جمعرات 17 ستمبر 2026 - 04:23
نئی نسل کی دنیا اور ان کی ضروریات کو سمجھے بغیر نوجوانوں کی تربیت ممکن نہیں

حوزہ / حجت الاسلام والمسلمین رمضانی نے کہا: اسکول مستقبل کی نسل کی تربیت کا ایک اہم ترین میدان ہے۔ طلبہ معلمین کو نوجوانوں کی نفسیات اور مزاج کو سمجھتے ہوئے درست تربیتی طریقوں سے استفادہ کرنا چاہیے تاکہ طلبہ کی فکری، اخلاقی اور دینی نشوونما کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ سیستان و بلوچستان کے مدیر حجت الاسلام والمسلمین رمضانی نے زابل شہر میں محکمہ تعلیم سے وابستہ طلاب معلمین کے اجتماع سے خطاب کے دوران نوجوان نسل کی تربیت کے میدان میں طلبہ کے کردار کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا: ہمارا سرمایہ یہی عوام ہیں؛ یہی نوجوان اور بچے ہیں جو آج معاشرے میں موجود ہیں اور ممکن ہے مسجد، امام بارگاہ، اسکول، یونیورسٹی یا مختلف سماجی ماحول میں ہم سے رابطے میں ہوں۔

انہوں نے کہا: کبھی ہم خطیب کی حیثیت سے، کبھی مبلغ کی حیثیت سے اور کبھی معلم کے طور پر ان قیمتی سرمایۂ انسانی سے رابطے میں ہوتے ہیں۔ یہ ایک عظیم الٰہی موقع ہے جس کی ہمیں قدر کرنی چاہیے۔

حجت الاسلام والمسلمین رمضانی نے معلمی کے مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کے اختیار میں ایک خصوصی سرمایہ دیا ہے اور وہ طالب علم ہے۔ طالب علم محض ایسا فرد نہیں جس نے درسی مطالب سیکھنے ہیں بلکہ وہ ایک انسانی اور تربیتی سرمایہ ہے جس کی شخصیت سازی، نشوونما اور معاشرے کے مستقبل کے لیے تیاری ضروری ہے۔

نئی نسل کی دنیا اور ان کی ضروریات کو سمجھے بغیر نوجوانوں کی تربیت ممکن نہیں

انہوں نے مزید کہا: آپ حضرات دو اعتبار سے ذمہ داری رکھتے ہیں؛ ایک طرف آپ طلبہ ہیں اور آپ کو دینی معارف، قرآن، اہل بیت علیہم السلام اور حوزوی علوم کا عظیم سرمایہ عطا کیا گیا ہے اور دوسری طرف آپ محکمہ تعلیم میں معلم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کے اختیار میں اس سے بھی زیادہ اہم سرمایہ یعنی مستقبل کی نسل کی تربیت کو دیا ہے۔

مدیر حوزہ علمیہ سیستان و بلوچستان نے کہا: جب ایک طالب علم مسجد میں داخل ہوکر عوام سے خطاب کرتا ہے تو اس کا سامنا ایسے افراد سے ہوتا ہے جو اپنے خاندانی اور تربیتی پس منظر کے مطابق پہلے ہی شخصیت سازی کے مختلف مراحل طے کر چکے ہوتے ہیں لیکن آپ اسکول میں ایسے نوجوان سے روبرو ہوتے ہیں جس کی شخصیت، افکار، اعتقادات اور شناخت ابھی تشکیل کے مراحل میں ہیں۔ یہی امر آپ کی ذمہ داری اور کام کی اہمیت کو دوبرابر کر دیتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha