جمعرات 8 اکتوبر 2026 - 14:14
یمن کا محاصرہ ختم کیا جائے، پاکستان اور ترکیہ جنگ کا حصہ نہ بنیں: عبدالواحد ابو راس

حوزہ/ یمن کی صنعاء حکومت کے قائم مقام وزیر خارجہ عبدالواحد ابو راس نے سعودی عرب سے یمن کے خلاف پابندیاں اور محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمنی عوام اپنے بنیادی انسانی، قومی اور قانونی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور ملک کی خودمختاری و آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایک خصوصی انٹرویو میں عبدالواحد ابو راس نے یمن کی موجودہ صورت حال، سعودی عرب کے ساتھ کشیدگی، فلسطین، اسرائیل و امریکا کے ساتھ محاذ آرائی اور پاکستان و ترکیہ کے ممکنہ کردار سمیت مختلف علاقائی امور پر یمن کا مؤقف بیان کیا۔

انہوں نے کہا کہ یمنی عوام گزشتہ کئی برس سے جنگ، بمباری اور محاصرے کا سامنا کر رہے ہیں۔ صنعاء ہوائی اڈے، بندرگاہوں اور زمینی راستوں پر عائد پابندیوں کے باعث عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق یمن کا بنیادی مطالبہ محاصرہ ختم کرنا اور عوام کو معمول کی زندگی کی طرف واپس آنے کا موقع دینا ہے۔

یمنی عہدیدار نے کہا کہ ماضی میں یمن اور سعودی عرب کے درمیان ایک روڈ میپ پر اتفاق ہوا تھا، تاہم سعودی حکومت اس پر مکمل عمل نہیں کیا اور حالات دوبارہ کشیدگی کی طرف چلے گئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یمن کا محاصرہ جاری رکھا گیا تو یمنی فریق بھی سعودی عرب کے خلاف اپنے اقدامات کو اسی تناظر میں دیکھے گا۔

عبدالواحد ابو راس نے یمن پر مکہ مکرمہ یا دیگر مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یمنی عوام ہمیشہ حرمین شریفین اور قرآن کریم کے احترام پر زور دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے مقامات مقدسہ کے انتظام و انصرام میں اسلامی ممالک کی مشترکہ ذمہ داری اور تعاون کی تجویز بھی پیش کی۔

انہوں نے فلسطین اور غزہ کی حمایت کو یمن کی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یمن نے فلسطینی عوام کی حمایت میں اسرائیل کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔

امریکہ کے ساتھ کشیدگی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یمن کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں اپنے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکیں اور بعد ازاں واشنگٹن نے عمان کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطے کیے۔

پاکستان اور ترکیہ سے جنگ سے دور رہنے کی اپیل

عبدالواحد ابو راس نے پاکستان اور ترکیہ سے اپیل کی کہ وہ یمن کے خلاف کسی فوجی محاذ کا حصہ نہ بنیں اور خطے میں کشیدگی بڑھانے سے گریز کریں۔ انہوں نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یمنی عوام پاکستانی عوام کے ساتھ احترام اور محبت کے جذبات رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور یمن کے درمیان عسکری محاذ کا حصہ بننے کے بجائے ایران اور عمان کے ساتھ مل کر سفارتی اور ثالثی کی کوششوں میں کردار ادا کرے تو یمن اس کا خیر مقدم کرے گا۔

انہوں نے صنعاء میں قائم انتظامیہ کو یمنی عوام کی بڑی تعداد کی نمائندہ حکومت قرار دیتے ہوئے ریاض میں موجود یمنی حکومت کی نمائندگی پر سوال اٹھایا۔ تاہم یمن میں سیاسی اقتدار اور نمائندگی کا معاملہ بدستور متنازع ہے اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت اور صنعاء میں قائم حوثی انتظامیہ کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔

یمنی عہدیدار نے خبردار کیا کہ اگر سعودی عرب یا کوئی دوسری غیرملکی قوت یمن میں زمینی فوجی کارروائی کرتی ہے تو یمنی عوام اور مسلح افواج اپنی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے مزاحمت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ یمن جنگ کا خواہاں نہیں بلکہ باہمی احترام کی بنیاد پر تمام ممالک کے ساتھ تعلقات چاہتا ہے۔ ان کے مطابق بحران کا حل فوجی کارروائی کے بجائے محاصرہ ختم کرنے، روڈ میپ پر عمل درآمد اور یمنی فریقوں کے درمیان سیاسی مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha