گروپ B کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔
اس طرح نسلوں کے دوران جینز کے مختلف امتزاج سے بلڈ گروپ میں تنوع پیدا ہو سکتا ہے۔ حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ کے جینیاتی امتزاج کے بارے میں ہمارے پاس کوئی تفصیلی سائنسی معلومات موجود نہیں ہیں، اس لیے یہ طے نہیں کیا جا سکتا کہ ان کے جینز کی اصل ساخت کیا تھی۔
لہٰذا صرف A، B، AB اور O چار بلڈ گروپ کا پایا جانا، جینیاتی اعتبار سے انسانی نسل کے حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ سے آغاز کے خلاف کوئی دلیل نہیں ہے۔









آپ کا تبصرہ