جمعہ 18 ستمبر 2026 - 17:47
جامع مسجد سرینگر میں ایران سمیت جنگ زدہ علاقوں میں امن کے لیے خصوصی دعائیں

حوزہ/ جموں و کشمیر کی تاریخی جامع مسجد سرینگر میں ایران، فلسطین، لبنان، یمن اور دنیا کے دیگر جنگ و تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں امن و امان اور بے گناہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جموں و کشمیر کی تاریخی جامع مسجد سرینگر میں ایران، فلسطین، لبنان، یمن اور دنیا کے دیگر جنگ و تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں امن و امان اور بے گناہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے عوام سے متحدہ مجلسِ علماء جموں و کشمیر کی جانب سے شروع کی گئی سماجی اصلاحی مہمات میں بھرپور تعاون اور فعال شرکت کی اپیل کی۔

انہوں نے حالیہ علماء کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مختلف علاقوں اور مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء نے منشیات، نوجوانوں میں خودکشی، ذہنی و جذباتی دباؤ، سوشل میڈیا کے غلط استعمال، خاندانی رشتوں کی کمزوری، ماحولیاتی مسائل اور معاشرتی ہم آہنگی جیسے اہم مسائل پر غور کیا۔

میرواعظ نے کہا کہ صرف کانفرنسوں اور قراردادوں سے معاشرے میں تبدیلی نہیں آ سکتی، بلکہ عوام کو بھی اصلاحی کوششوں کا حصہ بننا ہوگا۔ ان اقدامات کا مقصد مساجد، خاندانوں، محلوں اور برادریوں کی سطح پر معاشرتی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے قرآن کریم کی آیت ’’إِنَّ اللّهَ لاَ یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى یُغَیِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی اصلاح کا آغاز انسان کو اپنے آپ سے کرنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ علماء، والدین، نوجوان، مساجد، مدارس اور معاشرے کے تمام طبقات کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ اس سلسلے میں مساجد، خانقاہوں، امام بارگاہوں اور آستانوں میں جمعہ کے خطبات کے دوران مشترکہ سماجی مسائل کو موضوع بنایا جائے گا۔

میرواعظِ کشمیر نے منبر کو ایک امانت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے لوگوں کی رہنمائی، دلوں کو جوڑنے، باہمی احترام کو فروغ دینے اور معاشرے کے حقیقی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے اجتماع کو ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقاتوں سے بھی آگاہ کیا اور ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کشمیر اور ایران کے تاریخی، ثقافتی اور دینی تعلقات پر روشنی ڈالی۔

میرواعظ نے بتایا کہ ایرانی قیادت نے کشمیر کا دورہ کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور انہوں نے انہیں کشمیر آنے کی دعوت دی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha