۶ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۶ شوال ۱۴۴۵ | Apr 25, 2024
تصاویر/ بازدید امام جمعه ملبورن از رسانه رسمی حوزه

حوزہ/ امام جمعہ ملبرن آسٹریلیا نے حوزہ نیوز ایجنسی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا: اس وقت حوزہ نیوز ایجنسی کی جانب سے فارسی، عربی، اردو، انگریزی، ہندی اور بنگالی زبان میں نیوز کے سلسلے میں جو کام ہورہا ہے، وہ واقعی قابل تحسین ہے، لہذا ضرورت ہے کہ ہم اس میڈیا کو سنیں، پڑھیں اور اس کی پذیرائی کریں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام جمعہ میلبرن آسٹریلیا و صدر شیعہ علماء کونسل حجۃ الاسلام و المسلمين مولانا سيد ابو القاسم رضوی نے اپنے ایران کے سفر کے دوران حوزہ نیوز ایجنسی کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران میڈیا اور اس کی اہمیت اور دور حاضر میں ایک عالم دین کا میڈیا کے ساتھ جڑے رہنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امام صادق علیہ السلام کا قول: اَلعالِمُ بِزَمانِهِ لا تَهجُمُ عَلَیهِ اللَّوابِسُ؛ نقل کیا اور کہا: یہ کلام جو میرے مولا کا ہے وہ کسی ایک عہد اور ایک زمانے کے لیے نہیں ہے، جب ہم میڈیا کی بات کرتے ہیں تو میڈیا کی یلغار اور میڈیا کا خلفشار کی باتیں ہوتی ہیں لیکن خبروں کا نہ پہنچنا یہ بھی مصیبت ہے، خبروں کا سیلاب اس سے بڑی مصیبت ہے، جو بے خبر ہو گا وہ مارا جائے گا وہ خس و خاشاک کی طرح بہہ جائے گا کیونکہ وقت ابن الوقت لوگوں کا بھی نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا: جو وقت کے ساتھ چلنا نہیں جانتے، وقت ان کا انتظار نہیں کرتا، انگریزی زبان کا محاورہ ہے کہ اگر تم وقت کو فراموش کر دو گے تو وقت بھی تمہیں فراموش کردے گا (If you forget time, time will forget you)، انسانی تاریخ میں آگہی کا اور بیداری کا زمانہ تو ہے لیکن خبر وں کو اتنا قریب کر دیا جاتا ہے کہ سچ اور جھوٹ، حق اور باطل کا سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے، آج بھی وقت کا ایک علیؑ موجود ہے( پروردگارا امام زمانہ کے ظہور میں تعجیل فرمائے اور ہمیں ان کے ناصرین میں شمار فرمائے) لیکن پردہ غیبت میں ہیں اور ظاہر نہیں ہیں، لیکن حاضر ہیں۔

امام جمعہ ملبرن نے مزید کہا: آج دنیا میں اسلام کی شبیہ بگاڑی جا رہی ہے، اسلام کوبدنام کیا جا رہا ہے، مسلمان کہیں خود کو مسلمان کہتے ہوئے شرم محسوس کر رہا ہے اور صرف خود کا دفاع کر رہا ہے، اور اگر کبھی خود کو مسلمان معرفی کرتا بھی ہے تو کہتا ہے کہ ہم وہ والے مسلمان نہیں ہیں، ہمارے ایک دوست یوگنڈا سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان بھائی ہیں9/11 کے واقعے کے بعد انہوں نے ایک کتاب بھی لکھی ’اچھا مسلمان اور برا مسلمان‘ ( good Muslim and bad muslim)۔

صدر شیعہ علماء کونسل نے کہا: کسی مسلمان نے اگر اپنی بیوی کا قتل کردیا تو خبر بنتی ہے کہ ایک مسلمان نے اپنی بیوی کا قتل کردیا، کسی اسکول کی انتظامیہ اگر مسلمان ہے تو کہتے ہیں کہ مسلم اسکول میں کرپشن ہوگیا،لیکن اگر یہی واقعہ کسی دوسرے اسکول میں پیش آتا ہے تو فرد بدنام ہوتا اور قوم و ملت بد نام نہیں ہوتی،ایسے حالات میں بھی کیا ہم سوتے رہیں گے؟ یہ مصلحت کی چادر اوڑھ کے سونے کا زمانہ نہیں ہے، کیا سارا تقوی اسی چیز کے اندر ہے کہ ہم اپنے آپ کو کمرے میں مقید کر لیں؟ جہاد کی مختلف قسمیں ہیں ایک قسم جہاد کی یہ بھی ہے کہ آپ جھوٹ کو سچ سے الگ کیجیے۔

انہوں نے ایک اہم نکتے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس بات کا خیال رہے کہ جو مسجد کا عالم ہے وہ محراب کا بھی عالم ہے، کیونکہ محراب جگہ ہی ہے حرب کی، اسی لئے امام صادق علیہ السلام کہتے ہیں کہ جو زمانے کے حالات سے باخبر ہوگا وہ شبہات کا شکار نہیں ہوگا، آج کل نیوز کے اوپر ایک لباس چڑھا دیا جاتا ہے اور نیوز کو بدل دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے حوزہ نیوز ایجنسی کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا: اس وقت حوزہ نیوز ایجنسی کی جانب سے فارسی، عربی، اردو، انگریزی، ہندی اور بنگالی زبان میں نیوز کے سلسلے میں جو کام ہورہا ہے، وہ واقعی قابل تحسین ہے، خدا تمام اراکین حوزہ نیوز ایجنسی کی توفیقات میں اضافہ فرمائے، ہمیں ہمیشہ سے یہ شکایت تھی کہ ہمارے پاس کوئی میڈیا نہیں ہے، اب جب کہ ہمارے پاس میڈیا موجود ہے تو ضرورت ہے کہ ہم اس میڈیا کو سنیں اور پڑھیں اور ان کی پذیرائی کی جائے ، اس نیوز کو پڑھنے والے افراد میں اضافہ ہونا چاہیے، یہ ہمارے لئے بہترین پلیٹ فارم ہے ، مولائے کائناتؑ کی ولایت کا مقصد بھی یہی تھا کہ صرف علیؑ ولی ہے علیؑ کے سوا کوئی ولی نہیں ہے۔

حجہ الاسلام مولانا سید ابو القاسم رضوری نے مزید کہا: اس وقت جو حق و باطل کا معاملہ ہے وہ چاہے مغربی ممالک میں ہو جہاں میڈیا اسلام کے خلاف چیخ رہا ہوتا ہے، اگر ہم باخبر ہوں گے تو کم از کم اپنے آپ کو پریزنٹ کر سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے ہمیں آگاہ ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ گونگا کبھی حق کے لئے لیے آواز بلند نہیں کر سکتا اور اندھا کبھی راستہ نہیں دکھا سکتا، اور جس کے پاؤں کٹے ہوئے ہوں وہ متحرک ہو کر میدان میں چل نہیں سکتا، اور جس کے بازو کٹے ہوئے ہوں وہ حق کے لئے اپنے ہاتھوں کو بلند نہیں کر سکتا، تو آئیے اپنے تمام اعضاء و جوارح کو متحرک کریں متحد ہوں، اور جو برادران حوزہ نیوز ایجنسی میں مختلف زبانوں میں خدمت کر رہے ہیں ان کا ساتھ دیں، اس سلسلے میں عوام کی ذمہ داری بعد میں ہے اور خواص یعنی علماء اور طلباء کی ذمہ داری پہلے ہے، اسی طرح جو افراد منبر و محراب میں ہیں ان کی ذمہ داری پہلے ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .