ہفتہ 3 اکتوبر 2026 - 20:33
میرواعظِ کشمیر کا خود احتسابی، حقوق العباد اور سماجی ذمہ داری پر زور

حوزہ/ میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے تاریخی جامع مسجد سرینگر میں خطابِ جمعہ کے دوران موت کی حقیقت، آخرت میں جواب دہی اور خود احتسابی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انسان کو اپنی زندگی، کردار اور دوسروں کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، میرواعظِ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے کہا کہ موت کی یاد انسان کو خوف اور مایوسی میں مبتلا کرنے کے بجائے عاجزی، اصلاحِ نفس اور احساسِ ذمہ داری پیدا کرنے کا ذریعہ بننی چاہیے۔

انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے اعمال اور رویوں کا محاسبہ کریں اور اگر کسی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہو تو اس کی تلافی کریں۔ انہوں نے کہا کہ اہلِ خانہ اور دیگر افراد کے حقوق ادا کرنا، دلوں کو نفرت، حسد اور کدورت سے پاک رکھنا اور غیر ضروری تنازعات سے دور رہنا ایک ذمہ دار انسان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

میرواعظِ کشمیر نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی مادہ پرستی اور کمزور ہوتے سماجی رشتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں انسان دنیاوی مصروفیات اور مفادات میں اس قدر الجھ گیا ہے کہ رشتے، ہمدردی اور دوسروں کی فکر پسِ پشت چلی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مال، منصب اور سماجی حیثیت عارضی ہیں، جبکہ انسان کا کردار، اس کا طرزِ عمل اور دوسروں کے ساتھ اس کا برتاؤ دیرپا اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ خاندانی اختلافات کو ختم کرنے کی کوشش کریں، والدین اور رشتہ داروں کے ساتھ تعلقات مضبوط بنائیں اور غریبوں و ضرورت مندوں کی مدد کریں۔

میرواعظ نے مزید کہا کہ جن لوگوں کے حقوق متاثر ہوئے ہوں، ان سے معافی مانگنے اور ان کے حقوق کی تلافی میں پہل کرنی چاہیے۔ جب افراد خود احتسابی کو اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں اور ہر عمل کے ساتھ وابستہ ذمہ داری اور آخرت میں جواب دہی کو پیش نظر رکھتے ہیں تو معاشرہ زیادہ پُرامن، صحت مند اور باہمی ہمدردی پر مبنی بن سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha